مولا چٹوک

                         بلوچستان کا ضلع خضدار اپنی رنگا رنگ اور منفرد ثقافت کی وجہ سے ایک خاص رعنائی اور کشش رکھتا ہے۔ یہاں کے لوگ سادہ  اور مہمان نواز ہیں۔ ان لوگوں کی مقامی زبان براہوی ہے۔ ویسیتو پورا بلوچستان بے شمار حیرت انگیز اور خوبصورت مقامات سے بھرا پڑا ہے۔ اگرچہ بلوچستان میں سبزہ زار بہت کم ہیں مگر پہاڑ اور صحرا بہت پرکشش ہیں۔ ان ہی خوبصورت مقامات میں سے ایک مقام مولا چٹوک بھی ہے۔مولا چٹوک کی انتہائی خوبصورت آبشاریں بلوچستان کے ضلع خضدار میں واقع ہیں۔ جہاں پر یہ آبشاریں سازبکھیرتی اور گن گناتی نظر آتی ہے اور دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ کر دیتی ہے۔ بلوچستان کے لوگ مولا ایک چھوٹے سے علاقے کو کہتے ہے اور چٹوک بلوچی میں آبشار کو کہا جاتا ہے۔ بعض لوگ اس علاقے کو آبشاروں کا دیس بھی کہتے ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مولاچٹوک کا پانی سردی میں بھی گرم رہتا ہے۔اس جگہ کی سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہاں پر ایک موبائل کمپنی کا نیٹ ورک وہ بھی تھری جی موجود ہے جس کے ذریعے سیاح یہ مناظر پوری دنیا کو لائیو دیکھاتے ہیں۔
آج کل خُضدار ملکی سیاحوں کیلئے ایک خوبصورت اور معروف پکنک پوائنٹ بن چکا ہے۔ یہ شہرت مولا چٹوک کی وجہ سے ہی مقبول ہو رہا ہے۔ مولا چٹوک سطح سمندر سے ساڑھے تین ہزار فٹ کی بلندی پر شفاف پانی کے جھرنوں اور آبشاروں سے گھرا ہوا ایک ایسا قدرتی سوئمنگ پول ہے کہ جس کی تصویروں کی پہلی جھلک ہی آپ کو بے چین کردیتی ہے۔ پانی مسلسل اونچائی سے آبشاروں کی صورت میں نیچے کی طرف آتا رہتا ہے جس کے باعث ہر آبشار کے سامنے ایک چھوٹا سا تالاب بن گیا ہے جس میں سیاح تیراکی کرتے ہیں۔ یہ مناظر لوگ دیکھ کردل ہی دل مولا چٹوک جانے کی تمنا بھی کرلیتے ہیں اور پھر ایک دن اس منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔خضدار سے مولا چٹوک جانے کے لئے زیادہ تر لوگ موٹرسائیکل استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ دشوار گزار اور اونچا پہاڑی سلسلہ ہے کا۔ راستہ کافی کچا اور پتھریلا بھی ہے۔
رات کے وقت اگر ان پہاڑوں کی بلندی پر چڑھ کر ان آبشاروں کا نظارہ کیا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے آسمان کے سارے ستارے  اور سیارے زمین پر آ کربچھ گئے ہیں۔یہاں پہنچنے والے ہر شخص کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں کیونکہ یہاں پردو تالاب ہیں۔سب سے پہلا تالاب انسانی اونچائی کے برابر گہرا ہے۔ جب کہ آگے کے تالاب زیادہ گہرے نہیں ہیں۔ یعنی جو پہلا پل صراط پار کرگیا اسکے سامنے مزید جنت کے نشاں ہونگے۔ شاید کبھی کوئی ہمت والا شخص ان پہاڑوں کے پار ان آبشاروں کے منبع کو بھی دریافت کر لے یہ پانی کیسے پہاڑوں کو چیر کر نکلتا ہے اور کیسے پہاڑوں کے درمیان سے ہی نہیں بلکہ دوسری جانب پہاڑ کے اوپر سے بھی پانی نیچے گر رہا ہوتا ہے۔
مولہ چٹوک آبشار دراصل دو نسبتاً بڑی اور تین چھوٹی آبشاروں کا مجموعہ ہے۔ یہی ٹریک آگے جا کر مولہ چٹوک آبشاروں سے مل جاتاہے، اگر آپ اس پانی کے جگہ پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر اس جگہ پر پیر جمانا یا ہاتھ سے کوئی سہارا لینا ممکن نہیں۔ لہذا آبشاروں کے اندر جانے کی ہمت وہی کریں جنہیں تیرنا آتا ہے۔ ورنہ خود کو موت کے منہ میں ڈالنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ان چٹانوں سے مسلسل سیکڑوں سالوں سے پانی گزرنے کے باعث نقش و نگار اور راستے تو بن گئے ہیں،جو بہت خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہیں۔

Add new comment

3 + 6 =