مقدسہ ڈِمفنا (ذہنی بیماریوں میں مبتلا افراد کی سرپرست مقدسہ)
مقدسہ ڈِمفنا (St. Dymphna) کی زندگی ایمان، پاکیزگی، قربانی اور خدا پر کامل بھروسے کی ایک عظیم مثال ہے۔ اگرچہ وہ صرف پندرہ برس کی عمر میں شہید ہوئیں، لیکن اْن کی مختصر زندگی نے صدیوں سے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں اْمید، تسلی اور خدا پر اعتماد پیدا کیا ہے۔ آج پوری کیتھولک کلیسیا انہیں ذہنی بیماری، ڈپریشن، بے چینی، جذباتی اذیت، اعصابی عوارض اور ذہنی سکون کے لیے خاص طور پر یاد کرتی ہے۔
مقدسہ ڈِمفنا ساتویں صدی میں آئرلینڈ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد، بادشاہ ڈیمون، ایک طاقتور مگر مشرک حکمران تھے، جبکہ اْن کی والدہ ایک نہایت دیندار مسیحی خاتون تھیں۔ انہی کی تربیت نے ڈِمفنا کے دل میں خداوند یسوع مسیح سے گہری محبت پیدا کی۔
بچپن ہی سے وہ دْعا، ریاضت اور نیکی کے کاموں میں دلچسپی رکھتی تھیں۔ اْن کی پاکیزگی، عاجزی اور خدا سے محبت سب کے لیے قابلِ تعریف تھی۔ صرف چودہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنی زندگی خدا کے لیے مخصوص کر دی اور ہمیشہ پاکدامن رہنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ انہوں نے مسیح کو اپنا حقیقی اور ابدی دولہا مان لیا اور فیصلہ کیا کہ اپنی پوری زندگی خداوند کی خدمت میں گزاریں گی۔کچھ ہی عرصے بعد اْن کی والدہ وفات پا گئیں۔ اس سانحہ نے بادشاہ ڈیمون کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا۔ ابتدا میں وہ غمزدہ تھا، مگر آہستہ آہستہ اْس کی ذہنی حالت بگڑنے لگی۔ وہ ہر جگہ اپنی مرحومہ ملکہ جیسی عورت تلاش کرتا رہا، مگر جب کوئی نہ ملی تو اس کے درباریوں نے ایک نہایت شرمناک اور گناہ آلود مشورہ دیا:آپ اپنی ہی بیٹی ڈِمفنا سے شادی کر لیں، کیونکہ وہ اپنی والدہ سے بہت مشابہت رکھتی ہے۔
یہ سن کر مقدسہ ڈِمفنا شدید خوف اور صدمے میں مبتلا ہو گئیں، لیکن انہوں نے اپنے ایمان پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔
انہوں نے اپنے روحانی رہنما فادر جیریبران سے مشورہ کیا۔ فادر جیریبران نے انہیں حوصلہ دیا کہ وہ خدا پر بھروسہ رکھیں اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کریں۔اپنے روحانی رہنما فادر جیریبران اور چند وفادار ساتھیوں کے ساتھ سینٹ ڈِمفنا خاموشی سے آئرلینڈ سے روانہ ہوئیں۔ وہ سمندر عبور کرکے موجودہ بیلجیم کے شہر گیل (Geel)پہنچیں، جہاں انہوں نے نئی زندگی کا آغاز کیا۔
وہاں انہوں نے اپنی زندگی دْعا، عبادت اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دی۔ وہ غریبوں، بیماروں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی خدمت کرتیں، بیماروں کی تیمارداری کرتیں اور ہر آنے والے کو خدا کی محبت کا پیغام دیتیں۔ اْن کی عاجزی، محبت اور پاکیزگی نے بہت سے لوگوں کے دل جیت لیے۔
لیکن ان کا سکون زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔آخرکار بادشاہ ڈیمون کو معلوم ہو گیا کہ اْس کی بیٹی کہاں رہ رہی ہے۔ وہ سپاہیوں کے ساتھ بیلجیم پہنچا اور ڈِمفنا سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے ساتھ واپس آئرلینڈ چلیں اور اس سے شادی کریں۔ڈمفنا نے نہایت ثابت قدمی سے انکار کر دیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی زندگی صرف خداوند یسوع مسیح کے لیے وقف کر چکی ہیں اور کسی بھی قیمت پر اپنے ایمان اور پاکدامنی سے دستبردار نہیں ہوں گی۔نہ دھمکیاں، نہ دولت، نہ شاہی اقتدار اور نہ ہی موت کا خوف اْن کے ایمان کو متزلزل کر سکا۔اس پربادشاہ غصے سے پاگل ہو گیا۔
اْس نے پہلے فادر جیریبران کو قتل کرنے کا حکم دیا، کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ انہی نے ڈِمفنا کو بھاگنے پر آمادہ کیا تھا۔اس کے بعد اس نے آخری مرتبہ اپنی بیٹی کو مجبور کیا کہ وہ اس کی بات مان لے۔جب ڈِمفنا نے ایک بار پھر صاف انکار کر دیا تو بادشاہ نے جنون کی حالت میں اپنی تلوار نکالی اور اپنی ہی بیٹی کا سر قلم کر دیا۔اس وقت مقدسہ ڈِمفنا کی عمر صرف پندرہ سال تھی۔یوں انہوں نے اپنی پاکدامنی، ایمان اور خدا سے وفاداری کی خاطر شہادت کا تاج حاصل کیا۔
مقدسہ ڈِمفنا کی شہادت کے بعد اْن کی قبر پر بے شمار معجزات ظاہر ہونے لگے۔ خاص طور پر ذہنی بیماری، ڈپریشن، بے چینی، اعصابی مسائل اور جذباتی تکالیف میں مبتلا لوگوں نے اْن کی شفاعت کے وسیلے سے شفا، سکون اور اْمید حاصل کی۔وقت گزرنے کے ساتھ بیلجیم کا شہر گیل (Geel) دنیا بھر میں ذہنی مریضوں کی محبت، عزت اور ہمدردی سے دیکھ بھال کے لیے مشہور ہو گیا۔ وہاں کے لوگوں نے مقدسہ ڈِمفنا کی مثال پر عمل کرتے ہوئے صدیوں تک ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کو اپنے گھروں میں جگہ دی، اْن کی خدمت کی اور انہیں معاشرے کا قابلِ احترام فرد سمجھا۔
کیتھولک کلیسیا مقدسہ ڈِمفنا کو اْن تمام لوگوں کی سرپرست مقدسہ مانتی ہے جو ذہنی بیماری، ڈپریشن، بے چینی، جذباتی تکلیف، اعصابی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ دنیا بھر سے ہزاروں زائرین ہر سال اْن کی زیارت گاہ پر جا کر دْعا کرتے اور اْن کی شفاعت طلب کرتے ہیں۔
مقدسہ ڈِمفنا کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ خدا سے وفاداری ہر آزمائش سے بڑی ہے اور یہ کہ ذہنی اور جذباتی تکالیف میں مبتلا ہر انسان محبت، عزت، ہمدردی اور اْمید کا مستحق ہے۔ ان کی قربانی آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی ایمان انسان کو ہر خوف، ہر ظلم اور ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھتا ہے۔
اے مقدسہ ڈِمفنا، ذہنی بیماری، ڈپریشن، بے چینی اور جذباتی شفا کی سرپرست مقدسہ، ہمارے لیے دْعا کریں۔ آمین۔
