تنوع سے اشتراک تک: فادر کلارنس دیواداس نے ٹیبل مذاکرات کے اہم نتائج اجاگر کر دیے۔

تنوع سے اشتراک تک
تنوع سے اشتراک تک

فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC)کی 12ویں جنرل اسمبلی میں ہونے والے علاقائی ٹیبل مذاکرات سے یہ بات سامنے آئی کہ ایشیا کی وسیع گوناگونی کے باوجود مقامی کلیسیائیں اشتراک، شرکت اور مشن پر مبنی مستقبل کے لیے ایک مشترکہ وژن رکھتی ہیں۔فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی میں ہونے والے ٹیبل مذاکرات سے ایک اہم نتیجہ سامنے آیا کہ ایشیا کی وسیع ثقافتی اور مذہبی گوناگونی کے باوجود مقامی کلیسیائیں مستقبل کے لیے ایک مشترکہ وژن رکھتی ہیں، جو اشتراک، شرکت اور مشن پر مبنی ہے۔یہ اہم بات FABC کے ایسوسی ایٹ سیکرٹری اور کمیشن برائے سنڈیلٹی کے ایگزیکٹو سیکرٹری فادر کلارنس دیواداس نے 25 جولائی کو عمواس تجربے کے نام سے ہونے والے علاقائی روحانی امتیاز کے اجلاسوں کے بعد بیان کی۔
فادر دیواداس نے کہا کہ ان مذاکرات سے ظاہر ہوا کہ اگرچہ ایشیا کی کلیسیاؤں کے حالات اور سیاق و سباق مختلف ہیں، تاہم پورے ایشیا کی کلیسیاؤں کی خواہشات حیرت انگیز طور پر ایک جیسی ہیں۔ سب سے نمایاں بات اختلافات نہیں بلکہ باہمی اتفاق تھا۔ٹیبل مذاکرات جنرل اسمبلی کے روحانی امتیاز کے مختلف مراحل کا حصہ تھے۔ شرکا ء کے درمیان کئی روز تک جاری رہنے والی روحانی گفتگو کے بعد شرکا نے جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا اور وسطی و مشرقی ایشیا کے علاقائی گروہوں میں بھی ملاقات کی۔ ان گروہوں میں مقامی کلیسیاؤں کے حالات پر دعائیہ انداز میں غور کیا گیا اور سنڈیلٹی زندگی کو مضبوط بنانے کے لیے عملی ترجیحات کی نشاندہی کی گئی۔
 تنوع جو اشتراک کو فروغ دیتا ہے۔
ایشیا کے ثقافتی، لسانی، نسلی اور مذہبی تنوع کو رکاوٹ سمجھنے کے بجائے شرکا نے مسلسل اسے کلیسیا کے عظیم تحائف میں سے ایک قرار دیا۔فادر دیواداس نے کہا کہ شرکا نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اشتراک کے لیے یکسانیت ضروری نہیں۔ اس کے برعکس، تنوع ہی وہ جگہ بن جاتا ہے جہاں انجیل عملی زندگی میں ظاہر ہوتی ہے اور جہاں پْل تعمیر کیے جاتے ہیں۔مذاکرات سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ ایشیا میں بشارت کا عمل بنیادی طور پر باہمی تعلقات کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک دوسرے کی بات سننا، ساتھ دینا، مہمان نوازی اور روزمرہ زندگی میں مسیحی گواہی دینا بار بار انجیل کی منادی کے کلیسیا کے سب سے موثر اور قابل اعتماد طریقوں کے طور پر بیان کیا گیا۔شرکا نے کلیسیا کے مشن میں عام ایمانداروں کی بڑھتی ہوئی شرکت کو بھی اْجاگر کیا۔ انہوں نے ایک ایسے زیادہ باہمی تعاون پر مبنی کلیسیائی ماڈل کا تصور پیش کیا جس میں خواتین، نوجوان، خاندان اور عام ایماندار رہنما روحانی امتیاز اور کلیسیائی و روحانی زندگی میں زیادہ بھرپور کردار ادا کریں۔اسی طرح تعلیم اور بین المذاہب مکالمہ بھی ایسی مستقل طاقتوں کے طور پر سامنے آئے جو پورے براعظم میں امن اور انسانی ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
چیلنجز کا دیانت داری سے سامنا
مذاکرات نے کلیسیا کو درپیش حقیقی مسائل کا سامنا کرنے کے لیے آمادگی کا بھی اظہار کیا۔تینوں علاقوں کے شرکا نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی تقسیم، نظریاتی اختلافات اور سماجی انتشار کو بڑے چیلنجز قرار دیا۔ کلیسیا کے اندر کلیرکل ازم سنڈیلٹی کی راہ میں سب سے زیادہ نشاندہی کیے جانے والے مسائل میں سے ایک تھا۔فادر دیواداس نے کہا کہ ایک اہم موضوع خود کلیسیا کے اندر تبدیلی کی ضرورت تھا۔ شرکا نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ سنڈیلٹی اس وقت تک فروغ نہیں پا سکتی جب تک ہم کلیرکل ازم سے آگے بڑھ کر بپتسمہ کی بنیاد پر مشترکہ ذمہ داری کی طرف نہ جائیں۔نقل مکانی بھی ایک اہم اور بار بار سامنے آنے والا مسئلہ رہا، جو ایشیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے حقیقی تجربے کی عکاسی کرتا ہے۔ مذاکرات میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ثقافت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت کے ساتھ ساتھ خاندانی زندگی، آبادیاتی تبدیلی، غربت، عدم مساوات، ماحولیاتی بگاڑ اور کمزور و حاشیے پر موجود برادریوں کو درپیش مسائل پر بھی گفتگو کی گئی۔

تنوع سے اشتراک تک
تنوع سے اشتراک تک

مشترکہ سمت
اگرچہ چیلنجز مختلف تھے، تاہم مذاکرات مسلسل مشترکہ حل کی جانب بڑھتے رہے۔فادر دیواداس نے کہا کہ شرکا اس بات پر بالکل واضح تھے کہ سنڈیلٹی پہلے ایک روحانیت ہے، اس کے بعد ایک ڈھانچہ بنتی ہے۔ مسلسل تبدیلی کے بغیر کسی بھی ساختی اصلاح کو پائیدار نہیں بنایا جا سکتا۔شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر بپتسمہ یافتہ شخص کو اپنی مشنری بلاہٹ کو زیادہ بھرپور انداز میں ادا کرنے کے قابل بنایا جائے، جس کے لیے مزید تربیت، شرکت اور مشترکہ ذمہ داری کے مواقع فراہم کیے جائیں۔انہوں نے کلیسیائی و روحانی ڈھانچوں کی تجدید، قیادت کی تربیت میں سرمایہ کاری اور مسلسل ساتھ دینے کی بھی سفارش کی تاکہ سنڈیلٹی کے طریقہ کار کو ڈائیوسس اور پیرش کی روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بنایا جا سکے۔
ایک کلیسیا، ایک وژن
فادر دیواداس کے مطابق علاقائی مذاکرات کی اہمیت صرف ان عملی تجاویز میں نہیں جو ان سے سامنے آئیں، بلکہ اس اتحاد میں بھی ہے جو ان مذاکرات کے دوران ظاہر ہوا۔چاہے شرکا نے جنوب مشرقی ایشیا میں تارکین وطن کی کلیسیائی خدمت، جنوبی ایشیا میں مذہبی قوم پرستی یا وسطی و مشرقی ایشیا میں چھوٹی اور منتشر کلیسیاؤں کے حالات کے بارے میں بات کی، وہ مسلسل ایک ہی وژن کی طرف واپس آتے رہے، یعنی ایسی کلیسیا کا وژن جو مل کر سفر کرتی ہے۔فادر دیواداس نے کہا کہ علاقائی مذاکرات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سنڈیلٹی کو اب محض غور و فکر کے ایک موضوع کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ پورے ایشیا میں اسے کلیسیا کے ہونے کے ایک طریقے کے طور پر زیادہ سے زیادہ سمجھا جا رہا ہے، جو ہمیں ایسے معاشروں میں جہاں تنوع، پیچیدگی اور اْمید موجود ہے، حقیقی معنوں میں پل بنانے والے بننے کے لیے تیار کرتا ہے۔جیسے ہی FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی اپنی حتمی سفارشات کی تیاری اور ایشیا کے لیے سنڈیلٹی رہنما کتابچہ کی تدوین مکمل کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے، علاقائی مذاکرات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ براعظم کا سب سے بڑا تنوع ہی شاید اس کے گہرے ترین اشتراک کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔