پاپائے اعظم لیو چہاردہم کی وینزویلا کے زلزلہ متاثرین کے لیے عالمی دْعا کی اپیل

مورخہ 28جون 2026کواینجلس کی دْعا کے بعد پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے ہسپانوی زبان میں خطاب کرتے ہوئے وینزویلا کے مومنین کے ساتھ اپنی گہری یکجہتی کا اظہار کیا، جہاں اس ہفتے مختصر وقفے میں دو طاقتور زلزلوں نے تباہی مچا دی۔پوپ لیو نے تمام مومنین سے اپیل کی کہ وہ متاثرین، اْن کے اہلِ خانہ اور امدادی کارروائیوں میں مصروف کارکنوں کے لیے دْعا کریں۔
انہوں نے کہا کہ میں حالیہ زلزلوں سے متاثر ہونے والے وینزویلا کے بہن بھائیوں کے ساتھ اپنی قربت اور یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔ ان زلزلوں کے نتیجے میں بے شمار افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ بڑے پیمانے پر مالی و مادی نقصان بھی ہوا ہے۔ ہم خداوند سے دْعا کرتے ہیں کہ وہ مرحومین کو ابدی آرام عطا فرمائے، اْن کے خاندانوں، زخمیوں اور اس سانحہ کے متاثرین کو تسلی دے نیزساتھ ہی میں اْن تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اْن کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں جو دلجمعی اور محنت کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
 غیر معمولی کانسسٹری (Extraordinary Consistory) کے اختتام پر بھی پوپ لیو نے بتایا کہ پورا ”کالج آف کارڈینلز“ وینزویلا کے عوام کے غم میں برابر کا شریک ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم متاثرین، اْن کے اہلِ خانہ اور اس سانحہ سے متاثر ہونے والے تمام لوگوں کے لیے دْعا کرتے ہیں، اور دْعا گو ہیں کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس عزیز ملک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں کوئی کمی نہ آئے۔ریاست لا گوائیرا (La Guaira)، جو سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، وہاں امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے مسلسل دن رات کام کر رہی ہیں۔ہفتہ تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 1,500 ہو گئی، جبکہ تقریباً 70,000 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔بدھ کے روز اس خطے میں پہلے 7.2 شدت اور اس کے فوراً بعد 7.5 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا، جس نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی۔
پوپ لیو چہاردہم نے متاثرین اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے فوری طور پر 100,000 یورو کی ابتدائی مالی امداد فراہم کی۔یہ امداد پاپائی خیراتی دفتر (Apostolic Almoner's Office)کے ذریعے بھیجی گئی اور اس کی تقسیم وینزویلا میں پاپائی سفیر (Apostolic Nuncio) آرچ بشپ البرٹو اورٹیگا مارٹن اور کاراکاس کے آرچ بشپ راؤل بیورڈ کاستییو کے تعاون سے کی گئی۔
ملک بھر میں کیتھولک برادریوں اور خیراتی اداروں نے فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ متعدد پیرش عمارتوں کو بے گھر خاندانوں کے لیے عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا، جبکہ مقامی کاریتاس نیٹ ورکس کے ذریعے ہنگامی امداد، خوراک اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔