پوپ لیو چہاردہم کی مسیحیوں کو نفرت کے جواب میں محبت سے جواب دینے کی تلقین


مورخہ 21جون 2026کو سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پوپ لیو چہاردہم نے مسیحیوں کو یاد دلایا کہ حقیقی بشارت کسی حکمتِ عملی یا تکنیک سے نہیں بلکہ مسیح کے ساتھ ذاتی ملاقات، دْعا، خاموشی اور غور و فکر سے جنم لیتی ہے۔مقدس متی کی انجیل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یسوع مسیح اپنے شاگردوں سے فرماتے ہیں کہ جو کچھ میں تمہیں اندھیرے میں کہتا ہوں، اُسے روشنی میں بیان کرو اور جو کچھ تم کان میں سنتے ہو، اُسے چھتوں پر چڑھ کر سناؤ۔پوپ لیو نے کہا کہ انجیل کا پیغام اسی وقت مؤثر اور قابلِ اعتماد انداز میں دوسروں تک پہنچایا جا سکتا ہے جب انسان پہلے خود اسے اپنی زندگی میں تجربہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ یسوع ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انجیل کی منادی سب سے پہلے اُن کے ساتھ ایک ذاتی اور منفرد ملاقات کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا نام ہے۔
پوپ لیو نے وضاحت کی کہ مسیحی گواہی کی طاقت محض طریقوں یا وسائل پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ روح القدس کے عمل اور خدا کے فضل کے لیے انسان کے مخلصانہ جواب پر قائم ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر رسولی خدمت کی اصل قوت، تمام تکنیکوں اور ذرائع سے بڑھ کر، ہمارے اندر روح القدس کے کام اور خدا کے فضل کے لیے ہماری سچی وفاداری سے آتی ہے۔
پوپ لیو نے اس تصور کو رد کیا کہ دھیان و گیان اور روحانی غور وفکر صرف مقدسین، راہبوں یا گوشہ نشین افراد کے لیے مخصوص ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ غور و فکر ایک ایسا تجربہ ہے جو صرف چند مقدس لوگوں یا راہبوں اور تارک الدنیا افراد کے لیے مخصوص ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ ہر مسیحی کو روزمرہ مصروفیات کے درمیان خاموشی کے چند لمحات نکالنے چاہییں تاکہ وہ خدا کی آواز سن سکے، اپنی خوشیاں اور پریشانیاں اُس کے سپرد کر سکے اور اپنی زندگی کا جائزہ اُس کی حضوری میں لے سکے۔پوپ لیو کے مطابق ایسے لمحات ایمان کو مضبوط اور شعوری بناتے ہیں اور مومنین کو ایسے آزاد اور معتبر شاگرد بناتے ہیں جو ہر حالت میں انجیل کی روشنی کو منعکس کر سکیں۔پوپ لیو نے یاد دلایا کہ مقدس متی کی انجیل اُن ابتدائی مسیحی جماعتوں کے لیے لکھی گئی تھی جو دشمنی اور ظلم و ستم کا سامنا کر رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اُس دور کے مسیحیوں کو بھی وہی چیلنجز درپیش تھے جو آج دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے بہت سے مسیحیوں کو پیش ہیں۔ ایسے حالات میں مایوسی، خوف اور تھکن کے سامنے ہار مان لینے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
تاہم، پوپ لیونے کہا کہ آج بھی چیلنج وہی ہے: یسوع کی تعلیمات پر قائم رہنا اور اُن کے کلام کی منادی کرنا؛ نفرت کا جواب محبت سے دینا، غرور کا جواب فروتنی سے دینا اور مایوسی کا مقابلہ ثابت قدمی سے کرنا۔پوپ لیو چہاردہم نے مسیحیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے ایمان اور مشن کی جڑیں خداوند کے ساتھ گہرے اور قریبی تعلق میں مضبوط کریں۔
پوپ لیو نے اختتام پر کہا کہ آج کی دنیا کو مسیح کے اُس پیغام کی اشد ضرورت ہے جو ‘‘اْمید، محبت اور امن’’ پر مبنی ہے۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail