مسیح کا امن زندگی کے طوفانوں کو تھام لیتا اور ہمیں بغیر خوف کے آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 18اپریل 2026کوپاپائے اعظم لیو چہاردہم نے کیمرون کے دارالحکومت میں منعقدہ اختتامی پاک ماس کی قیادت فرمائی۔انہوں نے مومنین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسیح کا امن زندگی کے طوفانوں کو تھام لیتا اور ہمیں بغیر خوف کے آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔
پوپ لیو نے انجیلِ مقدس کے اُس واقعہ پر غور کیا جس میں یسوع مسیح کے شاگرد جلیل کی جھیل میں شدید آندھی کے دوران خوف اور شک کا شکار ہو گئے تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جیسے کلیسیا نے تاریخ میں کئی طوفانوں کا سامنا کیا ہے، ویسے ہی ہم بھی اپنی زندگیوں میں آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔ لیکن ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ یسوع ہمارے ساتھ ہے، وہ ہر برائی سے زیادہ طاقتور ہے اور وہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
پوپ لیو نے اس بات پر زور دیا کہ جیسے یسوع ہمارے ساتھ ہے، ویسے ہی ہمیں بھی اْن لوگوں کے قریب ہونا چاہیے جو خوف اور تکلیف میں مبتلا ہیں۔کسی کو بھی زندگی کی مشکلات کا سامنا اکیلے نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یسوع کا پیغام ”ڈرو مت“ہم سب کے لیے ہے، جو ہمیں غربت، انصاف اور دیگر مسائل کا مل کر مقابلہ کرنے کی ہمت دیتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمان صرف روحانی زندگی تک محدود نہیں بلکہ یہ ہمیں دوسروں کی خدمت اور معاشرتی بہتری کے لیے بھی تیار کرتا ہے۔
پوپ لیو نے ابتدائی کلیسیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ شاگردوں نے مشکلات کے وقت اکٹھے ہو کر مشورہ کیا، دْعا کی اور ضرورت مندوں خاص طور پر بیواؤں اور یتیموں کی مدد کی۔ اس طرح انہوں نے بحران کو ترقی اور بہتری کے موقع میں بدل دیا۔
اپنے خطاب کے اختتام میں پوپ لیو نے کہا کہ اگرچہ سب لوگ اپنی روزمرہ زندگیوں کی طرف واپس لوٹ جائیں گے، لیکن کلیسیا خدا کے فضل سے اپنی منزل کی طرف بڑھتی رہے گی۔ انہوں نے لوگوں کو نصیحت کی کہ وہ ان خوبصورت لمحات کو اپنے دلوں میں زندہ رکھیں اور زندگی کی مشکلات میں ہمیشہ یسوع کو اپنے دل میں جگہ دیں۔انہوں نے کہا کہ کیمرون کی کلیسیا زندہ، جوان اور توانائی سے بھرپور ہے۔ انہوں نے کہا خدا کرے کہ مقدسہ مریم کی شفاعت سے یہ خوشی اور اتحاد مزید پھلے پھولے اور زندگی کے طوفان ترقی، خدمت اور باہمی محبت کا ذریعہ بنیں۔
یا د رہے یہ پاک ماس پوپ لیو کے چار روزہ دورہِ کیمرون کے اختتام کی علامت تھی، جس کے بعد وہ اپنے افریقی دورے کے اگلے مرحلے کے لیے انگولا روانہ ہوئے۔