قرونِ وسطیٰ کے انگلینڈ میں نوزائیدہ بچے کو پنیر کے دائرے سے گزارنے کی روایت
دنیا کی مختلف تہذیبوں میں نوزائیدہ بچوں کی پیدائش کو خوشی، اْمید اور نئی زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے تقریباً ہر معاشرے میں نومولود بچوں کی حفاظت، صحت اور خوشحال مستقبل کے لیے مختلف رسومات اور روایات رائج رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ مذہبی بنیادوں پر قائم تھیں، کچھ ثقافتی روایات کا حصہ بن گئیں، جبکہ بعض صرف عوامی عقائد یا لوک کہانیوں کی صورت میں نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔ ایسی ہی ایک دلچسپ روایت قرونِ وسطیٰ کے انگلینڈ سے منسوب کی جاتی ہے، جہاں یہ مانا جاتا تھا کہ اگر نوزائیدہ بچے کو پنیر کے ایک بڑے دائرے یا حلقے کے درمیان سے گزارا جائے تو اس کی زندگی خوشحال، صحت مند اور کامیاب گزرے گی۔اگرچہ اس روایت کے بارے میں مکمل تاریخی شواہد محدود ہیں، لیکن برطانوی لوک داستانوں اور عوامی روایات میں اس کا ذکر ایک دلچسپ ثقافتی عقیدے کے طور پر ملتا ہے، جو اس دور کے لوگوں کی سوچ اور طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔
قرونِ وسطیٰ میں تقریباً پانچویں سے پندرہویں صدی تک کا زمانہ تھا۔ اس دور میں انگلینڈ سمیت یورپ کے بیشتر علاقوں میں سائنسی علم محدود تھا، جبکہ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں فطرت، مذہب اور عوامی عقائد سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔زندگی کے اہم
مراحل، جیسے پیدائش، شادی اور موت، مختلف رسومات کے ساتھ منسلک تھے۔ لوگوں کا یقین تھا کہ مخصوص علامتی اعمال انسان کو بدقسمتی، بیماریوں اور بْری روحوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت نوزائیدہ بچوں کے لیے بھی کئی دلچسپ روایات وجود میں آئیں۔آج کے دور میں پنیر صرف ایک غذائی چیز سمجھی جاتی ہے، لیکن قرونِ وسطیٰ کے انگلینڈ میں اس کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ تھی۔ دودھ اور اس سے بنی اشیاء خوشحالی، زرخیزی اور فراوانی کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ چونکہ پنیر کو محفوظ خوراک تصور کیا جاتا تھا جو طویل عرصے تک استعمال کی جا سکتی تھی، اس لیے یہ استحکام، رزق اور برکت کی نشانی بھی بن گیا۔اسی وجہ سے بعض علاقوں میں ایک بڑا گول پنیر تیار کیا جاتا اور اس کے درمیان موجود سوراخ یا دائرے کو علامتی طور پر نئی زندگی اور روشن مستقبل سے جوڑا جاتا تھا۔
لوک روایات کے مطابق، نومولود بچے کو احتیاط سے پنیر کے بڑے گول دائرے یا اس کے درمیان موجود خلا سے گزارا جاتا تھا۔ اس رسم کا مقصد یہ دْعا کرنا ہوتا تھا کہ بچہ صحت مند، خوش قسمت اور لمبی عمر پائے۔بعض کہانیوں کے مطابق، اس عمل کے بعد پنیر کو خاندان اور پڑوسیوں میں تقسیم کیا جاتا تھا تاکہ خوشی اور برکت سب کے ساتھ بانٹی جا سکے۔ یہ روایت نہ صرف بچے کے لیے نیک تمناوں کا اظہار تھی بلکہ خاندان اور برادری کے درمیان محبت اور یکجہتی کی علامت بھی سمجھی جاتی تھی۔اس روایت میں استعمال ہونے والا دائرہ بھی اپنی ایک علامتی اہمیت رکھتا تھا۔ دنیا کی بہت سی قدیم تہذیبوں میں دائرے کو زندگی کے تسلسل، حفاظت، مکمل ہونے اور دائمی خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح پنیر، جو دودھ سے تیار ہوتا ہے، زندگی، غذائیت اور پرورش کی نمائندگی کرتا تھا۔ ان دونوں علامتوں کو ملا کر لوگ یہ اْمید کرتے تھے کہ نومولود کی زندگی بھی برکت، صحت اور خوشحالی سے بھرپور ہوگی۔
جدید سائنس کے مطابق اس رسم کا بچے کی صحت، قسمت یا مستقبل پر کوئی ثابت شدہ اثر نہیں ہے۔ کسی بھی بچے کی خوشحال زندگی کا انحصار مناسب خوراک، طبی نگہداشت، تعلیم، محفوظ ماحول اور خاندان کی محبت پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی علامتی رسم پر۔تاہم ماہرینِ بشریات اور تاریخ دان اس قسم کی روایات کو انسانی تہذیب کی ثقافتی تاریخ کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ اس دور کے لوگوں کے عقائد، اْمیدوں اور سماجی اقدار کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔صرف انگلینڈ ہی نہیں بلکہ دنیا کے تقریباً ہر خطے میں نومولود بچوں کے حوالے سے مختلف رسمیں موجود رہی ہیں۔
کئی ایشیائی ممالک میں بچے کی پیدائش کے بعد خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں، جبکہ بعض معاشروں میں نظرِ بد سے بچانے کے لیے مخصوص نشانات استعمال کیے جاتے ہیں۔ بعض یورپی ممالک میں نومولود کو پہلی بار گھر سے باہر لے جانے کے لیے بھی مخصوص رسومات ادا کی جاتی تھیں۔ ان تمام روایات کا بنیادی مقصد بچے کی سلامتی، خوش قسمتی اور بہتر مستقبل کے لیے نیک تمناوں کا اظہار تھا۔آج کے انگلینڈ میں اس روایت پر عام طور پر عمل نہیں کیا جاتا، تاہم تاریخی میلوں، ثقافتی تقریبات اور لوک داستانوں میں اس کا ذکر اب بھی دلچسپی سے کیا جاتا ہے۔ یہ روایات اس بات کی یاد دلاتی ہیں کہ ماضی میں لوگ زندگی کے اہم مواقع کو کس قدر علامتی انداز میں مناتے تھے۔جدید دور میں اگرچہ سائنسی شعور نے بہت سی قدیم توہمات کی جگہ لے لی ہے، لیکن تاریخی اور ثقافتی روایات آج بھی انسانی ورثے کا قیمتی حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
قرونِ وسطیٰ کے انگلینڈ میں نوزائیدہ بچے کو پنیر کے دائرے سے گزارنے کی روایت ایک دلچسپ لوک عقیدہ تھی، جس کے ذریعے بچے کی صحت، خوش قسمتی اور خوشحال مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جاتا تھا۔ اگرچہ اس روایت کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں، لیکن یہ اس دور کی ثقافت، سماجی اقدار اور انسانی اْمیدوں کی عکاسی ضرور کرتی ہے۔ ایسی تاریخی روایات ہمیں یہ سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں کہ مختلف معاشرے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محبت، تحفظ اور خوشحالی کی دْعاوں کو کس طرح مختلف علامتی رسومات کے ذریعے ظاہر کرتے تھے۔