مقدسہ جوزفین بخیتا

 مقدسہ جوزفین بخیتا
مقدسہ جوزفین بخیتا

مقدسہ جوزفین بخیتا کی زندگی انسانی تاریخ کی اْن غیر معمولی داستانوں میں سے ایک ہے جس میں دْکھ، غلامی، ظلم، آزادی، ایمان، معافی اور خدا کی محبت ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان چاہے کتنی ہی مشکل صورتحال سے گزرے، خدا کی رحمت اْس تک پہنچتی اور اْسے نئی اْمید دیتی ہے۔مقدسہ جوزفین بخیتا تقریباً 1869ء میں سوڈان کے علاقے دارفور میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک خوشحال اور پُرسکون خاندانی ماحول میں پلی بڑھی تھیں۔ بچپن میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ محبت اور سکون کی زندگی گزار رہی تھیں۔لیکن تقریباً سات سال کی عمر میں اْن کی زندگی اچانک بدل گئی۔ انہیں غلاموں کے تاجروں نے اغوا کر لیا اور وہ غلامی کی ایک ایسی دنیا میں داخل ہو گئیں جہاں انہیں بار بار فروخت کیا گیا اور بے پناہ جسمانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔اْن تکلیف دہ تجربات کا اثر اتنا گہرا تھا کہ وہ اپنے والدین کی طرف سے دیا گیا اپنا اصل نام بھی بھول گئیں۔ اْن کے اغوا کاروں نے انہیں ”بخیتا“ کا نام دیا، جس کا مطلب ہے ”خوش قسمت“۔یہ نام اْن کے لیے بعد میں ایک عجیب معنوی حقیقت بن گیا، کیونکہ شدید مصائب کے باوجود خدا نے اْن کی زندگی کو واقعی ایک نئی اور بابرکت سمت عطا کی۔
بخیتا کو کئی مرتبہ ایک مالک سے دوسرے مالک کے ہاتھ فروخت کیا گیا۔ انہیں سخت مشقت، تشدد، خوف اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ غلامی کے دوران اْن کے جسم اور دل پر ایسے زخم لگے جنہیں بھلانا آسان نہیں تھا۔لیکن ان تمام مصائب کے باوجود اْن کے اندر انسانی وقار مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ویٹیکن اْن کی زندگی کو ایسی مثال کے طور پر پیش کرتا ہے جس میں خدا کی رحمت نے انہیں غلامی اور بے شمار تکالیف سے نکال کر انسانی آزادی، ایمان اور بالآخر خدا کے لیے مکمل زندگی کی طرف رہنمائی کی۔ بعد ازاں بخیتا ایک اطالوی سفارت کار کے خاندان کے ساتھ اٹلی پہنچیں۔ وہاں اْن کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے اْن کے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔وہ وینس میں کینوسین سسٹرز (Canossian Sisters) کے زیرِ انتظام ادارے سے وابستہ ہوئیں۔ یہیں انہوں نے پہلی مرتبہ مسیحی ایمان اور ایک ایسے خدا کے بارے میں سْناجو انسان کو جانتا، اْس سے محبت کرتا اور اْس کے دْکھ میں اْس کے ساتھ رہتا ہے۔بخیتا نے بعد میں بیان کیا کہ فطرت کو دیکھتے ہوئے بچپن ہی سے اْن کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ سورج، چاند اور ستاروں کا خالق کون ہے۔ کینوسین سسٹرز کے ذریعے انہیں خدا کو جاننے کا موقع ملا جس کی تلاش ان کے دل میں پہلے ہی موجود تھی۔
9 جنوری 1890ء کو بخیتا نے مسیحی بپتسمہ حاصل کیا اور انہیں ”جوزفین“ کا نام دیا گیا۔ اسی دن انہوں نے مسیحی ایمان کے دوسرے مقدس ساکرامنٹ بھی حاصل کیے۔ویٹی کن کے مطابق، بپتسمہ کے بعد وہ بار بار بپتسمہ کے حوض کو بوسہ دیتی اور اس خوشی کا اظہار کرتی تھیں کہ یہاں وہ خدا کی بیٹی بن گئی ہیں۔ یہ لمحہ اْن کی زندگی میں ایک نئے سفر کا آغاز تھا۔ جس لڑکی سے اس کا نام، آزادی اور بچپن چھین لیا گیا تھا، اب وہ خود کو خدا کی محبوب بیٹی کے طور پر پہچان رہی تھی۔جب ان کے سابق مالکان انہیں واپس لینے کی کوشش کرنے لگے تو جوزفین نے واضح طور پر اپنی مرضی ظاہر کی کہ وہ کینوسین سسٹرز کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔اٹلی کے قانون کے تحت اس وقت غلامی قانونی طور پر نافذ نہیں تھی، اور جوزفین کو اپنی زندگی کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل تھا۔ انہوں نے اپنی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے خدا کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔جوزفین نے کینوسین سسٹرز کے ساتھ رہتے ہوئے مذہبی زندگی اختیار کی۔ 8 دسمبر 1896ء کو انہوں نے ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی خدا کے لیے وقف کر دی اور کینوسین جماعت کی راہبہ بن گئیں۔
اس کے بعد تقریباً پچاس سال تک انہوں نے سادگی، عاجزی اور محبت کے ساتھ دوسروں کی خدمت کی۔ وہ کھانا پکاتیں، سلائی کڑھائی کرتیں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتیں۔وہ بچوں سے خاص محبت کرتی تھیں۔ جب وہ ادارے کے دروازے پر خدمت انجام دیتیں تو بچوں کو محبت سے خوش آمدید کہتیں اور ان کے سروں پر شفقت سے ہاتھ رکھتیں۔ ان کی نرم مسکراہٹ اور مہربان رویہ لوگوں کے دلوں کو چھو لیتا تھا۔ مقدسہ جوزفین بخیتا کی زندگی کا سب سے متاثر کن پہلو اْن کی معاف کرنے کی قوت تھی۔جن لوگوں نے انہیں غلام بنایا، ان سے ان کا بچپن چھینا اور انہیں تکلیفیں دیں، ان کے بارے میں انہوں نے نفرت کو اپنی زندگی پر غالب نہیں آنے دیا۔ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ معافی کا مطلب ظلم کو درست قرار دینا نہیں بلکہ اپنے دل کو نفرت کی زنجیروں سے آزاد کرنا ہے۔جوزفین نے اپنے ماضی کو اپنی پوری شناخت نہیں بننے دیا۔ انہوں نے اپنے زخموں کے باوجود محبت، خدمت اور ایمان کو اختیار کیا۔
زندگی کے آخری برسوں میں جوزفین کو بیماری اور جسمانی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان کی مسیحی اْمید کمزور نہیں ہوئی۔جب لوگ ان کی خیریت دریافت کرتے تو وہ مسکرا کر جواب دیتیں:”جیسا مالک چاہتا ہے۔“اْن کا یہ جواب اْن کے گہرے ایمان اور خدا کی مرضی پر مکمل بھروسے کی علامت تھا۔مقدسہ جوزفین بخیتا نے 8 فروری 1947ء کو اٹلی کے شہر شیو (Schio) میں کینوسین کانونٹ میں وفات پائی۔ اْن کی آخری گھڑیوں میں انہوں نے بار بار Our Lady! Our Lady!کے الفاظ ادا کیے۔ ویٹی کن کے مطابق اْن کے چہرے پر آخری مسکراہٹ اْن کی مقدسہ مریم کے ساتھ گہری عقیدت اور ایمان کی گواہی تھی۔ جوزفین بخیتا کی وفات کے بعد اْن کی پاکیزہ زندگی کی شہرت تیزی سے پھیلنے لگی۔ اْن کی زندگی کو کلیسیا نے عقیدت، ایمان، عاجزی اور خدا کی محبت کی ایک روشن مثال کے طور پر دیکھا۔
اْن کو 17مئی1992ء کو مقدس پوپ جان پال دوم نے مبارک قرار دیا جبکہ یکم اکتوبر 2000ء کو روم کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں مقدس پوپ جان پال دوم نے ہی جوزفین بخیتا کو باقاعدہ طور پر مقدسہ قرار دیا۔یوں غلامی کی زنجیروں میں زندگی کا آغاز کرنے والی ایک بچی پوری دنیا کی کلیسیا کے لیے مقدسہ جوزفین بخیتا بن گئی۔آج مقدسہ جوزفین بخیتا کو خاص طور پر غلامی، انسانی اسمگلنگ، استحصال اور ظلم کا شکار ہونے والے افراد کے لیے اْمید اور وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اْن کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ کسی بھی انسان کی قدر اْس کے ماضی، اْس کے زخموں یا دوسروں کے ظلم سے نہیں ہوتی۔ ہر انسان خدا کی نظر میں قیمتی ہے۔
مقدسہ جوزفین بخیتا کی زندگی ہمیں کئی اہم سبق دیتی ہے:
دْکھ ہمیں ختم نہیں کرتا، اگر ہم خدا کا ہاتھ تھامے رکھیں۔
ماضی ہماری پوری شناخت نہیں ہے۔
معافی دل کو نفرت کی زنجیروں سے آزاد کر سکتی ہے۔
انسانی وقار کسی بھی حالات میں ختم نہیں ہوتا۔
خدا کی محبت انسان کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
خدمت اور محبت کے ذریعے ایک انسان بے شمار زندگیوں کو چھو سکتا ہے۔
مقدسہ جوزفین بخیتا کی زندگی دراصل ایک ایسے سفر کی داستان ہے جو غلامی سے آزادی، خوف سے ایمان، دْکھ سے اْمید اور زخموں سے مقدسہ ہونے تک پہنچا۔اْن کی داستان ہمیں یقین دلاتی ہے کہ کوئی زخم خدا کے لیے بہت گہرا نہیں، کوئی ماضی اْس کی رحمت کے لیے بہت تاریک نہیں، اور کوئی انسان اس کی محبت سے باہر نہیں۔مقدسہ جوزفین بخیتا، ہمارے لیے دْعا کرتا کہ ہم بھی اپنے دْکھوں کے باوجود محبت، معافی، خدمت اور خدا پر بھروسے پر زندگی گزار سکیں۔ آمین۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup