تعلیم کا اصل مقصد تربیت ِانسانیت ہے۔فضیلت مآب آرچ بشپ خالدرحمت
مورخہ 28 اپریل 2026 کو سینٹ انتھونی ہائی اسکول لاہور کینٹ کی سلور جوبلی کی تقریب نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کی گئی۔ اس پروقار تقریب کی صدار ت فضیلت مآب آرچ بشپ خالدرحمت نے کی۔تقریب کے آغاز میں سکول بینڈ نے فضیلت مآب آرچ بشپ خالدرحمت کو سلامی پیش کرتے ہوئے پرتپاک استقبال کیا۔ بعد ازاں پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے اور ہار پہنا کر خوش آمدید کہا گیا۔ اس موقع پر پاک ماس کی اقدس قربانی خدا کی نذر گزرانی گئی۔ جس کی قیادت فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے، جبکہ معاونت ریورنڈ فادر ولیم بشارت، ریورنڈ فادر قیصر فیروز اور ریورنڈ فادر عدنان کاشف نے فرمائی۔
اپنے خطاب میں فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے کہا کہ تعلیم کا مقصدتربیت ِانسانیت ہے تاکہ طلبہ کو اچھا انسان اور ذمہ دار شہری بنایا جا سکے۔انہوں نے سکول کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے اساتذہ، سسٹر لوق، سسٹر نیلانتی، سسٹر پراگشنی اور سسٹر عظمت کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔جنہوں نے آرچ ڈایوسیس آف لاہور کے اس تاریخی ادارے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سسٹر عظمت کو بطور نئی پرنسپل ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی۔
فضیلت مآب آرچ بشپ خالدرحمت نے کیتھولک بورڈ آف ایجوکیشن،آرچ ڈایوسیس آف لاہور کے تین مقاصدکو بیان کیا۔
1۔ لاہور ایجوکیشن بورڈ کا مقصد معیاری تعلیم ہے۔
2۔ انجیل کی اقدار میں تربیت دینا
3۔ کردار سازی کرنا تاکہ طلبہ کو اچھا انسان، ذمہ دار اور پُرامن شہری بنایا جا سکے۔
انہوں نے طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کے اسکول کا نام مقدس انتھونی کے نا پر رکھا گیا ہے جو کیتھولک چرچ کے ایک عظیم مقدس اور عظیم عالم ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد خدا کے کلام کی منادی کرنا تھا۔ انہیں اچانک منادی کے لیے کہا گیا، لیکن جب انہوں نے منادی کی تو سب حیرت سے بھر گئے۔ وہ سادہ اور عاجز تھے۔ ان کی عاجزی اور معجزات آج بھی بولتے ہیں کیونکہ وہ خدا میں کیے گئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب یسوع المسیح کے شاگرد انطاکیہ سے منادی کے لیے نکلے تو جو کام انہوں نے کیے وہ آج بھی بول رہے ہیں۔اْنہی سے کلیسیا مضبوط ہو رہی ہے۔ مشنریوں کے کام آج بھی زندہ ہیں۔ انہوں نے نئی ثقافتیں اور زبانیں سیکھی۔ ان کی لگن اور محنت بولتی ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ آپ کو بھی انھی کے نقشِ قدم پر چلنا ہے تاکہ آپ کی لگن اور محنت ہمیشہ یاد رکھی جائے۔
انہوں نے سلور جوبلی کے موقع پر گزشتہ 24 سالہ سفر کو یاد کرتے ہوئے اسے شکرگزاری اور مستقبل کے لیے اْمید کا پیغام قرار دیا گیا۔
آخر میں بشپ جی نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی جائیں اپنی زندگی میں اقدار کو چمکنے دیں۔ جو آپ یہاں سے سیکھتے ہیں اْسے دنیا کے ساتھ بانٹیں، اپنی امن اور اْمید کی روشنی دوسروں تک پہنچنے دیں اور معاشرے کے ذمہ دار شہری بنیں۔