ریورنڈ فادر خلیل مقصود مسیحی بیٹی کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف انصاف کی جدوجہد میں پیش پیش
میری موجودگی مسکان ریاض کے خاندان کے ساتھ صرف قانونی مدد تک محدود نہیں، بلکہ یہ اْس انسانی وقار کے لیے کھڑے ہونے کا معاملہ ہے جو خدا نے ہر انسان کو عطا کیا ہے۔جبکہ بہت سے لوگ ایک پیرش پریسٹ کو صرف عبادت گاہ تک محدود سمجھتے ہیں، فیصل آباد کے رومن کیتھولک ڈایوسیس سے تعلق رکھنے والے اور سمندری میں سینٹ میریز کیتھولک چرچ کے پیرش پریسٹ فادر خلیل مقصود نے اپنی خدمت کو انصاف کے محاذ پر نئی پہچان دی ہے۔
گاؤں 437 جی بی میں پیش آنے والے ایک سنگین جرم کے بعد فادر مقصود چرچ کی چار دیواری تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے کمزور اور مظلوم افراد کے درمیان جا کر نہ صرف جسمانی تحفظ فراہم کیا بلکہ قانونی معاونت بھی کی۔گاؤں 437 جی بی، ضلع فیصل آباد کے علاقے سمندری میں واقع ایک زرعی بستی ہے۔یہ معاملہ 4 اپریل 2025 کو شروع ہوا، جب 16 سالہ لڑکی مسکان ریاض کو چار افراد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، اس جرم کی ویڈیو بنائی اور اْسے سوشل میڈیا پر پھیلا دیا۔مسکان کے ماموں، 48 سالہ نابینا ہنوک مسیح نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کیا، ایک ایسے نظام میں جہاں اکثر کمزور طبقات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہنوک خود قانونی کارروائی مکمل طور پر نہیں سنبھال سکتے تھے لہٰذا ریورنڈفادر مقصود نے آگے بڑھ کر اْن کی مدد کی۔ انہوں نے مقدمہ درج کروانے میں معاونت کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ حکام کارروائی کریں۔اکتوبر 2025 میں ملزمان میں سے دو کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد انہوں نے خاندان کو دھمکیاں دیں اور کیس واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ریورنڈ فادر مقصود کو بھی دھمکیاں دی گئیں کہ وہ اپنی حمایت واپس لے لیں۔تاہم، فادر جی ثابت قدم رہے اور مسکان اور اْس کے خاندان کو تنہا چھوڑنے سے انکار کر دیا۔فادر مقصود نے کہا کہ میری موجودگی یہاں صرف قانونی مدد نہیں بلکہ انسانی وقار کے دفاع کے لیے ہے۔انہوں نے ہنوک اور مسکان کے ساتھ عدالت میں پیشیاں بھگتیں، پولیس تفتیش کے دوران اْن کا ساتھ دیا، اور اْن کی حفاظت کے لیے دْعا کرتے رہے۔ انہوں نے خاندان کو سماجی دباؤ اور دھمکیوں کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے یہ بھی یقینی بنایا کہ مسکان کو ذہنی صدمہ سے نمٹنے کے لیے مشاورت (کاؤنسلنگ) فراہم کی جائے، خاص طور پر ویڈیو کے سوشل میڈیا پر پھیلنے کے اثرات کے حوالے سے۔
دھمکیوں کے باوجود متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہو کر فادر خلیل مقصود نے یہ ثابت کیا کہ انصاف کی تلاش چرچ کی خدمت کا ایک لازمی حصہ ہے۔صورتحال 12 اپریل 2026 کو اس وقت مزید خراب ہو گئی جب مبینہ طور پر ملزمان نے ہنوک کے گھر کو آگ لگا دی۔ اس حملے کے بعد فادر مقصود نے خاندان کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کیا اور اْن کے لیے خوراک، کپڑے اور رہائش کا انتظام کیا۔
مقدمہ تاحال عدالت میں زیر سماعت ہے اور فادر جی زیادتی اور گھر جلانے دونوں واقعات میں انصاف کے حصول کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔قانونی کیس کو مضبوط بنانے کے لیے کیتھولک این جی او Christian True Spirit مسکان اور ہنوک کو قانونی مدد فراہم کر رہی ہے۔ چرچ کی دیکھ بھال اور قانونی معاونت کے اس اشتراک نے خاندان کو ضمانت کے فیصلوں کو چیلنج کرنے اور عدالتی عمل کو جاری رکھنے میں مدد دی ہے۔
فادر مقصود، سی ٹی ایس کی قانونی ٹیم کے ساتھ مل کر ملزمان کے خلاف جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ہنوک مسیح نے فادر جی کو اپنی زندگی میں ایک اہم سہارا قرار دیا:میں اندھیرے کی دنیا میں رہتا ہوں، مگر فادر خلیل مقصود میری آنکھیں بن گئے ہیں۔ جب آگ نے میرا گھر چھین لیا اور دھمکیوں نے میرا سکون، وہ میرے ساتھ کھڑے رہے۔ اْن کے بغیر مجھے بہت پہلے خاموش کرا دیا جاتا۔سی ٹی ایس کے چیف ایگزیکٹو آفیسرآشر سر فرازنے بھی فادر مقصود کے عزم کو سراہا۔ہم اس کیس میں چرچ کی سماجی تعلیمات کو عملی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ دھمکیوں کے باوجود متاثرین کے ساتھ کھڑے ہو کر فادر خلیل مقصود نے یہ ثابت کیا ہے کہ انصاف کی جدوجہد چرچ کی خدمت کا بنیادی حصہ ہے۔گاؤں 437 جی بی میں جلائے گئے گھر کے ملبے اس ظلم کی واضح یاد دہانی ہیں، جبکہ فادر مقصود کے اقدامات کمزوروں کے وقار کے دفاع کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔