جنگ کے زخم میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک تباہی پھیلاتے ہیں ۔ پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 20اگست 2026کوعالمی یومِ دْعا برائے نگہداشتِ تخلیق کے موقع پر پوپ لیو چہاردہم نے خبردار کیا کہ جنگ کے اثرات میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک تباہی پھیلاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہ میں خداوند کی جانب سے پیش کردہ امن کی تقلید کرتے ہوئے دنیا میں امن کے قیام کے لیے کام کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے ہتھیاروں کی جگہ، امن کا خدا ہ میں شفا دینے، صلح کرانے اور محبت کی تہذیب تعمیر کرنے کی قوت عطا کرتا ہے ۔
پوپ لیو نے یہ بات عالمی یومِ دعا برائے نگہداشتِ تخلیق کے 11ویں عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی ۔ یہ پیغام ہولی سی کے پریس آفس کی جانب سے جاری کیا گیا ۔
کلیسیا ہر سال یکم ستمبرکو عالمی یومِ دعا برائے نگہداشتِ تخلیق مناتی ہے ۔ اس سال کا موضوع ہے:’’وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے نیزوں کو درانتیاں بنائیں گی ۔ ‘‘(اشعیا 2:4)
پوپ لیو نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہ میں ان متعدد ’’ماحولیاتی نظاموں ‘‘ کی حفاظت کے لیے بلایا گیا ہے جو ہمارے سپرد کیے گئے ہیں ۔ ان میں تخلیق کا نظام، انسانی تعلقات کا نظام اور خود انسانی دل کا نظام بھی شامل ہے ۔ پوپ لیو نے واضح کیا کہ امن کی تعمیر کے حقیقی ذراءع تباہی کے ہتھیار نہیں بلکہ سچائی، مکالمہ، صبر، بھلائی، انصاف، رحم، سمجھ بوجھ، نگہداشت اور محبت ہیں ۔ ان کے مطابق یہ خوبیاں ایسے دلوں سے پھوٹتی ہیں جو انجیل سے تشکیل پاتے اور خدا کے فضل سے مضبوط ہوتے ہیں ۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ صرف یہی خوبیاں افراد کو بدلنے، معاشروں کو نیا بنانے اور ہمارے زخموں کو مندمل کرنے کی طاقت رکھتی ہیں ۔ پوپ لیو نے کہا کہ ہمارے سامنے موجود راستہ آسان نہیں ، لیکن واضح ضرور ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہ میں بلایا گیا ہے تاکہ اپنے دلوں کو نیا ہونے دیں ، ہم امن کی تلاش کریں اور تخلیق کی نگہداشت کریں ۔ اپنے پیغام میں پوپ لیو نے کہا کہ اگر ہم عاجزی اور ایمان کے ساتھ اس ذمہ داری کو قبول کریں تو ہم خدا کے تجدیدی کام میں اس کے معاون بن جائیں گے ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج ہم متعدد بحرانوں اور بے پناہ انسانی مصائب کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ اسی کے ساتھ انہوں نے نشاندہی کی کہ تخلیق کے متوازن اور ہم آہنگ نظام میں خلل بھی تیزی سے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہایہ مظاہر ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں بلکہ یہ سب ایک زخمی دنیا سے شفا اور امن کے لیے اْٹھنے والی ایک ہی فریاد ہیں ۔ پوپ لیو نے یقین دلایا:’’ میں تمہیں سلامتی دئیے جاتا ہوں ۔ اپنی سلامتی تمہیں دیتا ہوں ۔ جس طرح دنیا دیتی ہے اْسی طرح میں نہیں دیتا ۔ تمہارا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے ۔ ‘‘(یوحنا 14:27)
پوپ لیونے کہا کہ یہ امن نہ سطحی ہے اور نہ عارضی بلکہ مسیح کی پائیدار محبت اور ہر انسان کے لیے اس کی نگہداشت سے پھوٹتا ہے ۔
تاہم انہوں نے یاد دلایا کہ امن کا یہ وعدہ دنیا کے کئی حصوں میں موجود تلخ حقیقتوں کے بالکل برعکس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں تشدد اور جنگ کے لیے اب بھی بے شمار کوششیں جاری ہیں ۔ پوپ لیو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’’جنگ ایسے زخم چھوڑتی ہے جو میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک پھیل جاتے ہیں ۔ ‘‘
جنگ انسانی جانیں لیتی ، خاندانوں کو جدا کرتی اور لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کرتی ہے، جس سے خوف، نا انصافی اور تقسیم مزید گہری ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگ ایسی سماجی اور ماحولیاتی تباہی اپنے پیچھے چھوڑ جاتی ہے جو نسلوں تک برقرار رہتی ہے ۔ مسلح تنازعات اور ماحولیاتی تباہی کے درمیان تعلق اکثر ایک خطرناک دائرہ پیدا کرتا ہے، جو ماحولیاتی نظاموں کو تباہ کرتا، ہوا اور پانی جیسے ضروری وسائل کو آلودہ کرتا اور غذائی تحفظ کو کمزور بناتا ہے ۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ صورتحال غربت، عدم مساوات اور نئی سماجی کشیدگی کو جنم دیتی ہے، جو مزید تنازعات کے پیدا ہونے کا سبب بن سکتی ہے ۔ پوپ لیو نے مزید کہا کہ یہ جنگ ایسے زخم پیدا کرتی ہے جو زندگی کے پورے نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ یہ زخم صرف افراد اور معاشروں کو ہی متاثر نہیں کرتے بلکہ پوری انسانی برادری کے ساتھ ان کے وسیع تر تعلقات اور تخلیق کے ساتھ ان کے ہم آہنگ رشتے کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ جنگ خدا کی صورت اور شبیہ میں زندگی گزارنے، انسانی زندگی کا احترام کرنے اور اس زمین کی نگہداشت کرنے میں ایک گہری ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جو خدا نے ہمارے سپرد کی ہے ۔
انہوں نے اسے صرف سیاسی ناکامی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی ناکامی بھی قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسخ شدہ خواہشات ،انسانی آزادی اور طاقت کے غلط استعمال میں جڑی ہوئی جنگ، امن کی انجیل کے خلاف ایک منفی گواہی بن جاتی ہے ۔ پوپ لیو نے کہا کہ مذکورہ بحران ہم سے صرف ذمہ داری کا تقاضا نہیں کرتے بلکہ دل کی ایسی تبدیلی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں جو خدا کے ساتھ گہری وفاداری، ایک دوسرے سے محبت اور تخلیق کی نعمت کے احترام کا باعث بنے ۔
پوپ لیو نے کہا کہ جنگ کے زخم اور زمین کی تباہی انسانی دل کی حالت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے تاکید کی کہ ایک پُرامن معاشرہ تعمیر کرنے کے لیے صرف ڈھانچوں میں اصلاح کافی نہیں بلکہ ہمارے دلوں کی تجدید بھی ضروری ہے ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ تنازعات کی گہری وجوہات اور تخلیق کا استحصال ایک اخلاقی اور ثقافتی بحران سے جنم لیتے ہیں ، جس میں حدود کے احساس کا خاتمہ، غلبہ حاصل کرنے کی خواہش، فوری منافع کا حصول اور ہر انسان کی خدا کی عطا کردہ عظمت کو تسلیم کرنے میں ناکامی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے خدا کے فضل کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ذاتی اور اجتماعی سطح پر گہری تبدیلی ضروری ہے یعنی خدا کی طرف واپسی، جو ہماری خواہشات کو درست کرے گا، ہمارے زخموں کو مندمل کرے گا اور ہ میں فضائل میں ترقی کرنے میں مدد دے گا ۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اندرونی تبدیلی کے بغیر امن نازک اور مختصر مدت کے لیے ہی رہے گا ۔ لیکن جہاں دلوں کی تجدید ہوتی ہے، وہاں نئے امکانات کے دروازے کھلنے لگتے ہیں ۔ پوپ لیو نے غور کرتے ہوئے کہا کہ جو چیز تباہی کے لیے استعمال ہوئی ہے، اسے دوبارہ زندگی کے لیے، غریبوں کی نگہداشت، بھوکوں کی خوراک اور تخلیق کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہی حقیقی ماحولیاتی تبدیلی کا راستہ ہے، جہاں یسوع مسیح کے ساتھ ہماری ملاقات کے اثرات ہمارے اِردگرد کی دنیا کے ساتھ ہمارے تعلق میں ظاہر ہوتے ہیں ۔
انہوں نے واضح کیا کہ امن دل سے شروع ہوتا اور پھر ہمارے تعلقات، معاشروں اور وسیع تر دنیا تک پھیلتا ہے ۔ بے شمار اور ’’بہت بڑے‘‘ چیلنجز کے باوجود پوپ لیو نے یقین دلایا کہ خدا ہ میں شفا اور تبدیلی کے ذراءع سے محروم نہیں چھوڑتا ۔ آخر میں انہوں نے دْعا کی کہ خداوند ہ میں اس راستے پر چلنے کی ہمت عطا فرمائے، تاکہ ہمارے زمانے میں تلواریں واقعی ہل کے پھالوں میں بدل دی جائیں ، انجیل کا وعدہ ہماری دنیا میں مزید گہری جڑیں پکڑے اور مسیح کا امن پوری تخلیق پر حکمرانی کرے ۔
