ورلڈ یوتھ ڈے سیول 2027 کے منتظمین نے FABC کے شرکاء کو محفوظ، منظم اور پائیدار زیارت کی یقین دہانی کرائی۔
ورلڈ یوتھ ڈے سیول 2027 کے منتظمین نے ایشیا بھر سے آئے ہوئے کلیسیائی رہنماؤں کو یقین دلایا ہے کہ اس عالمی اجتماع کی تیاریاں صرف انتظامی امور تک محدود نہیں بلکہ نوجوان زائرین کے لیے محفوظ، اور روحانی طور پر بامعنی تجربہ کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہیں۔یہ تعارفی اجلاس 23 جولائی کی شام فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC)کی 12ویں جنرل اسمبلی کے دوران جکارتہ کے ہوٹل مولیا کے وانڈا ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بشپ صاحبان اور شرکاء کو ورلڈ یوتھ ڈے سیول 2027 کی تیاریوں سے آگاہ کیا گیا، جبکہ انہیں رہائش، آمدورفت، تحفظ اور دیگر عملی امور سے متعلق سوالات پوچھنے کا بھی موقع ملا۔
اجلاس کی قیادت سیول کے معاون بشپ پال کیونگ سانگ لی نے کی، جو ورلڈ یوتھ ڈے سیول 2027 کے جنرل کوآرڈینیٹر بھی ہیں۔اپنے تعارفی خطاب میں بشپ لی نے کوریا میں کیتھولک کلیسیا کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کلیسیا ظلم و ستم، جنگ اور امن و جمہوریت کی طویل جدوجہد کے دوران پروان چڑھی ہے۔انہوں نے کہاکہ کوریا کی کلیسیا آسائش میں نہیں بلکہ مصائب کی سرزمین پر پروان چڑھی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسی تاریخی پس منظر کی روشنی میں ورلڈ یوتھ ڈے سیول 2027 صرف نوجوانوں کا ایک بین الاقوامی اجتماع نہیں ہوگا بلکہ اس کا مقصد نوجوانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ اْمید کس طرح تاریخی زخموں سے جنم لے سکتی ہے اور ایمان مشکلات کے باوجود کیسے پھلتا پھولتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ورلڈ یوتھ ڈے سیول 2027 3 تا 8 اگست 2027 تک منعقد ہوگا، جبکہ اس سے قبل 29 جولائی تا 2 اگست تک روایتی”ڈیز اِن دی ڈایوسیس“پروگرام ہوگا۔منتظمین نے رجسٹریشن کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ زائرین کی آمدورفت کے لیے سیول کا جدید عوامی ٹرانسپورٹ نظام استعمال کیا جائے گا۔ ہر شریک کو ایک خصوصی ٹرانسپورٹ کارڈ فراہم کیا جائے گا جس کے ذریعے وہ تقریب کے دوران شہر کی میٹرو اور بس سروس سے استفادہ کر سکے گا۔
اجلاس میں صحت اور حفاظت سے متعلق تیاریوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ بتایا گیا کہ آٹھ کیتھولک اسپتال، چوبیس گھنٹے ہنگامی طبی سہولیات، جنوبی کوریا کی حکومت کے تعاون سے ویزا سہولت اور ماحول دوست اقدامات، جیساکہ دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں اور ریفل اسٹیشنز، اس منصوبے کا حصہ ہیں تاکہ ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
بعد ازاں سوال و جواب کے سیشن میں شرکاء نے گزشتہ ورلڈ یوتھ ڈے کے تجربات کی روشنی میں مختلف عملی تجاویز پیش کیں۔
شرکاء میں سے ایک نے بتایا کہ ورلڈ یوتھ ڈے لزبن کے دوران نوجوان زائرین کو سب سے زیادہ مشکل موبائل فون چارجنگ اسٹیشنز کی کمی کی وجہ سے پیش آئی تھی۔اس پر فادر لی نے یقین دلایا کہ منتظمین نے اس مسئلے کو پہلے ہی اپنی منصوبہ سازی میں شامل کر لیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم بیت الخلاؤں، جن میں عارضی بیت الخلا بھی شامل ہیں، اور موبائل فون چارجنگ اسٹیشنز کی مناسب فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔رہائش کا انتظام بھی اجلاس کا ایک اہم موضوع رہا۔ شرکاء نے سوال کیا کہ سابقہ بین الاقوامی کلیسیائی اجتماعات میں پیش آنے والے رہائشی مسائل سے کیسے بچا جائے گا۔منتظمین نے وضاحت کی کہ رہائش کی بکنگ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگی تاکہ ہر زائر کو اپنی رجسٹریشن کی مدت کے مطابق مناسب رہائش میسر آ سکے، جبکہ نئے آنے والے گروپس کے لیے بھی بروقت انتظامات کیے جا سکیں۔
منتظمین کے مطابق ورلڈ یوتھ ڈے سیول 2027 میں دنیا بھر سے تقریباً پانچ لاکھ بین الاقوامی زائرین کی شرکت متوقع ہے، تاہم حتمی تعداد ہولی سی کے تعاون سے ہونے والی رجسٹریشن کے بعد طے ہوگی۔اجلاس کے اختتام پر بشپ پال کیونگ سانگ لی نے ایشیا کی کلیسیاؤں کو دعوت دی کہ وہ ابھی سے اپنے نوجوانوں کو اس عالمی اجتماع کے لیے تیار کرنا شروع کریں۔
انہوں نے کہا کہ سیول آپ کے نوجوانوں کے استقبال کے لیے تیار ہے۔ مجھے اْمید ہے کہ میں آپ سب سے سیول میں ملاقات کروں گا۔
یہ تعارفی اجلاس اس بات کا واضح اظہار تھا کہ ورلڈ یوتھ ڈے سیول 2027 کے منتظمین صرف انتظامی تیاریوں پر ہی نہیں بلکہ مقامی کلیسیاؤں کی آراء اور خدشات کو سننے پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں، تاکہ دنیا بھر سے آنے والے نوجوان کیتھولک زائرین کے لیے یہ زیارت محفوظ، منظم اور روحانی طور پر یادگار ثابت ہو۔