انڈونیشیا کے وزیر برائے مذہبی امور کی ایشیائی مذہبی رہنماؤں سے محبت کی زبان اپنانے کی اپیل

انڈونیشیا کے وزیر برائے مذہبی امورناصرالدین عمر
انڈونیشیا کے وزیر برائے مذہبی امورناصرالدین عمر

انڈونیشیا کے وزیر برائے مذہبی امورناصرالدین عمرنے ایشیا بھر کی مذہبی برادریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن کے فروغ، تنازعات کے حل اور باہمی ہم آہنگی کے لیے محبت کی زبان کو اپنائیں اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ایمان تقسیم کا نہیں بلکہ اتحاد کا ذریعہ ہونا چاہیے۔انہوں نے یہ بات 21 جولائی کو جکارتہ کے ہوٹل مولیا میں منعقد ہونے والی فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
جناب ناصرالدین عمر نے کہا کہ یہ اجتماع محض کیتھولک کلیسیا کی داخلی نشست نہیں بلکہ ایشیا میں اَمن کے فروغ، عوام کے درمیان یکجہتی کو مضبوط بنانے اور ایک زیادہ منصفانہ اور جامع مستقبل کی تعمیر کے لیے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع ہمارے اس مشترکہ عزم کا حصہ ہے جس کے ذریعے ہم امن کو فروغ دینا، عوام کے درمیان یکجہتی کو مضبوط بنانا، اور ایشیا کے لیے ایک پُرامن، منصفانہ اور جامع مستقبل کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے براعظم ایشیا سے آنے والے کارڈینلز، بشپ صاحبان، کاہنوں، راہبات اور عوامی نمائندوں کا خیرمقدم بھی کیا۔
وزیر برائے مذہبی امورنے کہا کہ ایشیا کی تہذیبی، لسانی اور مذہبی رنگا رنگی ایک عظیم نعمت بھی ہے اور ایک بڑی ذمہ داری بھی۔ تاہم انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اس وقت ایشیا کو مسلح تنازعات، سماجی تقسیم، مذہبی انتہا پسندی، معاشی و سماجی عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلی، ہجرت اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی جیسے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔اور ان مسائل و چیلنجز کا حل صرف سیاسی یا معاشی اقدامات سے ممکن نہیں۔

 ناصرالدین عمر
ناصرالدین عمر

انہوں نے کہا کہ ان کا یقین ہے کہ تنازعات اور اختلافات کو مذہب کی زبان، یعنی محبت کی زبان کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ محبت ہمیں رحم، ہمدردی اور اختلافات کو نفرت میں بدلے بغیر قبول کرنے کا درس دیتی ہے۔ناصرالدین عمر نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایمان ہمیشہ اتحاد، مکالمے اور مفاہمت کا ذریعہ بنے۔انہوں نے انڈونیشیا کو مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے پُرامن بقائے باہمی کی ایک عملی مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق 17 ہزار سے زائد جزائر، سینکڑوں نسلی گروہوں اور مختلف مذہبی روایات پر مشتمل انڈونیشیا نے اپنی مذہبی و ثقافتی تنوع کو قومی طاقت کا سرچشمہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
اس عزم کی ایک نمایاں مثال دیتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ 2024میں مرحوم پوپ فرانسس اور مسلم رہنماؤں نے اعلانِ استقلال پر دستخط کیے تھے، جبکہ جکارتہ میں استقلال مسجداور کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف دی اسمپشن کو ملانے والی دوستی کی سرنگ (Tunnel of Friendship)بھی تعمیر کی گئی، جو بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ مذہبی اور ثقافتی تنوع کو پُرامن انداز میں منایا جا سکتا ہے، اور یہی تنوع مشترکہ طاقت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کے موضوع ’سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن“ کا حوالہ دیتے ہوئے ناصرالدین عمر نے کہا کہ کلیسیا کی سنڈیلٹی پر دی جانے والی اہمیت انڈونیشیا کی قدیم روایات مشاورت (Musyawarah) اورگوٹونگ روؤنگ (Gotong Royong)سے گہری ہم آہنگی رکھتی ہے، جو مکالمہ، شمولیت اور مشترکہ بھلائی کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیتی ہیں۔انہوں نے اْمید ظاہر کی کہ یہ اجلاس بین المذاہب مکالمہ کو مزید مضبوط کرے گا، انسانی خدمت کے میدان میں تعاون کو فروغ دے گا، اور ایشیا میں امن کے لیے نئی عملی تجاویز اور اقدامات کی راہ ہموار کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ دعا ہے کہ جکارتہ اَمن کے لیے نئے خیالات کی جنم بھومی بنے، یہ اجتماع اْخوت کے رشتوں کو مزید مضبوط کرے، اور ایشیا دنیا کو یہ دکھاتا رہے کہ تنوع تقسیم نہیں بلکہ طاقت کا سرچشمہ ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر ناصرالدین عمر نے فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کے باضابطہ آغاز کا اعلان کر دیا۔