ہمارا چیلنج یہ جاننا ہے کہ کیا سچ ہے۔فادر کلارنس دیواداس
فادر کلارنس دیواداس نے ایشیا بھر میں رابطے اور ابلاغ کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا، جو دنیا کے سب سے زیادہ لسانی اور ثقافتی تنوع رکھنے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والا سب سے بڑا چیلنج سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہے، یہ بات ایشیائی بشپس کی کانفرنسوں کی فیڈریشن (FABC) کے ایسوسی ایٹ سیکریٹری جنرل اور دفتر برائے سینوڈیلٹی کے ایگزیکٹو سیکریٹری فادر کلار نس دیواداس نے FABC کی 12ویں پلینری اسمبلی کی اختتامی پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
26 جولائی کو انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں ہماری خاتونِ عروج (Our Lady of the Assumption) کے کیتھیڈرل کے کاہن مرکز میں گفتگو کرتے ہوئے فادر دیواداس نے کہا کہ کلیسیا کو مصنوعی ذہانت کو ایک مفید ذریعہ سمجھتے ہوئے اسے قبول کرنا چاہیے، تاہم اس کے استعمال میں تمیز، فہم و فراست اور انجیل کی تعلیمات کو ہمیشہ بنیادی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔
اختتامی پریس کانفرنس اس وقت منعقد ہوئی جب وفود نے جکارتہ کے فرینڈشپ ٹنل سے گزر کر قریبی استقلال مسجد تک علامتی زیارت مکمل کی۔ پریس کانفرنس میں FABC کے نائب صدر کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ اور انڈونیشیا کی کیتھولک بشپس کانفرنس کے صدر بشپ انتونیئس سوبیانتو بنجامن نے بھی شرکت کی۔
کلیسیا میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے فادر دیواداس نے واضح کیا کہ کلیسیا تکنیکی ترقی کی مخالف نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:”مصنوعی ذہانت ایک ذریعہ ہے۔“انہوں نے مزید کہا کہ اس کی اخلاقی قدر کا انحصار مکمل طور پر اس بات پر ہے کہ انسان اسے کس مقصد اور کس انداز میں استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کوویڈ-19 وبا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ٹیکنالوجی نے کلیسیا کے مشن کی خدمت کی۔ اس دور میں آن لائن براہِ راست نشر ہونے والی پاک ماس کی تقریبات نے عمر رسیدہ کیتھولک افراد، بیمار لوگوں اور ان افراد کو جو ذاتی طور پر کلیسیا میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے، عبادت اور اپنے ایمانی برادریوں سے جڑے رہنے کا موقع فراہم کیا۔
فادر دیواداس نے ایشیا بھر میں رابطے اور ابلاغ کو مضبوط بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کو بھی اْجاگر کیا۔ ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں لسانی اور ثقافتی تنوع سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کلیسیا کی دستاویزات کو ایشیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے براعظم بھر کی مقامی کلیسیاؤں کے لیے روحانی اور سرکاری تعلیمات تک رسائی مزید آسان ہو سکتی ہے۔تاہم ان فوائد کے باوجود انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا چیلنج محض معلومات کو سنبھالنا نہیں ہے۔
فادر دیواداس نے کہا:”آج ہمارا مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ یہ جاننے کی صلاحیت ہے کہ کیا سچ ہے۔“انہوں نے زور دیا کہ ایسے دور میں جب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے معلومات اور غلط معلومات لمحوں میں تیار اور پھیلائی جا سکتی ہیں، صحیح اور غلط میں تمیز کرنا ایک نہایت اہم مسیحی خوبی بن چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والی ہر چیز کو بلا سوچے سمجھے قبول کرنے کے بجائے کیتھولک افراد کو یہ جانچنا چاہیے کہ آیا معلومات درست، تعمیری اور انسانی وقار کا احترام کرنے والی ہیں یا نہیں۔
فادر دیواداس کے خیالات کارڈینل ڈیوڈ کے بیان سے بھی ہم آہنگ تھے، جنہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو خطرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جسے اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کیا جائے۔ان دونوں رہنماؤں کے خیالات نے FABC اسمبلی کے وسیع تر پیغام میں ایک اہم پہلو کو نمایاں کیا: ایشیا کی کلیسیا کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، لیکن اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ یہ ٹیکنالوجیز انجیل کی اقدار، انسانی وقار اور سنڈِی طریق کاریعنی سننے، مکالمے اور مشترکہ فہم و تمیزسے جڑی رہیں۔فادر دیواداس کے نزدیک مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف تکنیکی جدت کا معاملہ نہیں بلکہ ایسے انسانوں کی تربیت کا بھی تقاضا کرتا ہے جو دانشمندانہ اور اخلاقی فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔جیسے جیسے مصنوعی ذہانت روزمرہ زندگی کا بڑھتا ہوا حصہ بنتی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ کلیسیا کی ذمہ داری صرف نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانا نہیں بلکہ لوگوں کو سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے، انسانی وقار کے فروغ اور ٹیکنالوجی کو مشترکہ بھلائی کی خدمت میں استعمال کرنے کے قابل بنانا بھی ہے۔
