آرچ بشپ مارکو ٹن وِن نے FABC کے شرکاء پر خدا کے فضل کے لیے دل کْھلے رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
آرچ بشپ مارکو ٹن وِن نے 23 جولائی کو فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کے چوتھے روز یوخرستی عبادت کی قیادت کرتے ہوئے کلیسیا کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ خدا کے فضل کے لیے اپنے دلوں کو کْھلا رکھیں، کیونکہ یہی رویہ کلیسیا کو انجیل کی ایک معتبر گواہ اور ایشیا میں امَن و مکالمہ کے پْل تعمیر کرنے والی جماعت بناتا ہے۔میانمار سے تعلق رکھنے والے آرچ بشپ نے یہ پیغام 23 جولائی کو جکارتہ کے ہوٹل مولیا میں منعقد ہونے والی 12ویں جنرل اسمبلی کے دوران پیش کیا۔
یوخرستی عبادت کی قیادت آرچ بشپ مارکو ٹن وِن نے جبکہ پاکستان کے آرچ بشپ خالد رحمت اور تائیوان کے بشپ جان بیپٹسٹ لی کیہ میئن نے معاونت فرمائی۔اپنے وعظ میں آرچ بشپ نیانجیلِ مقدس بمطابق متی، باب 13 پر غور کرتے ہوئے شاگردوں کے اِس سوال کا حوالہ دیاکہ آپ لوگوں سے تمثیلوں میں کیوں بات کرتے ہیں؟ انہوں نے وضاحت کی کہ یسوع نے تمثیلوں کو محض تعلیم دینے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ان کے ذریعے لوگوں کو خدا کی بادشاہی کے بھید میں داخل ہونے کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ تمثیلیں انسانی دل کو چھو کر الٰہی سچائی کو آشکار کرتی ہیں۔ ایک کہانی اکثر محض تجزیے سے کہیں زیادہ گہرا اثر چھوڑتی ہے اور سننے والوں کے ذہنوں میں دیر تک باقی رہتی ہے۔آرچ بشپ نے زور دیا کہ انجیل میں دیکھنے اور سننے کی دعوت صرف جسمانی آنکھوں اور کانوں تک محدود نہیں بلکہ اصل اہمیت اْس دل کی ہے جو خدا کے فضل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔
انہوں نے کہا کہ دیکھنے، سننے اور سمجھنے کے لیے ایسا دل درکار ہے جو خدا کے فضل کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ جب دل فضلِ الٰہی کے لیے کْھلتا ہے تو انسان کا ذہن زندگی کو خدا کی نظر سے دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ روح القدس کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک حکمت ہے، جو مومنین کو صرف علم ہی نہیں دیتی بلکہ الٰہی سچائی کو سمجھنے اور خدا کے کلام کو اپنی زندگیوں میں اثر انداز ہونے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔آرچ بشپ مارکو ٹن وِن نے یسوع کی تمثیلوں کو ”مقدس پردے“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہی وقت میں خدا کے بھیدوں کو چھپاتی بھی ہیں اور ظاہر بھی کرتی ہیں۔ جو لوگ عاجزی کے ساتھ سچائی کے متلاشی ہوتے ہیں، ان کے لیے یہ تمثیلیں خدا کے دل کی کھڑکیاں بن جاتی ہیں، جبکہ جن کے دل بند ہوتے ہیں، ان کے لیے یہ گہری توبہ اور تبدیلی کی دعوت ثابت ہوتی ہیں۔انہوں نے ایشعیا نبی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کے دل روحانی طور پر بے حس ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود مسیح کبھی بھی خدا کے کلام کا بیج بونا نہیں چھوڑتے۔انہوں نے کہا کہ یسوع ملامت نہیں کرتا بلکہ افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ اس کے باوجود وہ کبھی ہمت نہیں ہارتا۔ وہ مسلسل تعلیم دیتا اور ہر دل میں خدا کے کلام کا بیج بوتارہتاہے، چاہے زمین کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو۔
ان کا وعظ 12ویں جنرل اسمبلی کے مرکزی موضوع سے ہم آہنگ تھا، جس میں سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل تعمیر کرنے کے کلیسیائی مشن پر غور کیا جا رہا ہے۔ آرچ بشپ نے کہا کہ یہ مشن حکمتِ عملیوں یا تنظیمی ڈھانچوں سے نہیں بلکہ ایسے دلوں سے شروع ہوتا ہے جو خدا کے فضل سے تبدیل ہو چکے ہوں اور اس کے کلام کو پوری توجہ سے سنتے ہوں۔
اس کلام نے دن کے اجلاسوں کے لیے فضا ہموار کی، جن میں مونسیگنور توماش ہالِک، جو پراگ کی چارلس یونیورسٹی میں عمرانیات کے پروفیسر ہیں، نے عالمی جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں پر خطاب کیا، جبکہ ڈاکٹر چونگ پوئی یی، جو یونیورسٹی آف ملایا کے شعبہ جنوب مشرقی ایشیائی مطالعات سے وابستہ ہیں، نے ایشیا کی بدلتی ہوئی حقیقتوں اور کلیسیا کی اس دعوت پر روشنی ڈالی کہ وہ مکالمہ، مفاہمت اور رفاقت کے لیے وقف ایک بشارتی سنڈی جماعت بنے۔