ایشیا میں کلیسیا کی سب سے بڑی گواہی اتحاد ہونا چاہیے،فادر کلارنس دیواداس

فادر کلارنس دیواداس
فادر کلارنس دیواداس

جکارتہ میں فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی جاری ہے۔ اس موقع پر ریڈیو ویریتاس ایشیا (RVA) نے FABC کے ایسوسی ایٹ سیکرٹری، کمیشن برائے سنڈیلٹی کے ایگزیکٹو سیکرٹری اور جنرل اسمبلی کے اہم منتظمین میں سے ایک فادر کلارنس دیواداس ے خصوصی گفتگو کی۔اس انٹرویو میں انہوں نے جنرل اسمبلی سے وابستہ توقعات، ایشیا میں کلیسیا کے ”پْل بنانے والے مشن“، براعظم کو درپیش اہم پاسبانی چیلنجز اور مقامی کلیسیاؤں کے درمیان رفاقت کو مضبوط بنانے میں FABC کے کردار پر روشنی ڈالی۔

٭آپ کی نظر میں اس جنرل اسمبلی کا سب سے اہم پھل کیا ہوگا جسے بشپ صاحبان اپنی مقامی کلیسیاؤں میں لے کر جائیں گے؟
 ہماری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ سنڈیلٹی صرف ایک طریقہ کار نہ رہے بلکہ طرزِ زندگی بن جائے۔ سنڈیلٹی محض فیصلے کرنے یا کام کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ ایک روحانیت ہے۔ہم اْمید کرتے ہیں کہ یہ سنڈی روحانیت ایشیا بھر کے پیرشز، ڈایوسیس اور پوری کلیسیا میں پروان چڑھے گی۔ اس کے ذریعے ہم ایک ایسی کلیسیا بنتے ہیں جو مل کر سفر اور ترقی کرتی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ اس اسمبلی کے بعد بشپ صاحبان، کاہنوں اور عام مومنین کے درمیان رفاقت کا جذبہ مزید مضبوط ہو۔ اس اجتماع کا ایک بنیادی مقصد بشپ صاحبان میں سنڈی طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔

٭جنرل اسمبلی کا موضوع کلیسیا کو ”پْل اور پْل بنانے والے“بننے کی دعوت دیتا ہے۔ ایشیا کے تناظر میں اس کا کیا مطلب ہے؟

ایشیا کے بیشتر ممالک میں کیتھولک اور عمومی طور پر مسیحی اقلیت میں ہیں، اور یہی صورتِ حال کلیسیا کو ایک منفرد مشن عطا کرتی ہے کہ وہ معاشرے میں پل کا کردار ادا کرے۔ہمارے براعظم میں مذاہب، نسلی گروہوں اور حتیٰ کہ ممالک کے درمیان بھی تقسیم موجود ہے۔ ایسے حالات میں کلیسیا کو امن، مفاہمت اور اتحاد کا ذریعہ بننے کی دعوت دی گئی ہے۔یہ ذمہ داری صرف معاشرے تک محدود نہیں بلکہ کلیسیا کے اندر بھی ہے، جہاں بشپ صاحبان، کاہنوں، مذہبی افراد اور عام مومنین کے درمیان بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کلیسیا کو ان اختلافات کے باوجود اتحاد کی قوت بننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پْل بنانے کا مطلب لوگوں کو آپس میں جوڑنا، مکالمہ کو فروغ دینا اور برادریوں کو امن کے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد دینا ہے۔ یہی کلیسیا کا مشن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس جنرل اسمبلی میں تقریباً 150 شرکاء شریک ہوئے ہیں، اور اْمید ہے کہ وہ اپنے اپنے ممالک واپس جا کر سنڈیلٹی کے سفیر اور اپنی برادریوں میں مثبت تبدیلی کے محرک بنیں گے۔

فادر دیواداس
فادر دیواداس

٭ اس وژن کو عملی جامہ پہنانے میں ایشیا کی کلیسیا کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے؟

انہوں نے کہا کہ چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔سماجی کشیدگی اور عدم استحکام کے علاوہ کلیسیا کو بڑھتے ہوئے نظریاتی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ان کے مطابق سیکولرازم، صارفیت اور سرمایہ دارانہ سوچ معاشروں پر گہرا اثر ڈال رہی ہے، جبکہ غربت، بدعنوانی، ہجرت اور ماحولیاتی تباہی بھی ایشیا کے اہم مسائل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہی حالات میں کلیسیا کو صرف اپنے اندر نہیں بلکہ پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بننا ہوگا۔جیسا کہ انجیلِ مقدس متی ہمیں یاد دلاتی ہے، ہم زمین کا نمک اور دنیا کا نور بننے کے لیے بلائے گئے ہیں۔

٭اگر آپ ایشیا کی کلیسیا کو صرف ایک پیغام دینا چاہیں تو وہ کیا ہوگا؟

انہوں نے مختصر مگر پراثر جواب دیا ”اتحاد“،انہوں نے کہا کہ ایشیا بے شمار ثقافتوں، زبانوں اور روایات کا براعظم ہے۔ اگر ہم صرف اختلافات پر نظر رکھیں گے تو وہ رکاوٹ بن جائیں گے، لیکن اگر ہم ان چیزوں پر توجہ دیں جو ہمیں جوڑتی ہیں تو کلیسیا ترقی کرتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ بشپ صاحبان، کاہن، مذہبی افراد اور عام مومنین سب کی اپنی اپنی منفرد ذمہ داریاں ہیں، مگر سب ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کلیسیا کو درپیش ایک بڑا مسئلہ بے حسی ہے، یعنی یہ سوچ کہ کلیسیا کے مسائل کسی اور کی ذمہ داری ہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بپتسمہ کے ذریعے ہم سب خدا کے لوگ بنتے ہیں۔ کلیسیا صرف بشپ صاحبان یا کاہنوں کی نہیں 
 بلکہ تمام بپتسمہ یافتہ مؤمنین کی ہے، اور اس کی تعمیر و ترقی کی ذمہ داری ہم سب پر یکساں عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی کلیسیا کامل نہیں کیونکہ وہ انسانوں پر مشتمل ہے۔ اگر ہم صرف اس کی کمزوریوں پر نظر رکھیں گے تو وہ آگے نہیں بڑھ سکے گی، لیکن اگر ہم خدا کی عطا کردہ نعمتوں کو پہچانیں اور ان سے فائدہ اٹھائیں تو کلیسیا مسلسل ترقی کرتی رہے گی۔

٭ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں کی معاونت میں FABC کا بنیادی مشن کیا ہے؟

فادر دیواداس نے کہا کہ FABC کا بنیادی مقصد ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں کے درمیان رفاقت کو مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ FABC ایشیا بھر کے کیتھولک تحقیقی اداروں کا ایک نیٹ ورک قائم کر رہا ہے تاکہ وہ باہمی تعاون، وسائل کے تبادلے اور مشترکہ تحقیق کو فروغ دے سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ FABC مقامی کلیسیاؤں کی نگرانی یا ان پر حکمرانی کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ ایشیا کی بشپ کانفرنسوں کی برادرانہ رفاقت ہے، جو ضرورت کے وقت ان کی حوصلہ افزائی اور معاونت کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا کردار مقامی کلیسیاؤں کے ساتھ چلنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کے اپنے پاسبانی حالات کے مطابق ان کی مدد کرنا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ ایشیا اپنی ثقافتوں، زبانوں اور معاشروں کے اعتبار سے بے حد متنوع براعظم ہے، اور FABC ایک ایسے پْل کا کردار ادا کرتا ہے جو مختلف مقامی کلیسیاؤں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے سیکھ سکیں، اپنے تجربات بانٹ سکیں اور رفاقت اور مشن میں مل کر آگے بڑھ سکیں۔