تمام مسیحی 2033 میں مسیح کی نجات کے دو ہزار سالہ جشن کو مل کر منائیں۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 30جون 2026کوروم میں قسطنطنیہ کے ایکیومینیکل پیٹریارکیٹ کے وفد سے ملاقات کے دوران پوپ لیو چہاردہم نے کہا کہ جنگوں اور بڑھتی ہوئی تقسیم کے اس دور میں تمام مسیحیوں کو امن اور اْمید کی قابلِ اعتماد گواہی دینی چاہیے۔ انہوں نے اس اْمید کا بھی اظہار کیا کہ دنیا بھر کے تمام مسیحی 2033 میں خداوند یسوع مسیح کی نجات کے دو ہزار سال مکمل ہونے کی یادگار تقریب مشترکہ طور پر منائیں گے۔
انہوں نے ویٹی کن میں مقدس پطرس اور مقدس پولوس کی عید کے موقع پر قسطنطنیہ کے ایکیومینیکل پیٹریارکیٹ کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میری دْعا ہے کہ 2033 میں یسوع مسیح کی نجات کے دو ہزار سال مکمل ہونے کی تیاری دنیا کے تمام مسیحی فرقے مل کر کریں، تاکہ وہ دوبارہ اُس نعمت اور دعوت کو دریافت کریں جو انہیں زندہ خداوند مسیح کے گواہ بننے کے لیے ملی ہے۔
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ اْن کی موجودگی قسطنطنیہ کی ہماری بہن کلیسیا اور اْس کے روحانی پیشوا، ایکیومینیکل پیٹریارک برتھولومیو کی برادرانہ قربت کا اظہار ہے۔پوپ لیو نے گزشتہ برس مقدس اینڈریوکی عید کے موقع پر استنبول کے علاقے فنارمیں واقع چرچ آف سینٹ جارج میں اپنی شرکت کو خوشی سے یاد کیا۔انہوں نے ایکیومینیکل پیٹریارک برتھولومیو اوّل کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے دونوں رہنماؤں کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط کیا اور مختلف اہم امور، خصوصاً تمام مسیحیوں کے مکمل اتحاد کی راہ میں پیش رفت کے حوالے سے مشترکہ خیالات کے تبادلے کا موقع فراہم کیا۔
پوپ لیو نے کہا کہ پہلی کونسلِ نقیہ کی 1700 ویں سالگرہ کی یادگار تقریب، جو ازنک میں منعقد ہوئی، اس بات کی واضح گواہی تھی کہ وہ تمام مسیحی جو باپ، بیٹے اور روح القدس پر ایمان رکھتے ہیں، پہلے ہی ایک روحانی رفاقت میں بندھے ہوئے ہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نقیہ کا عقیدہ ایمان (Nicene Creed) ہمارے ایکیومینیکل سفر کی بنیاد اور رہنما اصول ہونا چاہیے، کیونکہ یہی جائز تنوع کے اندر حقیقی اتحاد کا نمونہ پیش کرتا ہے؛ تثلیث میں وحدت اور وحدت میں تثلیث۔
پوپ لیو نے کہا کہ جنگوں، بڑھتی ہوئی سیاسی و سماجی تقسیم اور ثقافتی اختلافات کے اس دور میں، اگر مسیحی آپس میں مصالحت کر کے ایک ایمان کا مشترکہ اقرار کریں تو وہ دنیا کے لیے امن کی ایک قابلِ اعتماد علامت بن سکتے ہیں اور امن کے قیام کے لیے نیک نیت لوگوں کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں صرف مسیحی پیغام کی ساکھ ہی نہیں بلکہ انسانیت کا مستقبل بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔پوپ لیونے کہا کہ امن کے قیام، نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال اور ماحول و تخلیق کی حفاظت جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مسیحیوں کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت خود انجیلِ مقدس کا تقاضا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر انسان، خصوصاً بچوں اور ضرورت مند افراد کی زندگی اور انسانی وقار کی حفاظت ہماری بنیادی ذمہ داری ہے، اور یہی معیار ہمارے موجودہ اور ابدی انجام کا فیصلہ کرے گا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر پوپ لیو نے وفد کی آمد اور مسیحی اتحاد کے فروغ کے لیے ایکیومینیکل پیٹریارکیٹ کی مسلسل کاوشوں پر دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کے لیے دْعا کرتا ہوں کہ خدا باپ ہمیشہ ہماری رہنمائی فرمائے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail