میزیریور نے FABC پر غریبوں اور ماحولیاتی انصاف کے لیے کلیسیا کی آواز مضبوط بنانے پر زور دیا۔
جرمنی کے کیتھولک ترقیاتی ادارہ ”میزیریور (Misereor)“ کے ڈائریکٹر جنرل فادر ڈاکٹر آندریاس فرِک نے کہا ہے کہ اگر کلیسیا آج کی دنیا میں اپنی ساکھ برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے غریبوں، مہاجرین اور موسمیاتی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کے لیے اپنی آواز کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔23جولائی کو جکارتہ میں بشپ صاحبان، کاہنوں، مذہبی افراد اور کلیسیائی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے فادر ڈاکٹر آندریاس فرِک نے کہا کہ کلیسیا کا مشن صرف داخلی تجدید تک محدود نہیں بلکہ انصاف، امن اور خدا کی تخلیق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا بھی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔جرمن کیتھولک بشپ صاحبان کے ترقیاتی ادارے میزیریور کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے جنرل اسمبلی میں شرکت کے موقع پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایشیا کے بشپ صاحبان میں پائی جانے والی کشادہ دلی اور مکالمہ کی روح کلیسیا اور معاشرے کو درپیش پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میزیریور اس وقت دنیا کے 83 ممالک میں تقریباً 3,000 ترقیاتی منصوبوں کی معاونت کر رہا ہے، جو 1,600 سے زائد شراکت دار اداروں کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ ان میں ایشیا کی متعدد ڈایوسیس اور کلیسیائی ادارے بھی شامل ہیں۔اپنی دو سالہ قیادت کے تجربہ کا ذکر کرتے ہوئے فادر آندریاس فرِک نے کہا کہ ایک سوال مسلسل ان کی رہنمائی کرتا رہا ہے کہ کلیسیا آج اور آنے والے کل کے چیلنجز کا موثر انداز میں جواب کیسے دے سکتی ہے؟
انہوں نے کہا کہ یہی سوال FABC کے ایک زیادہ سنڈی اور بشارتی کلیسیا بننے کے عزم کے مرکز میں بھی موجود ہے۔اسمبلی کے موضوع، یعنی پْل تعمیر کرنے کی علامت کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پْل تعمیر کرنے کا ایک حصہ سرنگیں بنانا بھی ہے، یعنی ایسی مضبوط بنیادوں پر تعلقات قائم کرنا جو اندر سے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ حقیقی شراکت داری عارضی حل سے نہیں بلکہ اعتماد، یکجہتی اور صبر کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے وجود میں آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے میزیریور غریب اور محروم طبقات کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے مسائل کو پالیسی سازوں تک پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ خدمت انجیل کے اس پیغام پر مبنی ہے جو انسانی وقار کے تحفظ اور انصاف کے فروغ کی دعوت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ کلیسیا معاشرے کے محروم لوگوں کے لیے آواز بنی رہے اور انصاف، امن اور ماحولیاتی تبدیلی کے لیے موثر وکیل کا کردار ادا کرے۔
فادر آندریاس فرِک نے ماحولیاتی انصاف کو آج کی کلیسیا کے لیے ایک نہایت اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کی تباہی کو غربت، ہجرت، قدرتی وسائل پر تنازعات اور سماجی ناہمواری سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے 2011 سے ماحولیاتی مسائل پر توجہ دینے کے لیے FABC کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایشیا کی کلیسیا پر زور دیا کہ وہ ان تمام باہم مربوط چیلنجز کا جواب ایک جامع پاسبانی حکمتِ عملی کے ذریعے دیتی رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سنڈیلٹی کا تقاضا ہے کہ خواتین، نوجوانوں اور عام مومنین کی شرکت کو مزید فروغ دیا جائے، کیونکہ ان کی آوازیں کلیسیا کے مشن کے لیے ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ سنڈیلٹی خواتین، نوجوانوں اور عام مومنین کی آوازوں پر منحصر ہے۔ ان کے لیے عزت، احترام اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہماری اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کلیسیا کو اپنے ڈھانچوں اور طریقہ ِکار کا مسلسل جائزہ لیتے رہنا چاہیے تاکہ وہ سنڈیلٹی کے اس وژن کی حقیقی عکاسی کریں جو مشترکہ شرکت اور اجتماعی ذمہ داری پر مبنی ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر فادر ڈاکٹر آندریاس فرِک نے بشپ صاحبان اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ غریبوں کے ساتھ یکجہتی، انصاف کے دفاع اور خدا کی تخلیق کی نگہداشت کے مشن میں مل کر آگے بڑھتے رہیں۔
ان کے خطاب نے 12ویں جنرل اسمبلی کے اس بنیادی پیغام کو مزید واضح کیا کہ سنڈی تبدیلی کا معیار صرف کلیسیا کی داخلی تجدید نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ معاشرے کے کمزور اور محروم افراد کے ساتھ کس حد تک وفاداری سے کھڑی ہوتی ہے اور انصاف، امن اور خدا کی تخلیق کے تحفظ کے لیے کس قدر موثر گواہی پیش کرتی ہے۔