مصنوعی ذہانت کے دور میں خاندان انسانیت کا پہلا سکول ہے۔ پا پائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 21اگست 2026کوپا پائے اعظم لیو چہاردہم نے بین الاقوامی کیتھولک قانون سازوں کے نیٹ ورک سے خطاب کرتے ہوئے ایسی قانون سازی پر زور دیا ہے جو انسانی حقوق اور انسانی وقار کا تحفظ کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کو کبھی بھی خاندان کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، کیونکہ خاندان ہی ”انسانیت کا پہلا سکول“ ہے۔
قانون سازی پر گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے ایک بار پھر زور دیا کہ ”مضبوط قانونی ڈھانچے، آزاد نگرانی، باخبر صارفین اور ایسا سیاسی نظام ضروری ہے جو اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہ ہو۔“
انہوں نے کہا کہ یہ نگرانی مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف انداز میں کی جا سکتی ہے، تاکہ ”اخلاقی اصولوں پر کھلی بحث“ کو فروغ دیا جا سکے اور انہیں ”سماجی انصاف کے مشترکہ معیارات“ کے تابع بنایا جا سکے۔ اس طرح یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں شامل اقدار کا تعین کسی ایک نظریے یا مفاد کے ذریعے نہ ہو۔اسی دوران پوپ لیو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی تکنیکی انحصار کی نئی شکلیں پیدا کرنے کا خطرہ رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں غریب ممالک امیر ممالک پر مزید انحصار کرنے لگ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے چوکس رہنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ جدت طرازی نظریاتی یا معاشی نوآبادیاتی نظام کا ایک اور ذریعہ بن جائے۔
پوپ لیو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم تسلط کی ایک ایسی پوشیدہ شکل کا سامنا کر رہے ہیں جہاں اعدادوشمار فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کو دیکھا جائے اور کون نظروں سے اوجھل رہے، جہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارم جواب دہی کے بغیر عوامی مباحثے کی تشکیل کرتے ہیں اور جہاں کارکنوں کے وقار کو نظام کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے قربان کر دیا جاتا ہے۔
پوپ لیو نے خبردار کیا کہ یہ صورتِ حال ”تسلط اور خدمت کے بغیر اختیار حاصل کرنے کی قدیم آزمائش کا ایک نیا چہرہ“ ظاہر کرتی ہے۔پوپ لیو نے کہا کہ معاشرے میں انسانیت کا پہلا مدرسہ خاندان ہوگا۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کیونکہ خاندان ہی وہ جگہ ہے جہاں ہم حساب کتاب سے پہلے اعتماد، مقابلے سے پہلے سخاوت، تقسیم سے پہلے مکالمہ اور طاقت سے پہلے محبت سیکھتے ہیں۔اسی تناظر میں پوپ لیو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو کبھی بھی معاشرے کے اس بنیادی خلیے، یعنی خاندان، کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ایسا اس وقت ہو سکتا ہے جب انسانوں اور تعلقات کو محض اعداد و شمار اور مصنوعی تجربات تک محدود کر دیا جائے، نوجوان ذہنوں کو ایسے مواد سے بھر دیا جائے جو ان کی خواہشات اور سوچ کو مسخ کرے، یا ایسے معاشی نظام تشکیل دیے جائیں جو خاندانی زندگی کو معاشی طور پر غیر محفوظ بنا دیں۔
پوپ لیو چہاردہم نے کہا کہ اسی لیے میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ ایسی پالیسیوں کو فروغ دیں جو شادی اور خاندان کو مضبوط بنائیں، والدین کو ان کی تعلیمی ذمہ داری ادا کرنے میں مدد دیں اور نوجوانوں کو مستقبل کی طرف اعتماد کے ساتھ دیکھنے کے قابل بنائیں۔
پوپ لیو نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عزیز دوستو! دنیا کو ایسی مصنوعی ذہانت کی ضرورت نہیں جو انسانیت کو کمزور کرے بلکہ اسے ایسی انسانی ذہانت کی ضرورت ہے جو حکمت سے روشن ہو، ایسی سیاسی قوت کی ضرورت ہے جو ضمیر کی رہنمائی میں کام کرے اور ایسی تکنیکی جدت کی ضرورت ہے جو محبت کے ذریعے درست سمت میں استعمال ہو۔
انہوں نے کہا کہ صرف اسی صورت میں مصنوعی ذہانت انسانیت کی حریف بننے کے بجائے مشترکہ بھلائی کی خدمت گار بن سکتی ہے۔پوپ لیو چہاردہم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ وہ دْعا کرتے ہیں کہ بین الاقوامی کیتھولک قانون سازوں کے نیٹ ورک کی مشاورت ان کے ممالک اور پورے انسانی خاندان کے لیے بھرپور ثمرات کا باعث بنے۔
