مصنوعی ذہانت کے معاملے میں دنیا کو اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 2جون 2026کوامریکی ٹیکنالوجی ماہر، مصنف اور سماجی کاروباری شخصیت Eli Pariser نے پوپ لیو چہاردہم کی پہلی دستاویزMagnifica Humanitasپر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بارے میں دنیا کو آج شدید طور پر اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے۔ویٹیکن نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے، انسائیکلیکل کی اشاعت کے چند دن بعد پارائزر نے کہا کہ اس وقت جو لوگ AI کی قیادت کر رہے ہیں، وہ ٹیکنالوجی کی دوڑ اور اس سے وابستہ مالی مفادات میں اس قدر مصروف ہیں کہ وہ گہرے اخلاقی اور روحانی سوالات پر کافی توجہ نہیں دے رہے۔پارائزر ایک دہائی سے زائد عرصے سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فوائد اور خطرات پر تحقیق اور گفتگو کرتے رہے ہیں۔ 2011 میں انہوں نے ”فلٹر ببلز“ (Filter Bubbles) کی اصطلاح متعارف کرائی، جس کے ذریعے انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اعدادوشماراور ذاتی نوعیت کی تلاشیں لوگوں کو محدود معلوماتی دائرے میں قید کر سکتی ہیں۔
آج وہ New Public کے شریک ڈائریکٹر ہیں، جو صحت مند اور مثبت ڈیجیٹل عوامی مقامات کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ 21 مئی کو انہوں نے ویٹیکن کے دفتر برائے ابلاغ (Dicastery for Communication) کی جانب سے منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کی، جس کا موضوع مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی آوازوں اور چہروں کا تحفظ تھا۔
پارائزر نے پوپ لیو اور ویٹیکن کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
”میں پوپ لیو اور ویٹیکن کا شکر گزار ہوں کہ وہ اس گفتگو کی قیادت کر رہے ہیں اور لوگوں کو یاد دلا رہے ہیں کہ آخرکار یہ معاملہ انسانی وقار اور انسانی فلاح و بہبود کا ہے، نہ کہ صرف ٹیکنالوجی کا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہایہ بنیادی طور پر انسانیت (Anthropology) کا مسئلہ ہے، ٹیکنالوجی کا نہیں۔پارائزر کے مطابق Magnifica humanitas بالکل صحیح وقت پر سامنے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب لوگ سمجھنے لگے ہیں کہمصنوعی ذہانت صرف ایک عارضی رجحان یا مبالغہ آرائی نہیں، بلکہ ایک حقیقی اور اہم حقیقت ہے جو ہماری زندگیوں پر گہرا اثر ڈالنے والی ہے۔
ان کے مطابق انسائیکلیکل نہ صرف ٹیکنالوجی بنانے والوں سے مخاطب ہے بلکہ ان تمام لوگوں سے بھی جو اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں ہماری زندگیوں کو کس قدر متاثر کرے گی۔
پارائزر نے بتایا کہ اس دستاویز پر دنیا بھر کے میڈیا، ٹیکنالوجی ماہرین، مصنوعی ذہانت ڈویلپرز اور مختلف کمیونٹی گروپس میں وسیع بحث جاری ہے۔میں جن تکنیکی حلقوں میں شامل رہا ہوں، وہاں اس ہفتے یہ سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوعات میں سے ایک تھا۔ لوگ اس پر تبصرے کر رہے ہیں، اس کا تجزیہ کر رہے ہیں اور اس پر بحث کر رہے ہیں۔انہوں نے انسائیکلیکل کو ایک ”شاندار اور مؤثر ذریعہ“ قرار دیا جو لوگوں کو مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اور روحانی پہلوؤں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
اپنے انسائیکلیکل کے آغاز میں پوپ لیو چہاردہم نے خبردار کیا ہے کہ انسانیت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے:یا تو ہم ایک نیا بابل کا مینار تعمیر کریں گے، یا ایسا شہر بنائیں گے جہاں خدا اور انسان ایک ساتھ سکونت اختیار کریں۔پارائزر نے کہا کہ بابل کے مینار کا حوالہ انسانی غرور اور حد سے تجاوز کرنے کے خطرات کی یاد دہانی ہے۔ ان کے مطابق یہ مثال اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ ہمیں انسانی انفرادیت اور ثقافتی تنوع دونوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔انہوں نے وضاحت کی کہ پوپ یہ نہیں کہہ رہے کہ یا تو ہم مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر روک دیں یا بغیر سوچے سمجھے آگے بڑھ جائیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے:
ہم یہ فیصلہ کریں کہ مصنوعی ذہانت ہماری خدمت کس طرح کرے گی۔
پارائزر کے مطابق مصنوعی ذہانت دو مختلف راستے اختیار کر سکتی ہے:
ایک ایسی مصنوعی ذہانت جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے،یا ایسی مصنوعی ذہانت جو لوگوں کی توجہ اور تعلقات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص تنہائی کا شکار ہو تو ایک چیٹ بوٹ یہ کہہ سکتا ہے: میں تمہارا دوست بن جاتا ہوں، یا پھر یہ کہہ سکتا ہے: دوست بنانے کا بہترین طریقہ مقامی گروپس میں شامل ہونا ہے، یہ رہے آپ کے لیے چند گروپس۔ان کے مطابق ان دونوں رویّوں کے معاشرے پر بالکل مختلف اثرات مرتب ہوں گے۔
؎پارائزر نے کہا کہ بہت سے لوگ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور ہم اس کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہااس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ ٹیکنالوجی لوگوں کی مدد نہ کر سکے۔مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ انٹرنیٹ پر کون سی معلومات معتبر ہیں اور کون سی نہیں۔اگر آپ کا چیٹ بوٹ آپ کی خدمت کے لیے کام کر رہا ہے تو وہ آپ کو بتا سکتا ہے کہ کون سی معلومات مستند ذرائع سے آئی ہیں اور کون سی نہیں۔ لیکن اگر وہ کسی اور کے مفاد کے لیے کام کر رہا ہے تو وہ آپ کو متاثر کرنے یا غلط عقائد کو مضبوط کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔
Magnifica humanitas میں پوپ لیو چہاردہم نے مصنوعی ذہانت کو غیر مسلح کرنے کی بات بھی کی ہے، یعنی اسے مسابقت اور طاقت کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے سے روکنا۔
پارائزر اس بات سے متفق ہیں کہ آج مصنوعی ذہانت شدید معاشی مقابلے اور منافع کے ماحول میں تیار کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا کے تجربے سے جانتے ہیں کہ جب ٹیکنالوجی کو صرف معاشی فائدے کے لیے بہتر بنایا جاتا ہے تو اس کے نتائج افراد اور معاشروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔پارائزر نے نشاندہی کی کہ مصنوعی ذہانت کمپنیاں صرف اشتہارات پر انحصار نہیں کر رہیں بلکہ مختلف کاروباری ماڈلز اختیار کر رہی ہیں، جس سے صورتحال کو بہتر انداز میں تشکیل دینے کے مواقع موجود ہیں۔انہوں نے آخر میں کہا کہ ابھی بہت گنجائش موجود ہے کہ ہم چیزوں کو مختلف انداز میں تشکیل دیں، بشرطیکہ ہم بے بسی کے احساس سے نکل کر خود کنٹرول سنبھالنا شروع کریں۔