صرف رپورٹیں نہیں، خدا کے فضل کی کہانیاں بھی بیان کریں۔ فادر جیاکومو کوستا
کیتھولک کلیسیا میں سنڈ برائے سنڈیلٹی کے عملی نفاذ کے مرحلہ میں داخل ہونے کے ساتھ ہی مقامی کلیسیاؤں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ محض انتظامی رپورٹیں تیار کرنے کی بجائے یہ بیان کریں کہ خدا اْن کی کلیسیاوں میں کس طرح کام کر رہا ہے۔یہ پیغام سنڈ آف بشپس کے جنرل سیکریٹریٹ کے مشیر، جیزوٹ کاہن فادر جیاکومو کوستا نے 24 جولائی کو جکارتہ کے ہوٹل مولیا کے وانڈا روم میں فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ایشیا بھر سے آئے ہوئے بشپ صاحبان اور کلیسیائی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے فادر کوستا نے کہا کہ سنڈ پر عمل درآمد کا مرحلہ اس روحانی غور و فکر پر منحصرہونا چاہیے جس کے ذریعے مقامی کلیسیائیں اپنی مشترکہ زندگی میں روح القدس کے کام کو پہچان سکیں۔انہوں نے کہا کہ ڈایوسیس سے صرف سرگرمیوں اور اعداد و شمار پر مشتمل تکنیکی رپورٹیں طلب کرنے کی بجائے ایسی رپورٹ تیار کی جانی چاہیے جس میں یہ بیان کیا جائے کہ مقامی کلیسیا کی زندگی میں خدا کا فضل کس طرح ظاہر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے کیا کیا، بلکہ یہ ہے کہ خدا ہمارے درمیان کیا کرتا رہا ہے۔اپنی بات کی وضاحت کے لیے فادر کوستا نے کلامِ مقدس کی مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ موسی نے خداوند کی موجودگی کو اُس کے گزر جانے کے بعد پہچانا، جبکہ عمواس کی راہ پر چلنے والے شاگردوں نے بھی اپنے سفر پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھا کہ وہ جی اُٹھے مسیح سے مل چکے تھے اور ان کے دل اندر ہی اندر گرم ہو رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ایمان رکھنے والے اکثر دْعا اور یادداشت کے ذریعہ خدا کی موجودگی کو پہچانتے ہیں۔ اسی طرح سنڈ پر عمل درآمد کا مرحلہ بھی مقامی کلیسیاؤں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ انجیل کی روشنی میں اپنے مشترکہ تجربات پر غور کریں اور ان میں خدا کے عمل کو دریافت کریں۔فادر کوستا نے اس بات پر زور دیا کہ رپورٹ کسی چھوٹی سی کمیٹی کی تیار کردہ دستاویز نہیں ہونی چاہیے، بلکہ وہ پوری ایمانی برادری کے باہمی سننے، دْعا، مکالمہ اور روحانی امتیاز کا ثمر ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جب ایک برادری مل کر اپنے تجربات پر غور کرتی ہے تو وہ خدا کے فضل کی ایسی نشانیاں بھی پہچان لیتی ہے جو بظاہر نظر نہیں آتیں، جیسے ٹوٹے ہوئے تعلقات کی بحالی، شرکت کے نئے مواقع، کلیسیا کے اندر بڑھتا ہوا باہمی اعتماد اور مشنری جذبے کی نئی تازگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسی حقیقتوں کو ہمیشہ اعداد و شمار میں نہیں سمویا جا سکتا، لیکن انہیں کہانیوں کے ذریعہ دیانت داری کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے۔فادر کوستا نے کہا کہ کلیسیا نے ہمیشہ خدا کے کاموں کو بیان کر کے ایمان کا اعلان کیا ہے، اس لیے مقامی کلیسیاؤں کو چاہیے کہ سنڈ پر عمل درآمد کے دوران اس قدیم روایت کو دوبارہ زندہ کریں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ نقطہ نظر مسیحیت کی بنیادی فطرت سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ کلیسیا نے عقائد کی باقاعدہ تدوین یا ادارہ جاتی ڈھانچے قائم ہونے سے پہلے بھی مسیح یسوع کی زندگی، مصلوبیت، قیامت اور اپنے لوگوں کے درمیان ان کی مسلسل موجودگی کی خوشخبری سنائی تھی۔فادر کوستا نے کہا کہ ایشیا کی کلیسیاؤں کے لیے یہ تجویز خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس براعظم میں کیتھولک کمیونیٹز مختلف ثقافتوں، زبانوں اور مذاہب کے درمیان رہتی ہیں، جہاں مکالمہ، خدمت، ثابت قدمی اور ایمان کی گواہی کے منفرد تجربات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان تجربات کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے سے مقامی کلیسیائیں نہ صرف ایک دوسرے کو مالا مال کریں گی بلکہ اپنی منفرد روحانی نعمتیں بھی عالمگیر کلیسیا کو پیش کریں گی۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر فادر کوستا نے کہا کہ سنڈ کے عملی مرحلہ میں کلیسیا کی بعض سب سے قیمتی دستاویزات شاید سرکاری تحریریں نہ ہوں بلکہ وہ کہانیاں ہوں جو مومنین ایک دوسرے کو سناتے ہیں، ایسی کہانیاں جو توبہ، مصالحت، اْمید اور وفاداری کے ساتھ ثابت قدم رہنے کی گواہی دیتی ہیں اور ظاہر کرتی ہیں کہ مسیح آج بھی اپنے لوگوں کے ساتھ چل رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اعداد و شمار اور کارکردگی کو غیر معمولی اہمیت دینے والے اس دور میں سنڈی کلیسیا ایک مختلف راستہ پیش کرتی ہے؛ ایک ایسی کلیسیا جو خدا کے فضل کی کہانیاں محفوظ رکھ کر اور انہیں دوسروں تک پہنچا کر اس زندہ مسیح کی گواہی دیتی ہے جو ہر مقامی ایمانی برادری میں مسلسل کام کر رہا ہے۔