رتن ٹاٹا — دنیا کے امیر ترین انسان کا انسانی چہرہ

رتن نول ٹاٹا (Ratan Naval Tata) بھارت کے عظیم صنعتکار، سماجی خدمت گزار اور ٹاٹا گروپ کے سابق چیئرمین ہیں۔ وہ 28 دسمبر 1937ء کو بمبئی (ممبئی) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کارنیل یونیورسٹی امریکہ سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں ہارورڈ بزنس اسکول سے اعلیٰ تربیت حاصل کی۔
رتن ٹاٹا نے 1991ء میں ٹاٹا گروپ کی قیادت سنبھالی اور اسے ایک مقامی کاروباری ادارے سے عالمی سطح کی کارپوریشن میں تبدیل کر دیا۔ ان کی قیادت میں ٹاٹا گروپ نے جگوار، لینڈ روور، کورس اسٹیل اور کئی عالمی ادارے خریدے۔
رتن ٹاٹا نے شادی نہیں کی۔ اْن کی زندگی سادگی، وقار اور خودداری کی مثال ہے۔ اْن کی اربوں ڈالر کی دولت کا بڑا حصہ ٹاٹا ٹرسٹس کے ذریعے تعلیم، صحت، تحقیق اور فلاحی کاموں کے لیے وقف ہے۔ وہ اس بات کی روشن مثال ہیں کہ اصل وراثت دولت نہیں بلکہ خدمت ہوتی ہے۔
ایک انٹرویو میں جب ایک ریڈیو پریزینٹر نے رتن ٹاٹا سے پوچھا:
آپ کو زندگی میں سب سے زیادہ خوشی کب ملی؟تو انہوں نے جواب دیا:
میں زندگی میں خوشی کے چار مراحل سے گزرا ہوں، اور آخرکار میں نے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھا۔
پہلا مرحلہ
دولت اور وسائل جمع کرنا۔
مگر وہ خوشی نہ ملی جس کی تلاش تھی۔
دوسرا مرحلہ
قیمتی اشیاء اور آسائشات جمع کرنا۔
مگر ان کی چمک عارضی ثابت ہوئی۔
 تیسرا مرحلہ
بڑے بڑے کاروباری منصوبے، اسٹیل فیکٹریاں، عالمی سپلائی پر کنٹرول۔
مگر دل پھر بھی مطمئن نہ ہوا۔
چوتھا مرحلہ — حقیقی خوشی
ایک دوست نے معذور بچوں کے لیے تقریباً 200 وہیل چیئر خریدنے کو کہا۔رتن ٹاٹا نے فوراً وہیل چیئر خریدیں، مگر دوست کے اصرار پر خود بچوں میں تقسیم کرنے گئے۔
وہ کہتے ہیں:میں نے اْن بچوں کے چہروں پر جو خوشی دیکھی، وہ میں نے کبھی اپنی دولت میں نہیں دیکھی تھی۔
جب وہ جانے لگے تو ایک بچے نے اْن کی ٹانگ پکڑ لی۔
انہوں نے جھک کر پوچھا:کیا تمہیں کچھ اور چاہیے؟بچے نے کہا:
میں آپ کا چہرہ یاد رکھنا چاہتا ہوں تاکہ جب میں آپ سے جنت میں ملوں تو آپ کو پہچان سکوں اور دوبارہ شکریہ ادا کر سکوں۔
رتن ٹاٹا کہتے ہیں:اس لمحے میں نے سمجھا کہ حقیقی خوشی دوسروں کو خوشی دینے میں ہے۔
رتن ٹاٹا کی قیادت میں ٹاٹا ٹرسٹس نے:
* لاکھوں طلبہ کو اسکالرشپس دیں 
* کینسر اور دل کے مریضوں کے علاج میں مدد کی
* دیہی ترقی، تعلیم اور سائنسی تحقیق کو فروغ دیا
* قدرتی آفات میں متاثرین کی مدد کی
رتن ٹاٹا کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
دولت انسان کو بڑا نہیں بناتی، انسانیت انسان کو بڑا بناتی ہے۔
وہ اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ اصل کامیابی دولت میں نہیں بلکہ کردار، خدمت اور عاجزی میں ہوتی ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail