فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز کے اجلاس سے قبل انڈونیشیا کی کلیسیا مکالمہ کی ایک مؤثر مثال پیش کرتی ہے۔

 فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز کے اجلاس سے قبل انڈونیشیا کی کلیسیا مکالمہ کی ایک مؤثر مثال پیش کرتی ہے۔
فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز کے اجلاس سے قبل انڈونیشیا کی کلیسیا مکالمہ کی ایک مؤثر مثال پیش کرتی ہے۔


دنیا کے مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے مختلف ممالک میں سے ایک، انڈونیشیا میں ایک اقلیتی برادری کے طور پر زندگی بسر کرتے ہوئے، کیتھولک کلیسیا نے طویل عرصے سے مختلف مذاہب، ثقافتوں اور معاشرتی طبقات کے درمیان مکالمے، بھائی چارے اور باہمی تعاون کی مضبوط روایت قائم کی ہے۔فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) اپنی بارہویں کل رکنی مجلس کے انعقاد کی تیاری کر رہی ہے، جو 20 تا 26 جولائی 2026 کوجکارتہ میں منعقد ہوگی، تو انڈونیشیا کی کیتھولک کلیسیا اپنے اس منفرد کلیسیائی تجربے کو ایشیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار ہے، جو مکالمہ، تنوع اور خدمت کی بنیاد پر پروان چڑھا ہے۔
‘‘تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا ’’ (یوحنا 1:50): سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پل اور پل بنانے والے بننے کا مشن۔ایشیا بھر سے بشپ صاحبان جکارتہ میں جمع ہوں گے تاکہ دْعا، غور و فکر اور روحانی امتیاز کے ذریعے کلیسیا کے تبلیغی مشن کو نئی تازگی عطا کریں۔انڈونیشیا کی کیتھولک کلیسیا کے لیے یہ وژن کوئی نیا تصور نہیں۔ دنیا کے مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے مختلف معاشرے میں ایک اقلیتی برادری ہونے کے باعث، یہاں کے کیتھولک مسیحی برسوں سے کشادہ دلی، تنوع کے احترام اور مختلف مذاہب و ثقافتوں سے مسلسل مکالمہ کے ذریعے انجیل کی گواہی دیتے آئے ہیں۔ یہی عملی تجربہ ایشیا کی کلیسیا کے لیے انڈونیشیا کا ایک نمایاں اور منفرد تحفہ بن چکا ہے۔
تنوع میں زندہ کلیسیا
انڈونیشیا ہزاروں جزیروں، سینکڑوں نسلی گروہوں، مقامی زبانوں اور مختلف مذہبی روایات کا حامل ملک ہے۔ یہاں کیتھولک آبادی ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً تین فیصد ہے۔ایک اقلیت ہونے کے ناطے، کلیسیا نے یہ سیکھا ہے کہ انجیل کی گواہی کشادہ دلی، باہمی احترام اور مختلف مذاہب و ثقافتوں کے ماننے والوں کے ساتھ مسلسل مکالمے کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔یہی تجربہ 1970 میں ایف اے بی سی کے قیام سے اب تک اس کے بنیادی نصب العین کی بھرپور عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد ثقافتوں، مذاہب، اقوام، خصوصاً غریبوں اور معاشرے کے محروم طبقات کے ساتھ مکالمے کے ذریعے ایک حقیقی ایشیائی کلیسیا کی تعمیر ہے۔
بارہویں کل رکنی مجلس کا موضوع بھی 2022 میں بینکاک میں منعقد ہونے والی FABC کی پچاسویں جنرل کانفرنس کے جذبے کو آگے بڑھاتا ہے، جس نے کلیسیا کو دعوت دی تھی کہ وہ ‘‘ایشیا کے عوام کے ساتھ مل کر سفرــ’’ جاری رکھے اور غریبوں، نوجوانوں، مہاجرین، مقامی اقوام اور ماحولیاتی بحران سے متاثرہ تخلیق کی آواز کو توجہ سے سْنے۔
 ایسی کلیسیا جو پل تعمیر کرتی ہے۔
ایف اے بی سی کے روحانی و پاسبانی وژن کے مطابق ‘‘پل بنانے والی کلیسیا’’ ہونے کا مفہوم صرف بین المذاہب مکالمے تک محدود نہیں۔کلیسیا کے اندر یہ دعوت موجود ہے کہ وہ باہمی سماعت، شمولیت، شفافیت، جوابدہی اور خدا کے تمام لوگوں کی فعال شرکت کے ذریعے مضبوط روابط قائم کرے۔جبکہ بیرونی سطح پر کلیسیا کو مکالمے، مفاہمت اور امن کا مؤثر ذریعہ بننے کی دعوت دی جاتی ہے۔اس حوالے سے انڈونیشیا کا تجربہ نہایت قیمتی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
مسلمانوں، پروٹسٹنٹس، ہندوؤں، بدھ مت کے ماننے والوں، کنفیوشس ازم کے پیروکاروں اور مقامی برادریوں کے ساتھ صدیوں پر محیط بقائے باہمی نے تعاون کی ایسی ثقافت کو فروغ دیا ہے، جو کیتھولک تعلیمی اداروں، طبی مراکز، قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیوں، انسانی ہمدردی کے منصوبوں اور سماجی خدمات کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے، جہاں مذہب یا پس منظر سے قطع نظر ہر شخص کی خدمت کی جاتی ہے۔
انڈونیشیا نے مقامی ثقافتی رنگ کی ایک بھرپور روایت کوبھی فروغ دیا ہے، جس کے تحت مقامی زبانوں، موسیقی، فنون اور ثقافتی روایات کو عالمگیر کلیسیا سے وفاداری برقرار رکھتے ہوئے عبادات کا حصہ بنایا گیا ہے۔اسی طرح پنچاسیلا میں بسا ہوا انسانی وقار، قومی اتحاد، مشاورتی جمہوریت اور سماجی انصاف کی اقدار نے بھی بھائی چارے اور یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ملک بھر میں قائم ہزاروں کیتھولک اسکول، اسپتال، یتیم خانے، بزرگوں کی نگہداشت کے مراکز اور فلاحی ادارے اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ بشارت صرف منادی کا نام نہیں بلکہ انسان کی عزت و وقار کو برقرار رکھتے ہوئے ہمدردانہ خدمت بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔
 مواقع اور چیلنجز
تیزی سے فروغ پاتی ڈیجیٹل دنیا اور انڈونیشیا کی نوجوان آبادی کلیسیا کے لیے بشارت اور مکالمے کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔نوجوان کیتھولک اب جدت، مؤثر ابلاغ اور تبلیغی سرگرمیوں کے ذریعے سنڈی کلیسیا کی تعمیر میں فعال شراکت دار بننے کی دعوت پا رہے ہیں۔اسی طرح انڈونیشیا کا غیر معمولی حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے اس کی حساسیت کلیسیا کو ماحولیاتی تبدیلیِ فکر کی ایک مؤثر گواہ بننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔تخلیق کی حفاظت اب کلیسیا کے مشن کا بنیادی حصہ بن چکی ہے تاکہ ہمارے مشترکہ گھر کی نگہبانی کی جا سکے اور ماحولیات سے متاثرہ برادریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔تاہم، کلیسیا کو کئی اہم پاسبانی چیلنجز کا بھی سامنا ہے، جن میں سیکولرازم، انفرادیت پسندی، مصنوعی ذہانت، غلط معلومات کا پھیلاؤ، سماجی تقسیم اور ابلاغ کے بدلتے ہوئے ذرائع شامل ہیں۔
سنڈی تبدیلی اِس اَمر کی بھی متقاضی ہے کہ عام مومنین کی شرکت میں اضافہ ہو، نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے، خواتین کو قیادت اور فیصلہ سازی میں مؤثر کردار دیا جائے، انتظامی شفافیت کو فروغ دیا جائے اور زیادہ شمولیتی ڈھانچے تشکیل دیے جائیں۔ اسی طرح غربت، ہجرت، انسانی اسمگلنگ، معاشی عدم مساوات اور ماحولیاتی بحران جیسے مسائل کلیسیا، حکومتوں، سول سوسائٹی اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مزید گہرے تعاون کا تقاضا کرتے ہیں۔
 مل کر سفر کرنا
بارہویں ایف اے بی سی کل رکنی مجلس کی میزبانی انڈونیشیا کی کیتھولک کلیسیا کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں کے ساتھ اپنا تجربہ بانٹے۔یہ صرف ایک پاسبانی نمونہ پیش کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ ایسی زندہ گواہی ہے کہ ایک کلیسیا کس طرح تنوع کے درمیان مکالمہ، خدمت، یکجہتی اور بھائی چارے کے ذریعے ترقی کر سکتی ہے۔مسیح کے اس وعدے کے مطابق، ‘‘تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا ’’ (یوحنا 1:50) ایشیا کی کلیسیاؤں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ سنڈی تبدیلی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے ایسے پْل بنیں جو انسان کو خدا سے جوڑیں، قوموں کے درمیان مفاہمت کو فروغ دیں اور تخلیق کی نگہداشت کے لیے نئے عزم کو تقویت بخشیں۔
انڈونیشیا سے پورے ایشیا کے لیے یہی پیغام پیش کیا جا رہا ہے کہ ایمان، اْمید اور محبت کے ساتھ مل کر چلنے والی کلیسیا ایک تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں امن، انصاف اور باہمی رفاقت کی زیادہ معتبر اور روشن علامت بن سکتی ہے۔