پوپ لیو چہاردہم کے ساتھ ویٹی کن میں بچوں کی امن کے لیے روزری کی دْعا
یکم اکتوبر2026کو ویٹی کن گارڈنز میں روم کے مختلف گرجا گھروں اور سکولوں کے تقریباً 700 بچوں نے پوپ لیو چہاردہم کے ساتھ روزری کی دْعا کی۔ دنیا بھر کے بچوں کی طرف سے امن کے لیے روزری کی دْعا کے عالمی اقدام کے تحت تقریباً 1300 افراد نے اسز میں شرکت کی۔یہ دعا ویٹی کن گارڈنز میں لوردس کی پہاڑی پر کی گئی اور اس کے ذریعے دنیا میں جنگ اور تشدد کے خاتمے کے لیے دعا کی گئی۔ یہ دْعا Aid to the Church in Need کے ایک ملین بچوں کی روزری کی دْعا کے عالمی اقدام کا آغاز بھی تھی۔
روزری کے پانچ بھیدپانچ مختلف زبانوں میں پڑھے گئے جن میں اطالوی، ہسپانوی، اردو، جرمن اور عربی شامل تھیں۔ اس عالمی دْعا کا مقصد دنیا بھر کے بچوں اور خاندانوں کو امن کے لیے متحد کرنا ہے۔ یکم تا 7 اکتوبر تک مختلف ممالک میں لوگ جنگ سے متاثرہ افراد، یوکرین کے بچوں، لبنان، شام اور مقدس سرزمین کے خاندانوں، پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذہبی ظلم و ستم کا سامنا کرنے والے مسیحیوں، جنوبی سوڈان میں مفاہمت اور کیوبا و وینزویلا کے خاندانوں کے لیے دْعا کر رہے ہیں۔
پوپ لیو چہاردہم نے بچوں، والدین اور کاہنوں کے ساتھ اس دْعا میں شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بچوں کو بتایا کہ وہ یسوع اور مقدسہ مریم سے دنیا کے تمام بچوں، خاص طور پر جنگ زدہ علاقوں میں رہنے والے بچوں کے لیے امن کا خصوصی تحفہ مانگ رہے ہیں۔پوپ لیونے روزری کو ایک سادہ دْعا قرار دیا جسے ہر شخص ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے بچوں کو یسوع مسیح کی زندگی کے ان اہم لمحات کو یاد کرنے کی دعوت دی جب انہوں نے لوگوں کے لیے روشنی اور امن کا پیغام پیش کیا۔پوپ لیو نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً ایک ملین افراد اس دْعا میں شریک ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف زبانوں میں آسمان کی طرف اٹھنے والی لاکھوں ”سلامِ اے مریم“ کی دعائیں ایک بہت بڑی روزری کی طرح دنیا کے تمام براعظموں، قوموں اور لوگوں کو اپنے حصار میں لے رہی ہیں۔پوپ لیو نے بچوں پر زور دیا کہ دْعا کے ساتھ اچھے اعمال اور محبت کے کام بھی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن اسی طرح پروان چڑھتا ہے جب دْعا کے ساتھ ہمارے اعمال بھی محبت اور بھلائی کا اظہار کریں۔
مسیحی اتحاد کے فروغ کے لیے قائم ویٹی کن ڈکاسٹری کے سربراہ کارڈینل کرٹ کوچ نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام انہیں یہ سمجھنے کی دعوت دیتا ہے کہ وہ مقدسہ مریم کے ساتھ مل کر دنیا کی تکالیف کو یسوع مسیح کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوف اور نفرت کو آخری بات نہیں بننے دینا چاہیے۔
