حکام کو جنگ بندی اور مکالمہ کے ذریعے امن کی کوشش کرنی چاہیے۔پاپا ئے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 24 مارچ 2026کوپوپ لیو چہاردہم نے کاسٹل گاندولفو میں صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے اپنی اس اپیل کو دوبارہ دہرایا کہ امن کے لیے کام کریں، ہتھیاروں کے ذریعے نہیں نیز نفرت، تشدد اور اموات میں اضافے کی مذمت کی۔
انہوں نے کہاکہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی اپیل کی تجدید کرنا چاہتا ہوں، امن کے لیے کام کیا جائے، لیکن ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ مکالمہ کے ذریعے، تاکہ واقعی سب کے لیے حل تلاش کیا جا سکے۔عالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہانفرت بڑھ رہی ہے، تشدد بدتر ہوتا جا رہا ہے، دس لاکھ سے زیادہ لوگ محصور ہیں اور بے شمار ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہاہم امن کے لیے دْعا کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں تمام حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ واقعی مکالمہ کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔
پوپ لیو نے مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر خطوں کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو جنگ اور تشدد سے تباہ حال ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اْن بے شمار بے دفاع لوگوں کی تکلیف کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتے جو اِن تنازعات کا شکار ہیں۔ اْن کی تکلیف پوری انسانیت کی تکلیف ہے۔ اِن جنگوں سے ہونے والی موت اور درد پوری انسانی برادری کے لیے ایک بڑا المیہ ہے اور یہ ایک ایسی فریاد ہے جو خدا تک پہنچتی ہے!
پوپ لیو نے مزید کہا کہ میں اپنی اپیل کو مضبوطی سے دْہراتا ہوں کہ ْدعا میں ثابت قدم رہیں، تاکہ دشمنیاں ختم ہوں اور امن کے راستے کھل سکیں، جو مخلصانہ مکالمہ اور ہر انسان کے وقار کے احترام پر مبنی ہوں