نُو شو زبان

خواتین کے جذبات، خاموشی، دْکھ اور اْمیدوں کی ایک مکمل دنیا
نُو شو زبان

نُو شو ایک ایسی منفرد اور حیرت انگیز رسم الخط ہے جسے دنیا کی“عورتوں کی خفیہ زبان”بھی کہا جاتا ہے۔ یہ زبان چین کے ایک مخصوص علاقے میں صدیوں تک استعمال ہوتی رہی اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے صرف خواتین ہی استعمال کرتی تھیں۔ نوشو نہ صرف ایک زبان تھی بلکہ یہ عورتوں کے جذبات، ان کی خاموشی، ان کے دکھ اور ان کی اْمیدوں کی ایک مکمل دنیا تھی۔
یہ رسم الخط بنیادی طور پر چین کے صوبے ہنان کے علاقے جیانگ یانگ میں پروان چڑھا۔ یہاں کی خواتین عام طور پر رسمی تعلیم سے محروم تھیں۔ تاریخی طور پر چین میں خواتین کو لکھنے پڑھنے کے مواقع بہت محدود تھے، اور زیادہ تر تعلیمی اور سماجی نظام مردوں کے ہاتھ میں تھا۔ ایسے ماحول میں خواتین نے اپنی ایک الگ دنیا تشکیل دی، جہاں وہ اپنے خیالات اور جذبات کو ایک دوسرے تک پہنچا سکیں۔ یہی ضرورت آگے چل کر نوشو سکرپٹ کی صورت میں سامنے آئی۔
نوشوکے حروف عام چینی زبان سے بالکل مختلف ہیں۔ یہ حروف باریک، لمبے اور ترچھے انداز میں لکھے جاتے ہیں، جنہیں دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص مقصد کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اس رسم الخط کو زیادہ تر کپڑے، کاغذ، پنکھوں اور کبھی کبھی روزمرہ کی اشیاء پر بھی لکھا جاتا تھا۔ اس کی تحریر نہ صرف خوبصورت ہوتی تھی بلکہ اس میں ایک خاص نرمی اور جذباتی کیفیت بھی محسوس ہوتی تھی۔
یہ زبان زیادہ تر عورتوں کے درمیان خط و کتابت کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ خاص طور پر وہ خواتین جو شادی کے بعد اپنے آبائی گھر سے دور چلی جاتی تھیں، وہ اپنی سہیلیوں اور رشتہ دار عورتوں کو نوشومیں خط لکھتی تھیں۔ ان خطوط میں وہ اپنی تنہائی، خوشی، دکھ اور زندگی کے تجربات بیان کرتی تھیں۔ چونکہ مرد اس زبان کو نہیں پڑھ سکتے تھے، اس لیے یہ ایک محفوظ اور خفیہ ذریعہ اظہار بن گئی تھی۔نوشوصرف خط لکھنے تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں شاعری اور گیت بھی لکھے جاتے تھے۔ خواتین مل کر گیت گاتی تھیں جو اکثر ان کی زندگی کی کہانیوں پر مبنی ہوتے تھے۔ یہ گیت شادی، جدائی، محنت، غربت اور دوستی جیسے موضوعات پر ہوتے تھے۔ ان گیتوں کے ذریعے وہ اپنی اندرونی کیفیت کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتی تھیں۔ اس طرح نوشو زبان ایک سماجی اور جذباتی سہارا بھی بن گئی تھی۔
اس رسم الخط کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ یہ صرف لکھنے کی زبان نہیں تھی بلکہ ایک ”عورتوں کی برادری“بھی تھی۔ جو خواتین نوشو زبان جانتی تھیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ خاص رشتہ رکھتی تھیں۔ یہ رشتہ صرف دوستی کا نہیں بلکہ ایک ایسی ہمدردی اور سمجھ بوجھ پر مبنی تھا جو ان کے مشترکہ تجربات سے پیدا ہوتی تھی۔ وہ ایک دوسرے کے درد کو سمجھتی تھیں کیونکہ ان کی زندگی کے حالات اکثر ایک جیسے ہوتے تھے۔نوشو زبان کی ابتدا کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں، لیکن عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ زبان کئی صدیوں پہلے وجود میں آئی۔ کچھ روایات کے مطابق یہ ایک عورت نے ایجاد کی تھی جو اپنی بہنوں اور سہیلیوں سے رابطہ رکھنا چاہتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ رسم الخط پھیلتا گیا اور پورے علاقے کی خواتین میں مقبول ہو گیا۔
20ویں صدی تک پہنچتے پہنچتے نوشو زبان کا استعمال کم ہونے لگا۔ جب چین میں تعلیم عام ہوئی اور خواتین کو رسمی تعلیم کے مواقع ملنے لگے تو اس خفیہ زبان کی ضرورت کم ہو گئی۔ نئی نسل نے جدید چینی زبان کو اپنانا شروع کر دیا اور نوشو زبان آہستہ آہستہ روزمرہ زندگی سے غائب ہونے لگی۔ آج صرف چند ہی افراد ایسے ہیں جو اس رسم الخط کو مکمل طور پر پڑھ اور لکھ سکتے ہیں۔اگرچہ اس کا استعمال تقریباً ختم ہو چکا ہے، لیکن نوشو زبان کو آج ایک اہم ثقافتی ورثے کے طور پر محفوظ کیا جا رہا ہے۔ چینی حکومت اور مختلف تحقیقی ادارے اس پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ اس منفرد زبان کو تاریخ کے صفحات میں محفوظ رکھا جا سکے۔ بعض عجائب گھروں میں اس کے نمونے محفوظ ہیں، اور کچھ ماہرین اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
نوشو زبان صرف ایک زبان نہیں بلکہ یہ خواتین کی خاموش مزاحمت کی علامت بھی ہے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ جب لوگوں کو اظہار کے مواقع نہ ملیں تو وہ اپنے لیے نئے راستے نکال لیتے ہیں۔ یہ زبان ہمیں بتاتی ہے کہ الفاظ صرف بات کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ وہ انسان کے جذبات، اس کی آزادی اور اس کی شناخت کا حصہ بھی ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں جب دنیا میں برابری، تعلیم اور آزادی اظہار پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے، نوشو زبان ہمیں ماضی کی ایک جھلک دکھاتی ہے کہ کیسے عورتوں نے محدود حالات میں بھی اپنی آواز پیدا کی۔ یہ ایک ایسی خفیہ دنیا تھی جو صرف عورتوں کے درمیان موجود تھی، لیکن اس نے صدیوں تک ان کے دلوں کو جوڑے رکھا۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ نوشو زبان انسانی تاریخ کی ایک انوکھی اور دل کو چھو لینے والی مثال ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زبانیں صرف الفاظ نہیں ہوتیں بلکہ وہ انسان کے احساسات، اس کی جدوجہد اور اس کی کہانیوں کا آئینہ ہوتی ہیں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail