ادب کو بھائی چارے اور امن کی درس گاہ ہونا چاہیے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 14مئی 2026کوپاپائے اعظم لیو چہاردہم نے اس ہفتے شمالی اطالوی شہر میں منعقد ہونے والے ٹورن بین الاقوامی کتاب میلے کے لیے ایک پیغام بھیجا، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ادب کو انسانی وقار، امن اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے اور اس بات پر بھی زور دیا کہ بچے، خاص طور پر ‘‘جنگ کی ہولناکی’’اور ‘‘بے حسی کی سردی’’ کے درمیان، دنیا کو اْمید فراہم کرتے ہیں۔
ہمیں ایسے ادب کی ضرورت ہے جو ہر فرد کے وقار کو پہچاننے میں مدد کرے۔
اپنے پیغام میں، پوپ لیو نے اس ایڈیشن کے عنوان کو بیان کیا جو مصنفہ ایلسا مورانٹے کے ‘‘دی ورلڈ سیوڈ بائی کڈز’’ کے کام کو ‘‘اہم اور بروقت’’ قرار دیتا ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ ایسے وقت میں جو جنگ کی ہولناکیوں اور بے حسی کی سردی سے گھٹن کا شکار نظر آتا ہے، بچے، دنیا کو تازہ آنکھوں سے دیکھنے کی اپنی فطری صلاحیت کے ساتھ، معاشرے میں اْمید کی شمع روشن کرتے ہیں۔پوپ لیو نے اصرار کیا کہ پڑھنے سے دماغ کی پرورش ہوتی ہے، ایک باشعور اور اچھی طرح سے تشکیل شدہ تنقیدی احساس پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے اور بنیاد پرستی اور نظریاتی شارٹ کٹس سے حفاظت ہوتی ہے۔
پاپائے اعظم نے اپنی اْمید کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیغام کا اختتام کیا کہ یہ تقریب مکالمہ اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں ثقافت کی اہمیت کے بارے میں تجدید بیداری کی تحریک دے سکتی ہے۔