کاربن ڈائی آکسائیڈ

 زندگی کی بنیاد یا خاموش خطرہ
زندگی کی بنیاد یا خاموش خطرہ

کاربن ڈائی آکسائیڈکا نام سنتے ہی اکثر ذہن میں آلودگی اور ماحولیاتی مسائل آتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور حیران کن ہے۔یہی گیس زمین پر زندگی کی بنیاد بھی ہے۔پودے سورج کی روشنی اور پانی کی مدد سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنی خوراک میں تبدیل کرتے ہیں۔ اس عمل کو ضیائی تالیف یعنی فوٹوسنتھیسِس کہا جاتا ہے۔ اسی عمل کے نتیجے میں آکسیجن پیدا ہوتی ہے،وہی آکسیجن جس کے بغیر انسان اور جانور زندہ نہیں رہ سکتے۔یوں ہم جو ہر سانس لیتے ہیں، وہ دراصل اس خاموش نظام کا حصہ ہے۔
کاربن کبھی ایک جگہ نہیں رکتا۔ یہ فضا، زمین، سمندروں اور جانداروں کے درمیان مسلسل گردش کرتا رہتا ہے۔ اس عمل کو کاربن چکر (Carbon Cycle) کہا جاتا ہے۔پودے کاربن کو جذب کرتے ہیں، جانور پودوں کو کھاتے ہیں، اور پھر سانس لینے، گلنے سڑنے یا جلنے کے عمل سے یہی کاربن دوبارہ فضا میں لوٹ آتا ہے۔کچھ کاربن زمین کی گہرائیوں میں دفن ہو کر کوئلہ، تیل اور گیس کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو لاکھوں سال تک وہیں محفوظ رہتا ہے۔یہی نظام زمین کے ماحول کو متوازن رکھتا ہے۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ صرف زندگی ہی نہیں بناتی، بلکہ زمین کے درجہ حرارت کو بھی کنٹرول کرتی ہے۔
یہ ایک کمبل کی طرح زمین کے گرد لپٹ کر حرارت کو قابو میں رکھتی ہے۔اگر یہ گیس نہ ہو تو زمین بہت زیادہ سرد ہو جائے۔لیکن اگر یہ حد سے بڑھ جائے تو یہی کمبل زمین کو ضرورت سے زیادہ گرم کر دیتا ہے۔
زمین کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا توازن بگڑا، تباہی آئی۔ ایسے ادوار میں بڑے پیمانے پر جاندار ختم ہو گئے، جنہیں ہم عظیم معدومی (Mass Extinction) کہتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے،سمندر تیزابی ہو جاتے ہیں،آکسیجن کی کمی پیدا ہو جاتی ہے اورجانداروں کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔یہ تبدیلیاں آہستہ آہستہ آتی ہیں، مگر ان کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔آج انسان اس قدرتی نظام کو تیزی سے بدل رہا ہے۔ہم کوئلہ، تیل اور گیس جلا کر وہ کاربن فضا میں واپس لا رہے ہیں جو کروڑوں سال سے زمین میں دفن تھا۔فرق صرف رفتار کا ہے قدرت یہ عمل ہزاروں سال میں کرتی تھی، جبکہ انسان نے اسے چند صدیوں میں تیز کر دیا ہے۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ نہ مکمل طور پر اچھی ہے، نہ بری۔یہ سب کچھ توازن پر منحصر ہے۔کم ہو تو زندگی رک جائے۔زیادہ ہو تو زندگی خطرے میں پڑ جائے۔زمین لاکھوں سال سے اس توازن کو سنبھالے ہوئے ہے، مگر اب یہ توازن آزمائش میں ہے۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ زندگی بھی دیتی ہے اور اگر حد سے بڑھ جائے تو زندگی چھین بھی سکتی ہے۔یہی وہ خاموش قوت ہے جو ہمارے جنگلوں کو سبز رکھتی ہے، ہماری سانسوں کو جاری رکھتی ہے، اور ہمارے سیارے کو قابلِ رہائش بناتی ہے۔
مگر اب سوال یہ ہے:
کیا ہم اس توازن کو برقرار رکھ پائیں گے… یا اسے کھو دیں گے؟


 

Daily Program

Livesteam thumbnail