ایشیا میں مکالمہ، سنڈ ی سفر اور اتحاد کے فروغ کے لیے انڈونیشیا کی کیتھولک کلیسیا پْرعزم

ایشیا میں مکالمہ، سنڈ ی سفر اور اتحاد کے فروغ کے لیے انڈونیشیا کی کیتھولک کلیسیا پْرعزم
ایشیا میں مکالمہ، سنڈ ی سفر اور اتحاد کے فروغ کے لیے انڈونیشیا کی کیتھولک کلیسیا پْرعزم

مورخہ20 تا26 جولائی 2026 کو انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز کی جنرل اسمبلی منعقد ہونے جا رہی ہے، جس میں ایشیا بھر سے کیتھولک بشپ صاحبان شرکت کریں گے۔ اس موقع پر انڈونیشیا کی کیتھولک کلیسیا نے ایک مرتبہ پھر مکالمے، سنڈی طرزِ زندگی اور مختلف برادریوں کے درمیان پل تعمیر کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل اور پْل بنانے والے بننے کا مشن“کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس جنرل اسمبلی میں ایشیا کے مختلف ممالک سے آنے والے کلیسیائی رہنما براعظم کی تیزی سے بدلتی ہوئی سماجی، ثقافتی اور مذہبی صورتحال کے تناظر میں کلیسیا کے مشن پر غور کریں گے۔انڈونیشیا کی کیتھولک کلیسیا کے لیے اس اہم کانفرنس کی میزبانی محض قومی اعزاز نہیں بلکہ ایک ایسا موقع بھی ہے جس کے ذریعے وہ ایشیا کی کلیسیا کے ساتھ اپنا وہ تجربہ بانٹ سکتی ہے جس میں مذہبی، نسلی اور ثقافتی تنوع کے درمیان انجیل کی خوشخبری سنانا، اس کی شناخت اور مشن کا بنیادی حصہ بن چکا ہے۔
جکارتہ کی ”یونیورسیتاس انڈونیشیا“ کے گریجویٹ اسکول آف سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کی لیکچرار ”ڈاکٹر ماریا پسپیتاساری“ کے مطابق، انڈونیشیا کی کلیسیا نے ایسی منفرد پاسبانی خصوصیات پیدا کی ہیں جو ایشیا کی وسیع تر کلیسیا کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہیں، اگرچہ اسے اب بھی بعض چیلنجز کا سامنا ہے جن کے لیے مسلسل تجدید اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ماریا پسپیتاساری آرچ ڈایوسیس آف جکارتہ کے کمیشن برائے ایمانداروں کی رسولی خدمت اور کمیشن برائے سماجی ذرائع ابلاغ میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں، جہاں ان کی توجہ عوامی شمولیت، کلیسیائی ابلاغ اور بشارت پر مرکوز رہی۔ان کے مطابق، ایشیا کی کلیسیا کے لیے انڈونیشیا کا سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ اس نے تنوع کو اختلاف نہیں بلکہ ملاقات، باہمی احترام اور تعاون کا ذریعہ بنایا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک میں ایک اقلیت کے طور پر زندگی گزارنے نے کیتھولک کلیسیا کو یہ سکھایا ہے کہ بین المذاہب مکالمہ صرف ایک وقتی سرگرمی نہیں بلکہ روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ انڈونیشیا کے قومی نظریے”پنچاسیلا“جو مذہبی آزادی، باہمی احترام اور قومی اتحاد کی ضمانت دیتا ہے، کی روشنی میں کیتھولک افراد نے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مل کر امن، سماجی ہم آہنگی اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کیا ہے۔ڈاکٹر پسپیتاساری کہتی ہیں کہ یہ تجربہ FABC کے اس دیرینہ وژن کی بھرپور عکاسی کرتا ہے جس کے مطابق ایشیا میں کلیسیا کی نمایاں پہچان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور اقوام کے ساتھ مکالمہ ہے۔ان کے نزدیک حقیقی بین المذاہب مکالمہ صرف مذہبی مباحث تک محدود نہیں رہتا بلکہ غربت، ماحولیاتی آلودگی، انسانی بحرانوں اور دیگر مشترکہ سماجی مسائل کے حل کے لیے عملی تعاون اور یکجہتی کی صورت اختیار کرتا ہے۔ یہی عملی خدمت مکالمہ کی حقیقی روح ہے۔
وہ سنڈی طرزِ زندگی کو بھی کلیسیا کے مستقبل کے لیے نہایت اہم قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق، ”سِدانگ آگُنگ گیریجا کاتولک انڈونیشیا (SAGKI)“ نے 1995 سے قومی سطح پر کلیسیائی غور و فکر اور پاسبانی منصوبہ بندی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ تاہم اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سنڈی روح بشپ صاحبان، کاہنوں، مذہبی افراد اور عام ایمانداروں کے درمیان باہمی مشاورت، شرکت اور مشترکہ ذمہ داری کے ذریعے ہر پیرش اور ڈایوسیس کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے۔
انڈونیشیا کی کلیسیا نے مقامی ثقافتوں کو اپنانے کے میدان میں بھی قابلِ قدر مثال قائم کی ہے۔ مقامی زبانیں، روایتی موسیقی، مقامی فنون اور ثقافتی علامات عبادت اور کلیسیائی زندگی میں شامل کی گئی ہیں، جو اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ انجیل مختلف ثقافتوں میں اپنی اصل روح برقرار رکھتے ہوئے جڑ پکڑ سکتی ہے۔اسی طرح تعلیم، صحت اور سماجی خدمات کے شعبوں میں کیتھولک کلیسیا کی طویل خدمات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ کیتھولک سکول، ہسپتال اور فلاحی ادارے مذہب اور نسل کی تفریق کے بغیر تمام انڈونیشیائی شہریوں کی خدمت کرتے رہے ہیں، جس سے مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد اور خیرسگالی کو فروغ ملا ہے۔تاہم ڈاکٹر ماریا پسپیتاساری اس بات کا بھی اعتراف کرتی ہیں کہ کلیسیا کو آج بھی کئی اہم چیلنجز درپیش ہیں، جن میں کاہنوں اور مذہبی افراد کی تعداد میں کمی، شہری اور دور دراز علاقوں کے درمیان پاسبانی وسائل کا غیر مساوی ہونا، اور عبادت گاہوں سے متعلق عملی مشکلات شامل ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مسلسل تخلیقی سوچ اور باہمی تعاون ضروری ہے۔ڈیجیٹل دور بھی کلیسیا کے لیے بیک وقت مواقع اور چیلنجز لے کر آیا ہے۔ اگرچہ ڈیجیٹل ذرائع نے خوشخبری سنانے اور پاسبانی خدمات کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، لیکن غلط معلومات، معاشرتی تقسیم اور انتشار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ کے شعبے میں اپنے تجربے کی بنیاد پر ڈاکٹر پسپیتاساری اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ڈیجیٹل خواندگی، اخلاقی ابلاغ اور ذمہ دار عوامی گواہی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ٹیکنالوجی اختلاف کا نہیں بلکہ مکالمے اور اتحاد کا ذریعہ بن سکے۔
جکارتہ میں ایشیا بھر کے بشپ صاحبان کے اجتماع کے موقع پر انڈونیشیا کی کیتھولک کلیسیا کو اْمید ہے کہ اس کا یہ تجربہ سنڈی سفر اور کلیسیائی مشن کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وہ صرف مہمان نوازی ہی نہیں بلکہ مکالمے، خدمت، ثقافتی کشادگی اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ تعاون کے اپنے عملی تجربے کو بھی ایشیا کی کلیسیا کے ساتھ بانٹنا چاہتی ہے۔
ڈاکٹر ماریا پسپیتاساری کے مطابق، ”FABC“ کی یہ جنرل اسمبلی ایشیا کی کلیسیا کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ خدا کے ایک خاندان کی حیثیت سے مل کر چلنے کے اپنے عزم کی تجدید کرے اور ایک ایسے معاشرے میں، جو مسلسل زیادہ متفرق اور باہم مربوط ہوتا جا رہا ہے، نئے چیلنجز کا حکمت، تخلیقی سوچ اور مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ جواب دے۔ کلیسیائی تجربہ، علمی مہارت اور مشترکہ بھلائی کے لیے ان کا  عزم اس عوامی قیادت کی بہترین مثال ہے جو ایشیا میں پل تعمیر کرنے کے کلیسیا کے مشن کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔