دیوار نویسی یا وال چاکنگ

دیوار نویسی یا وال چاکنگ
دیوار نویسی یا وال چاکنگ

دیوار نویسی یا وال چاکنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں دیواروں پر چاک، رنگ، اسپرے، مارکر یا دیگر ذرائع سے الفاظ، نعرے، اشتہارات، اعلانات یا تصویریں بنائی جاتی ہیں۔ یہ انسانی تہذیب جتنا ہی قدیم ذریعہ اظہار ہے۔ انسان نے جب اپنے خیالات، احساسات اور تجربات کو محفوظ کرنے کی ضرورت محسوس کی تو غاروں کی دیواروں پر تصویریں بنائیں، جنہیں آج بھی قدیم تہذیبوں کے اہم آثار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بعد ازاں مصر، یونان اور روم جیسی تہذیبوں میں بھی لوگ دیواروں پر پیغامات، اعلانات اور یادگار تحریریں لکھتے تھے۔ اٹلی کے ایک قدیم شہر پومپئی میں آتش فشاں کی راکھ کے نیچے محفوظ ہونے والی دیواروں پر ملنے والی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دیوار نویسی صدیوں سے انسانی معاشرے کا حصہ رہی ہے۔ اس تاریخی پس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ دیوار نویسی اپنی اصل میں ایک فطری اور سماجی اظہار کا ذریعہ تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کے مقاصد اور انداز میں نمایاں تبدیلیاں آتی گئیں۔
آج کے دور میں وال چاکنگ مختلف شکلوں میں نظر آتی ہے۔ بعض اوقات یہ ایک خوبصورت فن پارے کی صورت اختیار کر لیتی ہے جسے اسٹریٹ آرٹ (Street Art) یا میورل (Mural) کہا جاتا ہے، جبکہ کئی مواقع پر یہی عمل غیر قانونی اشتہارات، سیاسی نعروں، مذہبی منافرت یا تجارتی تشہیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں عوامی اور نجی دیواروں پر بغیر اجازت لکھائی ایک عام مسئلہ بن چکی ہے۔ شہروں کی دیواریں سیاسی جماعتوں کے نعروں، کوچنگ سینٹرز، حکیموں، پراپرٹی ڈیلرز، موبائل نمبروں اور مختلف کاروباری اشتہارات سے بھر جاتی ہیں، جس سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے بلکہ عوامی املاک بھی خراب ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر شہری انتظامیہ اور بلدیاتی ادارے غیر قانونی وال چاکنگ کے خلاف قوانین نافذ کرتے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔
اگر وال چاکنگ کے مثبت پہلوؤں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاشرتی آگاہی اور تعلیم کا ایک موثر ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ مختلف ممالک میں حکومتیں اور سماجی تنظیمیں دیواروں پر خوبصورت مصوری اور مختصر مگر موثر پیغامات کے ذریعے عوام کو صفائی، ماحولیات، تعلیم، صحت، امن، رواداری اور قومی یکجہتی جیسے موضوعات پر آگاہ کرتی ہیں۔ کئی شہروں میں ویران یا خستہ حال دیواروں کو رنگین میورلز سے سجایا گیا ہے، جس سے نہ صرف ماحول خوشگوار ہوا بلکہ مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع بھی ملا۔ ایسے منصوبے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں اور شہروں کی ثقافتی شناخت کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ اس طرح دیواریں نفرت یا بے ہنگم اشتہارات کے بجائے خوبصورتی، علم اور مثبت پیغام کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
اس کے برعکس، وال چاکنگ اس وقت ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے جب اسے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسروں کی ملکیت یا عوامی مقامات پر بغیر اجازت استعمال کیا جائے۔ کسی کی ذاتی دیوار، تاریخی عمارات، تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں یا سرکاری عمارات پر اشتہارات یا نعرے لکھنا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ کئی جگہ قانونی جرم بھی شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح مذہبی، لسانی یا سیاسی نفرت پر مبنی تحریریں معاشرے میں تقسیم، بداعتمادی اور کشیدگی پیدا کر سکتی ہیں۔ بعض اوقات دیوار نویسی صرف چند لمحوں کی تشہیر کے لیے کی جاتی ہے، لیکن اس کے اثرات مہینوں یا برسوں تک باقی رہتے ہیں، کیونکہ انہیں صاف کرنے پر وقت، محنت اور سرکاری وسائل خرچ ہوتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ وال چاکنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے کی بجائے اس کے استعمال کو مثبت اور ذمہ دارانہ سمت دی جائے۔ حکومتیں مخصوص مقامات کو قانونی آرٹ والز (Art Walls) یا گرافٹی زونز قرار دے سکتی ہیں، جہاں فنکار آزادی کے ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کریں۔ تعلیمی ادارے طلبہ کے ساتھ مل کر دیواروں پر تعلیمی، اخلاقی اور ماحولیاتی موضوعات پر خوبصورت مصوری کروا سکتے ہیں۔ مقامی کمیونٹیز صفائی، درخت لگانے، پانی کے تحفظ، خواتین کی تعلیم، ٹریفک قوانین اور سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات پر دیواری آرٹ کے منصوبے شروع کر سکتی ہیں۔ اس طرح دیوار نویسی تخریب کی بجائے تعمیر، شعور اور خوبصورتی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
پاکستان میں بھی کئی شہروں میں دیواری آرٹ کے کامیاب منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر مناسب منصوبہ بندی، عوامی تعاون اور فنکارانہ ذوق کو فروغ دیا جائے تو وہی دیواریں جو پہلے غیر قانونی اشتہارات اور بے ہنگم نعروں سے بھری ہوتی تھیں، ثقافت، اْمید اور خوبصورتی کی علامت بن سکتی ہیں۔ میڈیا، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو بھی چاہیے کہ وہ شہریوں میں یہ شعور پیدا کریں کہ عوامی اور نجی املاک کا احترام ایک مہذب معاشرے کی بنیادی علامت ہے۔ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کی ملکیت یا شہر کے حسن کو نقصان پہنچایا جائے، بلکہ حقیقی اظہار وہی ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی، شعور اور باہمی احترام کو فروغ دے۔
 دیوار نویسی بذاتِ خود نہ اچھی ہے اور نہ بْری، بلکہ اس کا مقصد، طریقہ استعمال اور مقام اس کی حیثیت کا تعین کرتے ہیں۔ اگر اسے قانون، اخلاقیات اور فن کے اصولوں کے مطابق استعمال کیا جائے تو یہ تعلیم، ثقافت، آگاہی اور خوبصورتی کا موثر ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگر اسے غیر قانونی تشہیر، نفرت انگیزی یا ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ شہری حسن، سماجی ہم آہنگی اور عوامی وسائل کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ایک مہذب معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے شہری نظم، قانون کی پاسداری اور عوامی املاک کے احترام کو بھی یقینی بنائے تاکہ دیواریں نفرت کی نہیں بلکہ علم، اْمید اور خوبصورتی کی نمائندہ بن سکیں۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup