ریلوے اسٹیشن پر اکیلا ملنے والا کیرالا کا بچہ کاہن بن گیا۔
جنوبی بھارت کی ریاست کیرالا میں 28 برس قبل ریلوے اسٹیشن پر اکیلا ملنے والا پانچ سالہ بچہ اب کیتھولک کاہن بن چکا ہے۔ اس کی زندگی کا سفر بچپن کی بے سروسامانی سے شروع ہو کر خدمت اور کہانت کی راہ تک پہنچا۔فادر وویک مارٹن اب شمالی بھارت کے ڈایوسیس آف جھانسی کے کاہن ہیں۔ وہ شورنور ریلوے اسٹیشن پر اْس وقت ملے تھے جب اْن کے ساتھ خاندان کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔ مدد کے لیے آنے والے لوگوں سے اْن کی واحد درخواست تھی کہ بھائی، میں پڑھنا چاہتا ہوں۔اْن کی زندگی اْس وقت بدل گئی جب جیززیوتھ کے رْکن ریکسی ڈی کروز کی ملاقات ریلوے اسٹیشن پر ان سے ہوئی۔ قانونی اجازت حاصل کرنے کے بعد ریکسی اور اْن کے ساتھیوں پیٹرک، جوز، راجیش اور ٹونی نے ضرورت مند بچوں کو اپنے گھروں میں جگہ دینا شروع کی، جہاں انہیں تعلیم، تحفظ اور خاندان جیسا ماحول فراہم کیا گیا۔وویک نے اپنی زندگی کے اہم ابتدائی سال پیٹرک اور ان کی اہلیہ مانو کے ساتھ گزارے۔ وہ تعلیم میں نمایاں رہے اور بالآخر دسویں جماعت میں سکول کے لیڈر بھی منتخب ہوئے۔
دسویں جماعت مکمل کرنے کے بعد وویک نے کاہن بننے کی خواہش ظاہر کی۔ اگرچہ ابتدا میں انہیں کچھ عرصہ انتظار کرنے کا مشورہ دیا گیا، تاہم انہوں نے ہائر سیکنڈری تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈایوسیس آف جھانسی کی سیمنری میں داخلہ لے لیا۔ان کا سفر کیرالا کی اٹاپاڈی پہاڑیوں سے کوچین اور پھر اتر پردیش کے جھانسی تک پہنچا، جو کیرالا سے دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر ہے۔سیمنری میں داخل ہونے سے قبل وویک نے کیرالا کے الووا میں سنیہا تیرم کے ساتھ ایمبولینس ڈرائیور اور نگہداشت کرنے والے کے طور پر کام کیا۔ یہ ادارہ کیملین کاہنوں کی رہنمائی میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی خدمت کرتا ہے۔ یہاں کام کے تجربے نے ان میں انسانی دْکھ، ہمدردی اور خدمت کے جذبے کو مزید گہرا کیا۔
بشپ ولفریڈ موراس نے 16 اگست کو فادر وویک مارٹن کو کاہن مقرر کیا۔ انہوں نے 24 اگست کو ڈایوسیس آف وراپولی کے تحت انفنٹ جیزز چرچ، تھنڈاتھِن کڈاوو میں اپنی پہلی یوخرستی عبادت خدا کی نذر گزرانی۔فادر وویک کی کہانی اس بات کی گواہی سمجھی جا رہی ہے کہ ضرورت مند بچوں کو تعلیم، نگہداشت اور ایک محفوظ خاندانی ماحول فراہم کرنے سے ان کی زندگی کس طرح بدل سکتی ہے۔ ریکسی کی زیرِ کفالت پرورش پانے والے دو افراد کاہن بن چکے ہیں جبکہ دو اس وقت سیمنری میں کاہن بننے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
کندھامل سروائیورز ایسوسی ایشن کے سابق صدر بِپراچرن نائیک نے کہا کہ فادر وویک کا سفر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہمدردی اور تعلیم کس طرح ایک بچے کے مستقبل کو بدل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی بچے کی پہچان اس کے زندگی کے ابتدائی حالات سے نہیں ہونی چاہیے۔ جب ہمدردی بچے کو وقار دیتی ہے، تعلیم اسے مواقع فراہم کرتی ہے اور ایمان اسے مقصد عطا کرتا ہے تو ایک ایسی زندگی بھی جو تنہائی اور بے سروسامانی سے شروع ہوئی ہو، خدمت کی زندگی بن سکتی ہے۔مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی ڈوٹرز آف سینٹ این کی رکن سسٹر گوریتی نائیک نے کہا کہ فادر وویک کی کہانی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ ہر بچے کا اپنا وقار اور ایک مقصد ہے۔
سسٹر گوریتی نے کہا کہ ایک چھوٹا سا بچہ جو کبھی ریلوے پلیٹ فارم پر تنہا کھڑا تھا، ایسے لوگوں نے اپنے ساتھ لے لیا جنہوں نے اس کی مشکلات سے پہلے اس کے انسانی عظمت کو دیکھا۔ آج وہ قربان گاہ پر کھڑا ہے، اس چیز کی علامت بن کر نہیں کہ جو اْس نے کھو دیا، بلکہ اس بات کی گواہی بن کر کہ محبت، تعلیم، ہمدردی اور ایمان کیا کچھ تعمیر کر سکتے ہیں۔فادر وویک کے لیے ریلوے پلیٹ فارم سے قربان گاہ تک کا یہ سفر اب ان لوگوں کے ساتھ رہنے اور ان کی مدد کرنے کا پکار بن چکا ہے جو تنہائی اور دکھ کا سامنا کر رہے ہیں۔اِن کی کہانی ظاہر کرتی ہے کہ ایک ضرورت مند بچے کے لیے ہمدردی کا ایک عمل کس طرح اس کی پوری زندگی بدل سکتا ہے اور وقت کے ساتھ اس کے اندر موجود ایک روحانی بلاہٹ اور خدمت کے مقصد کو آشکار کر سکتا ہے۔
