ایف اے بی سی کے دفتر برائے الٰہیاتی امور کی اپیل: ایشیائی الٰہیات مکالمہ اور روزمرہ زندگی سے جڑی ہونی چاہیے۔

ایف اے بی سی کے دفتر برائے الٰہیاتی امور کی اپیل: ایشیائی الٰہیات مکالمہ اور روزمرہ زندگی سے جڑی ہونی چاہیے۔
ایف اے بی سی کے دفتر برائے الٰہیاتی امور کی اپیل: ایشیائی الٰہیات مکالمہ اور روزمرہ زندگی سے جڑی ہونی چاہیے۔


ایشیا میں علم الٰہیات (تھیولوجی) کو صرف درسگاہوں اور علمی مباحث تک محدود رہنے کے بجائے عوام کی روزمرہ زندگی، تجربات اور معاشرتی حقائق سے جنم لینا چاہیے۔ یہ بات فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کے دفتر برائے الٰہیاتی اُمور نے 21 جولائی کو جکارتہ کے ہوٹل مولیا میں منعقد ہونے والی 12ویں ایف اے بی سی جنرل اسمبلی کے دوران اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہی۔دفتر کے چیئرمین، بشپ ایڈرینس سونارکو، بشپ آف پانگکل پنانگ (انڈونیشیا)، نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ الٰہیات کو کلیسیا کے مشن کا ساتھ دیتے ہوئے لوگوں کی آواز سننی چاہیے، مقامی ثقافتوں سے مکالمہ کرنا چاہیے اور ایشیا کے بدلتے ہوئے حالات میں زمانے کی نشانیوں کو پہچاننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ماہرِ الٰہیات صرف علمی ماہرین نہیں بلکہ خدا کے لوگوں کے ‘‘ہم سفر’’ ہیں، جو کلیسیا کو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ انجیل کا پیغام ایسے براعظم میں کس طرح موثر انداز میں پیش کیا جائے جہاں مذہبی تنوع، قدیم تہذیبیں، تیز رفتار جدیدیت اور پیچیدہ سماجی چیلنجز موجود ہیں۔
رپورٹ میں اس وژن کو بھی دہرایا گیا جو ایف اے بی سی کے قیام سے پچاس برس قبل ہی اس کی شناخت بن چکا ہے کہ ایشیا کی کلیسیا کو برِاعظم کی عوام، ثقافتوں اور مذہبی روایات کے ساتھ مکالمہ کے ذریعے اپنی منفرد الٰہیاتی آواز پیدا کرنی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق، بیرونی خطوں میں تیار کی گئی الٰہیاتی سوچ کو محض اختیار کرنے کے بجائے ایک مستند ایشیائی الٰہیات مقامی کلیسیاؤں کے عملی تجربات سے جنم لے، جبکہ کیتھولک کلیسیا کی عالمگیر تعلیمات سے بھی وفادار رہے۔ دوسری ویٹی کن کونسل کی دستاویز ‘‘ Ad Gentes ’’سے رہنمائی لیتے ہوئے، دفتر مختلف بشپ کانفرنسوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ اپنے مقامی ثقافتی اور پاسبانی حالات کے مطابق الٰہیاتی فکر کو فروغ دیں۔
رپورٹ میں دفتر کے اشتراکی اندازِ کار کو بھی نمایاں کیا گیا۔ انڈونیشیا، بھارت، جاپان، ملائیشیا، فلپائن، جنوبی کوریا، سری لنکا، تائیوان، تھائی لینڈ، ویتنام اور ہانگ کانگ کے ماہرِ الٰہیات اس پلیٹ فارم کے ذریعہ مشترکہ طور پر فکری تبادلہ خیال اور روحانی امتیاز میں شریک ہوتے ہیں، جس سے یہ دفتر پورے ایشیا میں الٰہیاتی غوروفکر کا ایک مضبوط نیٹ ورک بن چکا ہے۔
 

 دفتر برائے الٰہیاتی امور
دفتر برائے الٰہیاتی امور


گزشتہ دو دہائیوں میں دفتر نے مذہبی آزادی، انسانی عظمت، ماحولیات اور کرونا وبا کے دوران کلیسیا کے کردار جیسے موضوعات 

پر متعدد تحقیقی مطالعات شائع کیے ہیں۔ اس کی تازہ ترین اشاعت اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ کلیسیا کا سنڈی سفر ایشیا کی منفرد ثقافتی، سماجی اور مذہبی حقیقتوں سے کس طرح تشکیل پاتا ہے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا کہ ان تمام مطبوعات کی تیاری کا عمل خود بھی ایک سنڈی سفر ہے۔ الٰہیات دان تحقیق کے آغاز سے پہلے دْعا، خاموشی اور اجتماعی روحانی امتیاز میں وقت گزارتے ہیں، پھر تحقیق کرتے، مسودہ ایک دوسرے سے شیئر کرتے اور باہمی مشاورت سے انہیں بہتر بناتے ہیں۔ دفتر نے اس طریقہ کار کو ‘‘سنڈی الٰہیاتی عمل’’ قرار دیا۔رپورٹ کا ایک موثر استعارہ ‘‘عمواس کی راہ پر شاگردوں’’ کے انجیل کے واقعہ سے لیا گیا، جس میں کلیسیا کو دعوت دی گئی کہ وہ ‘‘سرد دلوں، سرد نگاہوں اور سست قدموں’’ سے نکل کر ایسے دلوں کی طرف بڑھے جو مسیح کی محبت سے روشن ہوں، ایسی آنکھوں کی طرف جو ملاقات کے ذریعے کھل جائیں، اور ایسے قدموں کی طرف جو مشن کے لیے تیار ہوں۔دفتر کے مطابق سنڈیلٹی صرف کلیسیا کے نظم و نسق کا نیا طریقہ نہیں بلکہ ایک روحانی تبدیلی ہے جو کلیسیا کو مسیح کے ساتھ سفر کرنے والی ایک برادری میں تبدیل کرتی ہے۔رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حقیقی الٰہیاتی فکر صرف تحقیق سے نہیں بلکہ مشترکہ دْعا،یوخرستی عبادت، ایمانی رفاقت اور ایک دوسرے کی بات سننے کے تجربہ سے پروان چڑھتی ہے۔ یہی عناصر مستند الٰہیات کی بنیاد ہیں۔
12ویں ایف اے بی سی جنرل اسمبلی اپنے مرکزی موضوع ‘‘‘‘تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔’’ (یوحنا 1:50)۔‘‘سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل اور پْل بنانے والے بننے کے مشن ’’کے تحت جاری ہے۔ اس موقع پر دفتر برائے الٰہیاتی اُمور نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایسی منفرد ایشیائی الٰہیات کو فروغ دیتا رہے گا جو بولنے سے پہلے سنتی ہے، سکھانے سے پہلے سیکھتی ہے، اور ایشیا کے عوام کے ساتھ چلتے ہوئے انجیل کی بشارت دیتی ہے۔