متوشالح


پْرانے عہد نامہ میں تکوین کی کتاب میں ایک ایسا نام ملتا ہے جو تاریخ میں اپنی غیر معمولی عمر کی وجہ سے منفرد ہے: متوشالح۔بائبل کے مطابق وہ 969 سال زندہ رہا ،انسانی تاریخ میں مذکور سب سے طویل عمرپانے والا ۔متوشالح کے والد حنوک تھے، جن کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ‘‘خدا کے ساتھ چلتے تھے۔’’یہ جملہ بائبل میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے مراد محض عبادت نہیں، بلکہ قربت، فرمانبرادری اور روحانی رفاقت ہے۔
روایات کے مطابق حنوک کو آنے والی عدالت کا علم تھا ،وہ وقت جب زمین پر بڑھتے ہوئے گناہ کے سبب خدا فیصلہ کرے گا۔کہا جاتا ہے کہ متوشالح نام کا مطلب ہے:‘‘جب یہ مرے گا، تب یہ واقع ہوگا۔’’یہ نام صرف شناخت نہیں تھا، بلکہ ایک علامتی پیغام تھا۔
ہر گزرتا دن، ہر سال، گویا انسانیت کے لیے ایک خاموش تنبیہ تھا کہ وقت محدود ہے مگر ابھی ختم نہیں ہوا۔بائبل بیان کرتی ہے کہ جس سال متوشالح کا انتقال ہوا، اسی سال عظیم طوفان آیا ۔ وہی طوفان جس کا ذکر نوح کی کشتی کے واقعہ میں ملتا ہے۔
نوح اور اْس کا خاندان کشتی میں محفوظ رہے، جبکہ باقی زمین پانی سے ڈھک گئی۔یہ واقعہ محض عدالت کی تصویر نہیں، بلکہ ایک طویل انتظار کے بعد آنے والے فیصلے کی علامت
 ہے۔اگرمتوشالح کی عمر کو علامتی انداز میں دیکھا جائے تو اْس کی طویل زندگی خدا کے صبر کی عکاسی کرتی ہے۔خدا فوری سزا دینے والا نہیں، بلکہ موقع دینے والا ہے۔وہ انتظار کرتا ہے، خبردار کرتا ہے اور توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔969 سال گویا ایک طویل مہلت تھی ۔ ایک ایسا وقفہ جس میں انسان کو پلٹنے، سوچنے اور بدلنے کا موقع دیا گیا۔
متوشالح کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ خدائی انصاف جلدبازی میں نہیں آتا۔اس سے پہلے صبر آتا ہے، تنبیہ آتی ہے اور موقع آتا ہے۔
یہ محض ایک طویل عمر کی داستان نہیں۔یہ خدا کے غیر معمولی صبر اور فضل کی گواہی ہے۔یہ داستان صرف ماضی کی تاریخ نہیں، بلکہ حال کے لیے پیغام ہے:خدا کا صبر کمزوری نہیں، فضل ہے نیز یاد رکھیں کہ ہر نیا دن، ایک نیا موقع ہے۔


 

Daily Program

Livesteam thumbnail