جکارتہ میں فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسزکی 12ویں جنرل اسمبلی میں ایشیا میں کلیسیا کے آئندہ مشن پر غور کیا جائے گا۔

جکارتہ میں فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسزکی 12ویں جنرل اسمبلی میں ایشیا میں کلیسیا کے آئندہ مشن پر غور کیا جائے گا۔
جکارتہ میں فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسزکی 12ویں جنرل اسمبلی میں ایشیا میں کلیسیا کے آئندہ مشن پر غور کیا جائے گا۔

ایشیا بھر سے 120 سے زائد بشپ صاحبان، کلیسیائی رہنما، ماہرینِ الٰہیات اور پاسبانی امور کے ماہرین 20 سے 26 جولائی تک انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں جمع ہوں گے تاکہ ایشیا میں کلیسیا کے مستقبل کے مشن پر مشترکہ غور و خوض کر سکیں۔فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی 20 سے 26 جولائی تک جکارتہ میں منعقد ہوگی، جس میں ایشیا کے مختلف ممالک سے بشپ صاحبان، بشپ کانفرنسزکے نمائندگان، ویٹی کن کے عہدیداران، FABC کے مختلف دفاتر کے سیکریٹریز، ماہرینِ الٰہیات اور پاسبانی امور کے ماہرین سمیت 120 سے زائد شرکاء شرکت کریں گے۔ اس اجتماع کا مقصد ایشیا میں کلیسیا کے مستقبل کے مشن پر مشترکہ غور و فکر کرنا ہے۔
جکارتہ کے آرچ ڈایوسیس کی میزبانی میں ”ہوٹل مولیا سینایان“ میں منعقد ہونے والی یہ ہفتہ بھر کی جنرل اسمبلی”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل اور پل بنانے والے بننے کا مشن“ کے موضوع پر منعقد ہوگی۔ اس کا الہام مقدس بائبل کے اس کلام سے لیا گیا ہے: ”تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“ (یوحنا 1:50)۔
21 جولائی کو جنرل اسمبلی کا آغاز یوخرستی قربانی سے ہوگا، جس کی قیادت کارڈینل اوسوالڈ گریشیاس ممبئی (بھارت) کے ایمیرتیس آرچ بشپ، کریں گے۔ وہ اس موقع پرپاپائے اعظم کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے شریک ہوں گے۔
22 جولائی کو دْعا اور دھیان وگیان کے لیے مخصوص ایک مکمل دن رکھا گیا ہے، جس کی قیادت کارڈینل لوئس انتونیو ٹیگلے،ڈکاسٹری برائے بشارت کے پرو۔پریفیکٹ کریں گے۔ ان کا دھیان و گیان سنڈی روحانیت، پل تعمیر کرنے کے مشن اور ایشیا میں کلیسیائی رہنماؤں کے لیے درکار پاسبانی تبدیلی پر مرکوز ہوں گی۔
اس کے بعد کے دنوں میں ایشیا کی بدلتی ہوئی سماجی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال پر مختلف لیکچرز اور مباحثے منعقد ہوں گے۔ مرکزی اجلاسوں میں بدلتی ہوئی دنیا میں کلیسیا کی سنڈی گواہی، ایشیا کے بدلتے ہوئے حالات اور کلیسیا کے پل تعمیر کرنے والے کردار کو مزید مضبوط بنانے کے عملی طریقوں پر غور کیا جائے گا۔شرکاء گروہی گفت وشنید، علاقائی مشاورت اور پینل سیشنز میں بھی حصہ لیں گے، جہاں سنڈی قیادت، پاسبانی خدمات اور مقامی کلیسیاؤں کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
 25 جولائی کو پاپائے اعظم لیو چہاردہم کا خصوصی پیغام بھی موصول ہوگا۔26جولائی کو جنرل اسمبلی کا اختتام جکارتہ کے ”کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف دی اسمپشن“ میں یوخرستی عبادت سے ہوگا۔ اس کے بعد شرکاء ”فرینڈشپ ٹرنل“کے ذریعے قریبی”استقلال مسجد“ کا دورہ کریں گے، جو انڈونیشیا میں بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
آئندہ جنرل اسمبلی کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ریورنڈفادر جان می شین، FABC دفتر برائے سماجی ذرائع ابلاغ کے ایگزیکٹو سیکریٹری، نے اس اجتماع کو محض ایک کلیسیائی تقریب سے کہیں بڑھ کر قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ ایشیا کی کلیسیاؤں کے لیے ایک ایسا موقع ہے کہ وہ ایک دوسرے کی بات سنیں، اپنے مشترکہ مشنری عزم کی ازسرِنو تجدید کریں۔ ذرائع ابلاغ کی خدمت کے ذریعے ہماری خواہش ہے کہ ہم ایمان کے اس مشترکہ سفر میں کلیسیا کا ساتھ دیں اور اس کے ثمرات ایشیا سمیت دنیا بھر کے کیتھولک ایمانداروں تک پہنچائیں، تاکہ کلیسیائی رفاقت، فعال شمولیت اور مشن کے جذبے کو مزید فروغ حاصل ہو۔
فادر جان می شین، جو ریڈیو ویریتاس ایشیا (RVA) کے پروگرام ڈائریکٹر بھی ہیں، جکارتہ کے آرچ ڈایوسیس اور انڈونیشیا کی کیتھولک بشپ کانفرنس (KWI) کی ابلاغی ٹیموں کے تعاون سے جنرل اسمبلی کی میڈیا کوریج کی نگرانی کریں گے، تاکہ اس اجتماع کے دھیان وگیان، گفت وشنید اور فیصلے ایشیا بھر کی کلیسیاؤں تک مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔
اس اجتماع سے اپنی توقعات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کیتھولک بشپ کانفرنسکے صدر بشپ سیمسن شوکردین نے اْمید ظاہر کی کہ یہ جنرل اسمبلی ایشیا کے لیے ایک متحد، قابلِ عمل اور مؤثر پاسبانی لائحہ عمل مرتب کرے گی، جو محض اعلانات اور بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ مقامی سطح پر ٹھوس اور عملی اقدامات کی صورت اختیار کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ بالخصوص میری خواہش ہے کہ مختلف بشپ کانفرنسزکے درمیان باہمی تعاون کے مضبوط نیٹ ورک قائم ہوں، نوجوانوں اور قیادت کی تربیت کے لیے علاقائی پروگراموں کو مزید تقویت ملے، اور ایشیا کی کیتھولک کلیسیا انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے عالمی سطح پر ایک مضبوط، واضح اور متحد آواز بن کر اْبھرے۔