کلیسیا کو مصنوعی ذہانت کے بارے میں تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ اُنہیں مسیح کی طرف بھی لانا چاہیے، تاکہ”ٹیکنالوجی پر اعتماد“بحال ہو سکے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 22مئی 2026کو ویٹیکن میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر منعقدہ ایک کانفرنس کے شرکاء سے ملاقات کے دوران، پوپ لیو چہاردہم نے اس بات پر زور دیا کہ کلیسیا کو مصنوعی ذہانت کے بارے میں تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ اُنہیں مسیح کی طرف بھی لانا چاہیے، تاکہ”ٹیکنالوجی پر اعتماد“بحال ہو سکے۔یہ بین الاقوامی کانفرنسPreserving Human Faces and Voicesکے عنوان سے منعقد کی گئی تھی، جس کا اہتمام ویٹیکن کے ڈکاسٹری برائے ابلاغ اور ڈکاسٹری برائے ثقافت و تعلیم نے کیا تھا۔ اس ایک روزہ کانفرنس میں اے آئی، تعلیم اور الٰہیات کے ماہرین نے شرکت کی تاکہ عالمی یومِ ابلاغیات کے لیے پوپ لیوکے پیغام پر غور کیا جا سکے۔
اپنے خطاب میں پوپ لیو چہاردہم نے کہا کہ کلیسیا کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور لوگوں کو اس کے درست استعمال کی تعلیم دینی چاہیے۔انہوں نے دوسری ویٹیکن کونسل کے ذرائع ابلاغ سے متعلق فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کلیسیا کو مسیح نے اس لیے قائم کیا تاکہ وہ انجیل کے ذریعے ہر انسان تک نجات کا پیغام پہنچائے اور اس مقصد کے لیے دستیاب ذرائع استعمال کرے۔
پوپ لیو نے کہا یہ خواہش کہ ہر شخص نجات پائے اور سچائی کو جانے، نہ صرف ہمارے فیصلوں اور اعمال کی رہنمائی کرے بلکہ میڈیا، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال اور سمت کو بھی متعین کرے، تاکہ یہ ذرائع حقیقی معنوں میں انسانیت کی خدمت کریں۔
پوپ لیو نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکنالوجی کو انسانی وقار کی قیمت پر بے لگام انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ ایسے آلات بن جاتی ہے جو انسانی تعلقات کی ہماری ضرورت کا استحصال کرتے ہیں۔اسی لیے انہوں نے کلیسیا پر زور دیا کہ وہ لوگوں کو”انسانیت کے حقیقی معنی اور عظمت“دوبارہ دریافت کرنے میں مدد دے، جیسا کہ خدا نے انسان کو تخلیق کیا۔انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج ٹیکنالوجی نہیں بلکہ”انسانی شناخت“کا مسئلہ ہے، کیونکہ یہ اس سوال سے جْڑا ہے کہ انسان ہونے کا حقیقی مطلب کیا ہے۔مزید کہا کہ یسوع مسیح، پر غور کرنے سے ہم اپنے آپ کو بہتر طور پر جان سکتے ہیں کیونکہ ہم مسیح کے دل کے بغیر اپنے دل کو نہیں سمجھ سکتے۔
پوپ لیو نے کلیسیا اور اس کے رہنماؤں کو دعوت دی کہ وہ تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر نوجوانوں میں میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں شعور پیدا کریں تاکہ وہ تنقیدی انداز میں سوچنا سیکھیں۔انہوں نے کہا کہ کلیسیا کو نوجوانوں کی روحانی بھلائی کے لیے اُنہیں یہ سکھانا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں اعتدال اور نظم و ضبط کیسے اختیار کرنا ہے۔ ہمیں اُن کی مدد کرنی چاہیے تا کہ وہ زندہ مسیح سے ملاقات کریں اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو ایک مکمل مسیحی طرزِ زندگی کے اندر شامل کرنا سیکھیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر پوپ لیو چہاردہم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا دور اور اس کے بارے میں ہمارا ردِعمل کلیسیا کے لیے ایک اہم موضوع ہے، کیونکہ کلیسیا ہر انسان کی مکمل روحانی اور انسانی ترقی کی خواہاں ہے۔
انہوں نے کہامجھے اْمید ہے کہ یہ غوروفکر ٹیکنالوجی پر ایک نئے اعتماد کو جنم دے گی، ایسا اعتماد جو انسانی ذہانت کے اُس تخلیقی جوہر کا پھل ہو جو خدا کے تخلیقی منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔