سنڈی تجدید کا آغاز خدا کے کلام سے ہونا چاہیے۔
کیتھولک بائبیل فیڈریشن (CBF) کے سیکرٹری جنرل فادر یان جے اسٹیفانوف، نے کہا ہے کہ ایشیا میں کلیسیا کی سنڈی تجدید کا آغاز نئے انتظامی ڈھانچوں یا پاسبانی منصوبوں سے نہیں بلکہ خدا کے کلام کے ساتھ گہرے تعلق سے ہونا چاہیے۔22جولائی کو فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC)کی 12ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فادر اسٹیفانوف نے کہا کہ ایشیا میں کلیسیا اگر حقیقی معنوں میں پْل تعمیر کرنے والی جماعت بننا چاہتی ہے تو اس کی بنیاد لازماً کلامِ مقدس پر ہونی چاہیے۔جکارتہ کے ہوٹل مولیا میں منعقد ہونے والی اس اسمبلی میں ایشیا بھر سے کارڈینلز، بشپ صاحبان، کاہن، راہبات اور مومنین نے شریک ہیں۔ اسمبلی کا موضوع ہے:”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن۔“
فادر اسٹیفانوف نے کہا کہ کلیسیا لوگوں، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان جتنے بھی پْل تعمیر کرنا چاہتی ہے، ان سب کی بنیاد اس پہلے پْل پر ہے جو خود خدا نے قائم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کلام ِ مقدس وہ پہلا پْل ہے جو خدا نے آسمان اور زمین کے درمیان قائم کیا۔ بعد میں کلیسیا جو بھی پْل لوگوں، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان تعمیر کرتی ہے، وہ سب اسی پہلے پْل یعنی خدا کے کلام پر قائم ہوتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ سنڈیلٹی کو صرف کلیسیا کو منظم کرنے یا فیصلے کرنے کے ایک نئے طریقہ کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اس کا آغاز خدا کی آواز کوکلامِ مقدس میں سننے سے ہوتا ہے۔انہوں نے سنڈ آن سنڈیلٹی کی اختتامی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خدا کے کلام کو سننا کلیسیا کے پورے امتیازی عمل کا نقطہ آغاز بھی ہے اور معیار بھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سنڈیلٹی کا آغاز خدا کے کلام سے نہ ہو تو اس کی بنیاد ختم ہو جاتی ہے۔ سنڈیلٹی سننے کے بغیر ممکن نہیں، اور کلیسیا اس وقت تک حقیقی معنوں میں سننے والی کلیسیا نہیں بن سکتی جب تک وہ پہلے خدا کے کلام کو نہ سنے۔فادر اسٹیفانوف نے کہا کہ خدا آج بھی یوخرستی عبادات، دْعا کے ساتھ کلام ِ مقدس پر غوروفکر، دینداری، غریبوں کی فریاد، تاریخی واقعات، تخلیقِ کائنات اور انسانی ضمیر کے ذریعہ گفتگو کرتا ہے، لیکن ان تمام ذرائع کی بنیاد آخرکار ”خدا کا کلام“ہی ہے۔
انہوں نے ایشیا کے بشپ صاحبان پر زور دیا کہ وہ بائبلیکل اپوسٹولیٹ کو نئی زندگی بخشیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ FABC نے ہمیشہ مقدس کلام کو اپنی پاسبانی بصیرت کا مرکزی ستون قرار دیا ہے۔اسی عزم کے تحت بشپس انسٹیٹیوٹ فار دی بائبلیکل اپوسٹولیٹ (BIBA) قائم کیا گیا، جس نے کئی دہائیوں سے کیتھولک بائبلیکل فیڈریشن کے تعاون سے ایشیا میں بائبل کی تعلیم و تربیت کو فروغ دیا ہے۔
فادر اسٹیفانوف نے بتایا کہ II BIBA، جو 1999 میں ملائیشیا میں منعقد ہوا، ایشیا میں بائبل کی تربیت کے سب سے جامع پروگراموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بعد III BIBA (2010) اور IV BIBA (2013) منعقد ہوئے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ دس برسوں میں بائبلیکل اپوسٹولیٹ کی رفتار سست پڑ گئی ہے، لیکن انہوں نے اْمید ظاہر کی کہ FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی اس عزم کو دوبارہ زندہ کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حقیقت میں کچھ بھی ضائع نہیں ہوا۔ ہمارا یہ قیمتی ورثہ آج بھی موجود ہے، لیکن وہ جوش اور تحرک جو پہلے نظر آتا تھا، اب دوبارہ بیدار کیے جانے کا منتظر ہے۔فادر اسٹیفانوف نے واضح کیا کہ ان کی تجویز کسی نئے پاسبانی پروگرام کے آغاز کی نہیں بلکہ اس بات کی ہے کہ کلامِ مقدس کلیسیا کی پوری پاسبانی زندگی اور مشن کا سرچشمہ بن جائے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کی رسولی خط ”Verbum Domin “کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ کلام ِ مقدس کو کلیسیا کی تمام پاسبانی سرگرمیوں کے لیے الہام اور رہنمائی کا بنیادی سرچشمہ بننا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایشیا کی کلیسیاؤں کو ایسے خواتین اور مردوں کی ضرورت ہے جو کلام کو سمجھنے، کھلے دل سے سننے اور مل کر خدا کی مرضی کو پہچاننے کی تربیت حاصل کریں، کیونکہ یہی تربیت سنڈی تبدیلی کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ کیتھولک بائبلیکل فیڈریشن اپنے عالمی نیٹ ورک، تربیتی وسائل اور باہمی تعاون کے ذریعے ایشیا کی کلیسیاؤں کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر فادر اسٹیفانوف نے کہا کہ کلیسیا کی حقیقی تجدید کا معیار انتظامی اصلاحات نہیں بلکہ وہ دل ہوں گے جو خدا کے کلام سے تبدیل ہو چکے ہوں۔انہوں نے کہا کہ اسی مضبوط بنیاد پر کلیسیا خدا کی مرضی کو پہچان سکتی، ایمان میں مل کر سفر کر سکتی اور ایشیا میں اْمید کا پْل بننے کے اپنے مشن کو پورا کر سکتی ہے۔