مائیکل جیکسن (شہرت کے پیچھے کا پیغام)
وہ شخص جو ڈیڑھ سو سال جینے کی تیاری کر چکا تھا۔صرف تیس منٹ میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔یہ جملہ مائیکل جیکسن کی زندگی اور موت دونوں کا خلاصہ بن چکا ہے۔مائیکل جیکسن، جنہیں دنیا King of Popکے نام سے جانتی ہے، 29 اگست 1958ء کو امریکہ کے شہر گیری، انڈیانا میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن ہی سے غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ کم عمری میں ہی انہوں نے موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا اور چند ہی برسوں میں عالمی شہرت حاصل کر لی۔
1982ء میں اْن کا البم Thriller ریلیز ہوا جو آج تک دنیا کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا میوزک البم ہے۔ اسی لمحے مائیکل جیکسن گمنامی سے نکل کر تاریخ کا سب سے مشہور گلوکار بن گیا۔ یوں اْس نے اپنی پہلی خواہش پوری کر لی یعنی دنیا کا سب سے پہچانا جانے والا انسان بن جانا۔
مگر شہرت کے ساتھ اْس کے اندر ایک مسلسل جنگ جاری رہی۔ وہ اپنی رنگت، اپنے ماضی، اپنی شناخت اور اپنی فانی عمر سے مطمئن نہ تھا۔ وہ گوروں کی طرح دکھائی دینا چاہتا تھا، اپنا پرانا وجود مٹا دینا چاہتا تھا اور عام انسانوں کی طرح مرنے کو قبول نہیں کرنا چاہتا تھا۔
چنانچہ اْس نے درجنوں پلاسٹک سرجریز کروائیں۔ 1987ء تک اْس کی شکل، جلد، حرکات اور انداز مکمل بدل چکے تھے۔سیاہ فام مائیکل کی جگہ ایک نازک، سفید رنگت اور نسوانی نقوش والا مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے تھا۔
اْس نے اپنے خاندان سے فاصلے بڑھا لیے، پرانے تعلقات توڑ دیے، زندگی کو مصنوعی دنیا میں منتقل کر دیا۔ اْس نے شہرت کو مزید بڑھانے کے لیے لیزا میری پریسلے سے شادی کی، یورپ میں اپنے مجسمے نصب کروائے، اور مصنوعی طریقوں سے اولاد حاصل کی۔اْس نے اپنا دوسرا خواب بھی پورا کر لیا یعنی شہرت حاصل کرلی مگر ان سب کے باوجود وہ اندر سے تنہا ہوتا چلا گیا۔
مائیکل جیکسن ڈیڑھ سو سال زندہ رہنے کا خواب دیکھتا تھا۔وہ آکسیجن ٹینٹ میں سوتا، ماسک اور دستانے استعمال کرتا، مخصوص خوراک لیتا، بارہ ڈاکٹر ہمہ وقت اس کے ساتھ رہتے۔اْس نے یہاں تک کہ اپنے لیے اضافی اعضا کے ممکنہ ڈونرز بھی منتخب کر رکھے تھے۔کیو نکہ وہ فطرت کو شکست دینا چاہتا تھا۔پھر 25 جون 2009ء کی رات آئی۔سانس لینے میں دشواری ہوئی۔
ڈاکٹر دوڑے، دوائیں دی گئیں، مگر وہ شخص جو ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر چکا تھا، صرف پچاس برس کی عمر میں چند منٹوں میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔
اْس کی موت کی خبر نے گوگل کے سرور تک جام کر دیے۔
پوسٹ مارٹم نے بتایا کہ حد سے زیادہ ادویات، انجیکشنز اور جسمانی تجربات نے اْس کے جسم کو کمزور ڈھانچے میں بدل دیا تھا۔جو چیزیں اْسے بچانے کے لیے تھیں، وہی اْس کی کمزوری بن گئیں۔
مائیکل جیکسن کی زندگی ایک گہرا سبق بن گئی:انسان دنیا فتح کر سکتا ہے مگر تقدیر، موت اور اْس کے لکھنے والے کو شکست نہیں دے سکتا۔چاہے کوئی راک اسٹار ہو یا فرعون،وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔مائیکل جیکسن صرف ایک گلوکار نہیں تھا، وہ انسانی خواہش، خوف، کمزوری اور عظمت کی مکمل داستان تھا۔ اْس کی آواز آج بھی زندہ ہے، مگر اس کی زندگی ہمیں یہ سیکھا گئی کہ حقیقی سکون شہرت، حسن اور دولت میں نہیں بلکہ خود قبولیت اور فطرت سے ہم آہنگی میں ہے۔