خدا کرے وہ امن قائم ہو جس کی ہمارے دور میں شدید ضرورت ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 21مئی2026کو ویٹیکن میں سیرا لیون، بنگلہ دیش، یمن، روانڈا، نمیبیا، ماریشس، چاڈ اور سری لنکا کے نئے غیر مقیم سفیروں نے پاپائے اعظم لیو چہاردہم سے ملاقات کی۔پوپ لیو نے اْن کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور درخواست کی کہ وہ اپنے ممالک کے سربراہانِ مملکت کو ان کی جانب سے احترام کے ساتھ سلام پہنچائیں، ساتھ ہی ان کے اور ان کے عوام کے لیے ان کی دعاؤں کا یقین بھی دلائیں۔اِن سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ اْن کا مشن مکالمہ کو مضبوط کرے، باہمی فہم کو گہرا کرے اور اس امن کو قائم کرے جس کی ہمارے دور میں شدید ضرورت ہے۔انہوں نے خبردار کیاکہ کوئی بھی قوم، معاشرہ اور بین الاقوامی نظام خود کو اس وقت تک منصفانہ اور انسانی نہیں کہہ سکتا جب تک وہ اپنی کامیابی کو صرف طاقت یا خوشحالی کے پیمانے پر نہ ناپے اور اْن لوگوں کو نظرانداز نہ کرے جو معاشرے کے حاشیے پر زندگی گزارتے ہیں۔ حقیقت میں، مسیح کی محبت جو کمزوروں اور بھولے بسروں کے لیے ہے، ہمیں ہر اُس خود غرضی کو رد کرنے پر مجبور کرتی ہے جو غریبوں اور کمزوروں کو غیر مرئی بنا دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ خاص طور پر خوش ہیں کہ وہ ان سفیروں کو اس وقت قبول کر رہے ہیں جب کلیسیا عید پینتیکوست منانے کے قریب ہے، اور انہوں نے یاد دلایا کہ کس طرح روح القدس نے شاگردوں پر نازل ہو کر خوف کو جرات میں اور تقسیم کو اتحاد میں بدل دیا، اور انہیں تمام اقوام کی زبانوں میں بولنے کے قابل بنایا۔
پوپ لیونے کہا کہ مجھے اْمید ہے کہ اتحاد کا یہی وژن سفارت کاری کی دنیا کو بھی متاثر کرے، جہاں اقوام کے درمیان تعمیری تعلقات حقیقی کھلے پن، باہمی احترام کے فروغ، اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس سے پروان چڑھیں۔
انہوں نے کہاآج کے دور میں جب امن کو ہتھیاروں کے ذریعے اپنی بالادستی قائم کرنے کی شرط کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے، اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ایک ایسی سفارت کاری کی طرف واپسی ہو جو مکالمہ کو فروغ دے اور اتفاقِ رائے تلاش کرے۔
پوپ لیو نے سفیروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی خدمت”اعتماد اور تعاون کا ایک قیمتی پْل“ہے جو ان کے ممالک اور ہولی سی کے درمیان قائم ہوتا ہے۔انہوں نے دْعا کی کہ ان کی مشترکہ کوششیں دو طرفہ اور کثیرالجہتی روابط کی تجدید میں مدد دیں، اور ان لوگوں کی طرف توجہ دلائیں جو معاشرے کے حاشیے پر اکثر نظرانداز ہو جاتے ہیں، تاکہ سب مل کر ایک زیادہ منصفانہ، برادرانہ اور پرامن دنیا کی بنیاد رکھ سکیں۔پوپ نے یقین دلایا کہ سیکرٹریٹ آف اسٹیٹ اور رومن کیوریہ کے دیگر ادارے ان کی نئی ذمہ داریوں میں ان کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
آخر میں پوپ نے ان سفیروں، ان کے اہلِ خانہ اور ان کے ممالک کیلئے اپنی برکات دیں، اور دْعا کی کہ خدا اْن کی رہنمائی اور مدد کرے تاکہ وہ اپنے عظیم فرائض بخوبی انجام دے سکیں۔