سنڈی عمل درآمد کا مرکز روم نہیں بلکہ مقامی کلیسیائیں ہیں۔ کارڈینل گریچ
کارڈینل ماریو گریچ نے ایشیا کے بشپ صاحبان پر زور دیا ہے کہ وہ کلیسیا کے سنڈی سفر کی ذمہ داری خود سنبھالیں، کیونکہ سنڈیلٹی پر عمل درآمد روم سے جاری ہونے والی ہدایات کے ذریعہ نہیں بلکہ مقامی کلیسیاؤں کی زندگی اور مشن کے ذریعے کامیاب ہوگا۔سنڈ آف بشپس کے سیکریٹری جنرل نے 24 جولائی کو جکارتہ کے ہوٹل مولیا کے وانڈا روم میں فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سنڈپر عمل درآمد کے موضوع پر اپنی گفتگو پیش کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمی سنڈ کے اگلے مرحلہ میں تجدید کا مرکز ویٹی کن نہیں بلکہ مقامی کلیسیائیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مرحلہ کا اصل محور مقامی کلیسیا ہے، یعنی آپ کی اپنی کلیسیائیں۔کارڈینل گریچ نے واضح کیا کہ سنڈیلٹی کو روم سے چلائے جانے والے کسی پروگرام کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے ایک ایسے طرزِ زندگی کے طور پر اپنانا چاہیے جو ہر ڈایوسیس میں جڑ پکڑتا ہے، جہاں انجیل کی منادی کی جاتی ہے،یوخرستی عبادات اداکی جاتی ہیں اور خدا کے لوگ ایک ساتھ ایمان کے سفر پر گامزن رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقامی کلیسیا محض عالمگیر کلیسیا کی ایک انتظامی شاخ نہیں بلکہ خود کلیسیا کی مکمل موجودگی کا اظہار ہے۔ اس موقع پر انہوں نے دوسری ویٹی کن کونسل کی تعلیمات کا حوالہ بھی دیا۔اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کارڈینل گریچ نے ایک خط کا ذکر کیا جو انہیں پوپ فرانسس کی جانب سے سنڈ آف بشپس کے سیکریٹری جنرل مقرر کیے جانے کے بعد موصول ہونے والے اولین خطوط میں سے ایک تھا۔انہوں نے بتایا کہ ایک بشپ نے انہیں لکھا تھا کہ ہم ویٹی کن کی جاگیر نہیں ہیں، ہم ایک مقامی کلیسیا ہیں، اور ہم ہی کلیسیا ہیں۔
کارڈینل گریچ نے کہا کہ اس خط نے کیتھولک کلیسیائی تعلیم کی ایک بنیادی حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔ ہر مقامی کلیسیا اپنے مخصوص مقام پر کلیسیا کی مکمل موجودگی کا اظہار کرتی ہے اور اپنی ثقافت اور پاسبانی حالات کے مطابق مسیح کے مشن کو آگے بڑھاتی ہے۔اپنی پوری گفتگو کے دوران انہوں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ 2028 کی کلیسیائی اسمبلی تک پہنچنے والا عمل اسی وقت کامیاب ہوگا جب دنیا بھر کی ڈایوسیس اس میں بھرپور حصہ لیں گی۔انہوں نے جکارتہ میں موجود بشپ صاحبان سے کہا کہ وہ اس اجلاس میں اپنی ذاتی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنی اپنی مقامی کلیسیاؤں کے ایمان، تجربات اور زندگی کے نمائندے بن کر شریک ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مقامی کلیسیا اپنا حصہ ادا نہیں کرتی تو وہ عالمگیر کلیسیا کو ایک نہایت قیمتی نعمت سے محروم کر دیتی ہے۔ان کے مطابق ہر ڈایوسیس اپنے منفرد روحانی عطیات، پاسبانی تجربات اور ثقافتی بصیرت کے ذریعہ پوری کلیسیا کی رفاقت کو مضبوط بناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمگیر کلیسیا کی زندگی اور قوت آپ کی مقامی کلیسیاؤں کی زندگی اور قوت ہی کے ذریعہ قائم رہتی ہے۔
دوسری ویٹی کن کونسل کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کارڈینل گریچ نے کہا کہ کیتھولک کلیسیا مختلف مقامی کلیسیاؤں کی رفاقت ہے، جہاں ہر مقامی کلیسیا مکمل کلیسیا ہے، مگر ساتھ ہی دوسری تمام کلیسیاؤں کے ساتھ اتحاد اور رفاقت میں بھی قائم رہتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ سنڈی عمل درآمد کا مقصد صرف نئی دستاویزات تیار کرنا نہیں بلکہ ڈایوسیس، بشپ کانفرنسز اور براعظمی اجتماعات کے درمیان نعمتوں اور تجربات کے باہمی تبادلے کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی مقصد نئی دستاویزات تیار کرنا نہیں بلکہ نعمتوں کے ایسے تبادلے کو فروغ دینا ہے جو کلیسیائی رفاقت کو مضبوط کرے اور ہمارے مشن کو تقویت بخشے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر کارڈینل گریچ نے بشپ صاحبان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس یقین کے ساتھ اپنے اپنے وطن واپس جائیں کہ سنڈیلٹی کا مستقبل ان کی اپنی ڈایوسیس میں تشکیل پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سنڈ کی تصور کردہ تجدید اسی وقت پروان چڑھے گی جب پیرشوں اور مقامی ایمانی برادریوں میں بشپ،کاہن، راہبات اور عام مومنین مل کر دعا کریں، ایک دوسرے کو سنیں، روحانی امتیاز سے کام لیں اور مشن کی راہ پر ساتھ ساتھ چلیں۔