مقدسہ کلارہ (نورِ اسیسی) کی ایمان افروز داستان

رواں سال میں مقدس فرانسس آف اسیسی کے جوبلی سال کو شکرگزاری اور روحانی تجدید کے ساتھ منا یاجارہا ہے۔ یہ موقع صرف مقدس فرانسس کی زندگی کو یاد کرنے کا نہیں بلکہ اُن عظیم شخصیات کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ہے جنہوں نے اُن کے مشن کو آگے بڑھایا۔ اْن میں سب سے نمایاں نام مقدسہ کلارہ آف اسیسی کا ہے، جنہیں ”نورِ اسیسی“ کہا جاتا ہے۔
کلارہ 16جولائی 1194ء کو اٹلی کے شہر اسیسی کے ایک معزز اور دولت مند خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اْن کی والدہ، مبارک اورتولانا (Blessed Ortolana)، نے اپنی بیٹی کا نام کلارہ (Clare) رکھا، جس کا مطلب ”نور“ہے۔ یہ نام بعد میں اْن کی پوری زندگی کی پہچان بن گیا، کیونکہ انہوں نے واقعی اپنی پاکیزگی، عاجزی اور دْعا کے ذریعے دنیا کو روحانی روشنی عطا کی۔
بچپن ہی سے کلارہ عبادت، دْعا، روزہ،ریاضت اور غریبوں کی خدمت کی طرف مائل تھیں۔ انہی دنوں اسیسی کی گلیوں میں ایک نوجوان خدا کی محبت، غربت اور توبہ کا پیغام سنانے لگا۔ یہ نوجوان مقدس فرانسس آف اسیسی تھے، جن کی زندگی نے کلارہ کے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔
 1212ء میں اٹھارہ برس کی عمر میں، کلارہ نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے تاریخ کا رْخ بدل دیا۔ انہوں نے اپنی دولت، خاندانی وقار اور شادی کی تمام پیشکشوں کو ترک کر دیا اور رات کی تاریکی میں اپنا گھر چھوڑ کر پرچونکلا(Portiuncula) میں مقدس فرانسس کی سپردگی میں چلی گئیں۔
وہاں مقدس فرانسس نے اْن کے بال کاٹے، جو دنیا سے مکمل لاتعلقی کی علامت تھی اور انہیں سادہ راہبانہ لباس پہننے کی ہدایت کی۔ اْسی لمحے صرف ایک نوجوان لڑکی نے اپنا گھر نہیں چھوڑا بلکہ کلیسیا میں خواتین کی ایک نئی روحانی جماعت کی بنیاد رکھ دی۔
بعد ازاں مقدس فرانسس نے کلارہ اور ان کی پہلی ساتھیوں کو مقدس دامیانو کا چھوٹا سا کانونٹ دیا، جہاں سے آرڈر آف Poor Clares کا آغاز ہوا۔مقدسہ کلارہ کی زندگی مکمل طور پر دْعا، خاموشی، غربت،رحمدلی اور مسیح کے ساتھ گہری رفاقت میں گزری۔ وہ اپنی راہبات سے کہا کرتی تھیں:مسیح کی عاجزی اور محبت کو دیکھو، اور اسی کی مانند بننے کی کوشش کرو۔
1226ء میں مقدس فرانسس کی وفات کے بعد، مقدسہ کلارہ نے تقریباً چالیس برس تک اپنی جماعت کی راہنمائی انتہائی وفاداری کے ساتھ کی۔ انہوں نے غربت کے اُس اصول پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جسے وہ انجیل کی اصل روح سمجھتی تھیں۔
1240ء میں، جب سارسن فوجوں نے مقدس دامیانو کانونٹ پر حملہ کیا، اس وقت کلارہ شدید بیمار تھیں۔ روایت کے مطابق وہ بستر سے اْٹھیں، ظہور دان کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور دْعا کرتے ہوئے خدا سے اپنی ساتھی بہنو ں کی حفاظت کی التجا کی۔ کلیسیائی روایت بیان کرتی ہے کہ حملہ آور بغیر نقصان پہنچائے واپس لوٹ گئے۔اپنی زندگی کے آخری برسوں میں مقدسہ کلارہ کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ اْن کی جماعت کو مکمل غربت کے اصول پر زندگی گزارنے کی کلیسیائی منظوری مل جائے۔ خدا نے اْن کی یہ دْعا بھی قبول کی۔
9 اگست 1253ء کو پوپ اِنوسنٹ چہارم (Pope Innocent IV) نے ان کے تحریر کردہ Rule of Saint Clare کی باضابطہ منظوری دی۔ یہ کلیسیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ کسی خاتون نے اپنی مذہبی جماعت کے قوانین خود تحریر کیے اور انہیں کلیسیائی منظوری حاصل ہوئی۔اس کے صرف دو دن بعد، 11 اگست 1253ء کو، تقریباً ستائیس برس کی بیماری برداشت کرنے کے بعد، مقدسہ کلارہ اپنے آسمانی باپ کے پاس لوٹ گئیں۔
ان کی وفات کے دو سال بعد، 26 ستمبر 1255ء کو پوپ الیگزینڈر چہارم (Pope Alexander IV) نے انہیں مقدسہ قراردے دیا۔
بعد ازاں پوپ فرانسس نے بھی مقدسہ کلارہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ کلیسیا کی تاریخ کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اپنی مذہبی جماعت کے قوانین خود تحریر کیے، جو خواتین کی روحانی قیادت اور کلیسیا میں اْن کے منفرد کردار کی ایک روشن مثال ہے۔
آج بھی دنیا بھر میں ہزاروں poor clareراہبات مقدسہ کلارہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خاموش دْعا، سادہ زندگی، پاک یوخرست سے محبت اور غریبوں کے لیے روحانی خدمت کی زندگی گزار رہی ہیں۔
مقدس فرانسس آف اسیسی کے اس جوبلی سال میں مقدسہ کلارہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ حقیقی طاقت شور میں نہیں بلکہ دْعا کی خاموشی میں ہے؛ حقیقی دولت،دنیاوی مال و دولت نہیں بلکہ خدا کی قربت میں ہے؛ اور حقیقی روشنی وہ ہے جو مسیح سے مل کر دوسروں کی زندگیوں کو منور کر دے۔
آئیے، اس جوبلی سال میں ہم بھی مقدسہ کلارہ کی طرح اپنے دلوں میں ایمان، دْعا اور محبت کا نور روشن کریں۔مقدسہ کلارہ کی خواہش تھی کہ وہ کھجوروں کے اتوار کی عبادت کیلئے چرچ جا کر عبادت میں شامل ہوں لیکن اپنی بیماری کی وجہ سے جا نہیں سکتی تھیں۔ خدا نے ایسا معجزہ کیا کہ اْن کے بستر کے سامنے جو دیوار تھی اْس دیور پر اْنھیں ساری پاک ماس دکھائی دینے لگی۔اسی لئے مقدسہ کلارہ ٹیلی وژن اور ذرائع ابلاغ کی مقدسہ بھی کہلاتی ہیں۔
اْن دونوں مقدسین کی زندگیاں ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی خوشی زیادہ حاصل کرنے میں نہیں بلکہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں پر شکرگزاری اور سادگی کے ساتھ زندگی گزارنے میں ہے۔ انہوں نے اپنے زمانے کی دولت، طاقت اور سماجی مرتبے کو چھوڑ کر خدا کی محبت کو چْنا، اور اسی انتخاب نے انہیں تاریخ کے عظیم ترین مقدسین میں شامل کر دیا۔آج بھی دنیا کو ایسے دوستوں، رہنماؤں اور ساتھیوں کی ضرورت ہے جو ایک دوسرے کی کمزوریوں کا فائدہ اْٹھانے کی بجائے ایک دوسرے کی روحانی ترقی کا سبب بنیں۔ ایسے لوگ جو دوسروں کو خدا، محبت، رحم دلی، خدمت اور عاجزی کی طرف لے جائیں۔
اگر ہم اپنی دوستیوں، خاندانوں اور برادریوں کو مقدس فرانسس اورمقدسہ کلارہ کی طرح خدا پر مرکوز  کریں، تو ہمارے تعلقات صرف دنیاوی رشتے نہیں رہیں گے بلکہ نجات، تقدس اور ابدی زندگی کی طرف سفر بن جائیں گے۔ان دونوں مقدسین کی روحانی محبت سے جْڑی داستان ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا سب سے بڑا مقصد صرف کامیاب ہونا نہیں بلکہ مقدس بننا ہے اور بعض اوقات خدا ہمیں اْس راستے پر چلانے کے لیے ایک سچے دوست کا تحفہ عطا کرتا ہے۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی دوستی انہیں دنیا سے زیادہ خدا سے محبت کرنا سکھاتی ہے کیونکہ ایسی دوستی زمین پر شروع ہوتی ہے اور ابدیت تک قائم رہتی ہے۔


 


 

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup