سندھ کے ضلع بدین میں چرچ کا فلاحی منصوبہ، سیلاب متاثرین کے لیے 50 گھر تیار
مونیکا واگو، جو پانچ بچوں کی ماں ہیں، اْن کے لیے بارش کی آواز کبھی خوف کی علامت ہوا کرتی تھی۔ ضلع بدین کے نشیبی علاقوں میں، جو سندھ کے جنوبی حصے میں واقع ہے، گہرے بادل صرف بارش کی خبر نہیں لاتے تھے بلکہ اس بات کا اندیشہ بھی ہوتا تھا کہ وہ اپنی تمام جمع پونجی کھو سکتی ہیں۔ کئی دہائیوں تک اْن کی زندگی کچے مٹی کے گھروں اور موسمی مزدوری کی غیر یقینی صورتحال کے گرد گھومتی رہی۔ ملک بھر میں ہزاروں دیگر افراد کی طرح، مونیکا کا خاندان بھی بار بار بے گھر ہونے کے چکر میں پھنسا رہا، جہاں وہ لکڑی اور مٹی کے کمزور گھروں میں رہتے تھے جو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے سامنے نہایت کمزور ثابت ہوتے تھے۔لیکن آج، اس خوف کی جگہ اینٹوں کی مضبوطی اور بجلی کی سہولت نے لے لی ہے۔ کیتھولک ڈایوسیس آف حیدرآباد کی قیادت میں دو سالہ بحالی کے سفر کے بعد، 2022 کے سیلاب کی تباہ کاریوں کے ملبہ سے ایک نیا ماڈل گاؤں تعمیر کیا گیا ہے۔
دسمبر 2025 میں مکمل ہونے والا یہ منصوبہ، جس کا عنوان 2022 کے سیلاب سے متاثرہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار کمیونٹیز کی بحالی اور تعمیر نوہے، اب 50 مسیحی خاندانوں کو مستقل اور آفات سے محفوظ گھر فراہم کر چکا ہے، جو پہلے پاکستان کے دیہی علاقوں کے سب سے کمزور افراد میں شمار ہوتے تھے۔
پاکستان کے سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات والے علاقوں میں سے ایک ہونے کے ناطے، ضلع بدین نے 2022 کی مون سون بارشوں کا شدید اثر برداشت کیا۔ اس دوران سندھ میں معمول سے تقریباً 426 فیصد زیادہ بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں 17 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین زیر آب آگئی اور پورے پاکستان میں 20 لاکھ سے زیادہ گھر تباہ ہو گئے۔ بدین میں پانی کئی ماہ تک کھڑا رہا، جس نے چاول اور کپاس کی فصلوں کو تباہ کر دیا اور ہزاروں مویشی ہلاک ہو گئے۔
16 فروری کو گھروں کی حوالگی کی تقریب ایک بامعنی اجتماع تھا جس میں کاہنانہ برادری، سسٹرز صاحبات اور مومنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس منصوبے کے روحِ رواں عزت مآب بشپ سیمسن شْکردین نے کہا کہ یہ مشن پسماندہ افراد کے لیے گہری روحانی ذمہ داری کے تحت انجام دیا گیا ہے۔انہوں نے تقریب کے دوران کہا کہ ہمارے لوگوں نے ناقابلِ بیان مشکلات کا سامنا کیا ہے، وہ ہر بارش سے خوفزدہ رہتے تھے اور کمزور مٹی کے گھروں میں اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے جدوجہد کرتے تھے۔ یہ گاؤں صرف تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک پناہ گاہ ہے جہاں خاندان سکون سے سو سکتے ہیں۔ ہم صرف دیواریں نہیں بنا رہے بلکہ اپنے ان بھائی بہنوں کی کھوئی ہوئی عزت بحال کر رہے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث متاثر ہوئے۔یہ گاؤں پائیدار تعمیرات کی عکاسی کرتا ہے۔ ماضی کے کچے گھروں کے برعکس، یہ 50 مکانات (ہر ایک میں 6 سے 8 افراد کی گنجائش) اس طرح تعمیر کیے گئے ہیں کہ وہ مستقبل کے ماحولیاتی خطرات کا مقابلہ کر سکیں۔ گاؤں میں صاف پانی کے لیے چار ہینڈ پمپ، صفائی کا نظام اور ایک کثیر المقاصد ہال بھی شامل ہے جو کمیونٹی اجتماعات اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے استعمال ہوگا۔
بشپ جی نے مزید کہا کہ ہماری سوچ صرف عمارتوں تک محدود نہیں ہے۔ ہم اس گاؤں کی خواتین کو بااختیار بنانے پر خاص توجہ دے رہے ہیں تاکہ ماؤں کو ہنر ملے اور بچوں کو ایک محفوظ ماحول میسر آئے جہاں وہ تعلیم حاصل کر سکیں۔ ہم زندگیاں سنوار رہے ہیں اور اپنی نئی نسل کا مستقبل محفوظ بنا رہے ہیں۔اس منصوبے میں روزگار کے مواقع بھی شامل کیے گئے ہیں۔ سات خاندانوں کو گاؤں میں چھوٹی دکانیں دی گئی ہیں، جس سے ایک چھوٹی معیشت وجود میں آئی ہے اور وہ موسمی مزدوری پر انحصار کم کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حقیقی بحالی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے خاندان کی باعزت کفالت کے وسائل فراہم کیے جائیں۔ دکانوں اور مستقل رہائش کے ذریعے ہم ان خاندانوں کو خودمختار بنا رہے ہیں تاکہ وہ معاشرے میں باوقار کردار ادا کر سکیں۔
اگرچہ اس منصوبے کو مقامی حکومت کی مالی معاونت حاصل نہیں تھی لیکن اس کی کامیابی بین الاقوامی چرچ تعاون کا نتیجہ ہے۔ عالمی اداروں جیسے Missio، Vision Teilen، Missionszentrale der Franziskaner، اور Aid to the Church in Need (ACN) کی مدد سے یہ منصوبہ مکمل کیا گیا۔ ڈایوسیس نے سینٹ جوزف پیرش کی زمین استعمال کرتے ہوئے اس منصوبے کو کامیابی سے مکمل کیا۔کمیونٹی اس نئے موقع پر بے حد شکر گزار ہے۔
مونیکا واگو اپنے نئے گھر کے دروازے پر کھڑی ہو کر کہتی ہیں:
آج مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میرے کندھوں سے ایک بڑا بوجھ اْتر گیا ہو۔ یہ ایک نئی شروعات ہے اور
اس بات کی علامت ہے کہ ہمیں بھلایا نہیں گیا۔