دریا کی خاموش موت
زمین پر بہنے والے دریا ہمیشہ زندگی، تہذیب، زراعت اور انسانی بقا کی علامت سمجھے جاتے رہے ہیں۔مگر اب سائنس دان ایک ایسے خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں جو بظاہر دکھائی نہیں دیتا، لیکن اندر ہی اندر دنیا کے دریاؤں کو موت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ یہ خطرہ ہے آکسیجن کی کمی۔حالیہ عالمی تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلی صرف گلیشیئر نہیں پگھلا رہی، بارشوں کے نظام نہیں بدل رہی، بلکہ اب یہ دریاؤں کے پانی سے آکسیجن بھی چھین رہی ہے۔اور جب پانی میں آکسیجن کم ہونے لگے تو دریا صرف پانی نہیں رہتا، وہ ایک خاموش قبرستان بننے لگتا ہے۔
چین کے سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے 1985ء سے دنیا بھر کے 21 ہزار سے زائد دریاؤں کا جائزہ لیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ گزشتہ چار دہائیوں میں دریاؤں میں آکسیجن کی مقدار اوسطاً 2.1 فیصد کم ہو چکی ہے۔بظاہر یہ کمی معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق دریا کا ماحولیاتی نظام انتہائی حساس ہوتا ہے۔کبھی کبھی صرف معمولی تبدیلی بھی مچھلیوں، آبی حیات اور پانی کے پورے نظام کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
سائنس کا بنیادی اصول ہے کہ گرم پانی ٹھنڈے پانی کی نسبت کم آکسیجن محفوظ رکھتا ہے۔جیسے جیسے زمین گرم ہو رہی ہے، ویسے ویسے دریا بھی گرم ہو رہے ہیں۔یہ گرم پانی اپنی آکسیجن فضا میں چھوڑ دیتا ہے اور یوں دریا اندر سے سانس کھونے لگتے ہیں۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو صدی کے اختتام تک دنیا کے کئی دریا اپنی مزید 4 سے 5 فیصد آکسیجن کھو سکتے ہیں۔یہ وہ سطح ہے جہاں ڈیڈ زونز یعنی مردہ علاقے پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
جب پانی میں آکسیجن بہت کم ہو جائے تو مچھلیاں سانس نہیں لے پاتیں۔پہلے ان کی افزائش متاثر ہوتی ہے، پھر انواع ختم ہونا شروع ہوتی ہیں، اور آخرکار پورا آبی نظام مرنے لگتا ہے۔دنیا پہلے ہی خلیج میکسیکو، جھیل ایری اور خلیج چیسا پیک جیسے علاقوں میں ایسے ڈیڈ زون دیکھ چکی ہے جہاں پانی موجود ہے مگر زندگی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ اگر عالمی درجہ حرارت اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو آنے والے عشروں میں کئی دریا موسمی بنیادوں پر مردہ زونز میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق بھارت کا دریائے گنگا پہلے ہی عالمی اوسط سے کئی گنا تیزی سے آکسیجن کھو رہا ہے۔اسی طرح مشرقی امریکہ، جنوبی امریکہ، آرکٹک اور خصوصاً ایمیرون جیسے خطے شدید خطرے میں ہیں۔ایمیزون کے متعلق پچھلے برس کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ وہاں مردہ زونز والے دنوں کی تعداد ہر دہائی میں تقریباً 16 دن بڑھ رہی ہے۔یعنی دنیا کا سب سے عظیم دریا بھی اب موسمیاتی تبدیلی کے دباؤ میں آ رہا ہے۔تحقیق کے مطابق تقریباً 63 فیصد مسئلہ پانی کے گرم ہونے سے پیدا ہو رہا ہے، مگر باقی تباہی انسان خود لا رہا ہے۔ یعنی کھادوں اور کیمیکل کا بہاؤ،شہروں کا آلودہ پانی،ڈیموں کی تعمیر،دریا کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ،جنگلات کی کٹائی اور صنعتی فضلہ۔
یہ سب عوامل مل کر دریا کو ایک بیمار جسم میں بدل رہے ہیں۔دریا صرف پانی نہیں ہوتے،دریا دراصل زمین کی نبض ہوتے ہیں۔ان کے کناروں پر تہذیبیں جنم لیتی ہیں، کھیت آباد ہوتے ہیں، جنگلات سانس لیتے ہیں اور انسان زندہ رہتا ہے۔اگر دریا اپنی آکسیجن کھونے لگیں تو اس کا مطلب صرف مچھلیوں کی موت نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی زنجیر کا ٹوٹ جانا ہے۔پانی بدبودار ہوگا، حیاتیاتی تنوع ختم ہوگا، زراعت متاثر ہوگی اور انسان کے لیے صاف پانی کا بحران مزید شدید ہو جائے گا۔
موسمیاتی تبدیلی ہمیشہ طوفان یا سیلاب کی شکل میں نہیں آتی۔کبھی کبھی یہ ایک خاموش زہر بن کر پانی کے اندر اترتی ہے، جہاں انسان کی آنکھ کچھ نہیں دیکھ پاتی مگر زندگی آہستہ آہستہ ختم ہوتی رہتی ہے۔دنیا کے دریا اب صرف پانی نہیں بہا رہے بلکہ وہ انسان کو ایک پیغام دے رہے ہیں۔اگر زمین کو گرم کرنا نہ روکا، تو ایک دن پانی باقی ہوگا، مگر زندگی نہیں۔