آرچ ڈایوسیس آف لاہور میں ہفتہء بین المذاہب مکالمہ وہم آہنگی کے سلسلے میں خصوصی تقریب کا انعقاد
مورخہ 5 فروری 2026 کو آرچ ڈایوسیس آف لاہور میں ریورنڈ فادر آصف سردار،وِکر جنرل کی قیادت میں ہفتہء بین المذاہب مکالمہ وہم آہنگی کے سلسلے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مہمانِ خصوصی محترمہ Jean Marriott ہائی کمشنر،برطانیہ اور سردار رمیش سنگھ اروڑا،وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امورپنجاب، پاکستان تھے۔ اس تقریب میں مختلف مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مسیحی و مسلم رہنماوں، ہندو اور سکھ برادری، انسانی حقوق کے کارکنان،کاہن صاحبان اور نوجوانوں نے شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ دینا تھا۔
اس موقع پر پر مہماناِ ن گرامی کا پْر جوش استقبال کیا گیا۔نیز سیکرڈ ہارٹ آف جیز ز کیتھیڈرل کا دورہ بھی کروایا گیا۔ تقریب کے آغاز پر تینوں مذاہب کی مقدس کتابوں سے تلاوت کی گئی۔ قرآنِ پاک، بائبل مقدس اور گرو گرنتھ صاحب سے منتخب اقتباسات پیش کیے گئے، جن میں امن، محبت، رواداری اور انسانیت کے پیغام کو اجاگر کیا گیا۔نیز امن وہم آہنگی کی شمع روشن کی گئی۔
سردار رمیش سنگھ اروڑا،وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امورپنجاب، پاکستان نے اس موقع پرکہا کہ یہ ریاست کا آئین برابری کا آئین ہے۔ محترمہ مریم نواز صاحبہ،وزیرِ اعلٰی پنجاب نے واضح الفاظ میں کہا کہ اقلیتیں ہمارے سر کا تاج ہیں اور گزشتہ کرسمس ریلی اس کا عملی مظاہرہ ہے جس میں تمام مذاہب کے افراد نے بھرپور حصہ لیا۔ آج ہندو، سکھ، مسلمان اور مسیحی سب متحد ہیں اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کی صورتحال اب صرف برداشت تک محدود نہیں بلکہ قبولیت اور احترام کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔
برطانیہ کی ہائی کمشنر، محترمہ Jean Marriott نے کہا کہ میرے لیے خوش آئند بات ہے کہ میں نے مختلف ممالک میں بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم اکثریتی طبقے میں ہیں تو ہمیں اقلیتوں کا خیال رکھنا چاہیے نہ کہ ان پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ کیونکہ جب ہم دوسروں کو ستاتے ہیں تو ہمارا ایمان آزمائش میں پڑ جاتا ہے، لیکن اچھا رویہ دوسروں کے ایمان کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔
انہوں نے جڑانوالہ واقع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوفناک واقعہ تھا، لیکن خوشی کی بات یہ ئے کہ تما م مذہبی رہنماوں نے مسیحیوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کی نیزبرٹش کونسل اور امریکہ بھی اس معاملے میں پیچھے نہ رہا تاکہ اس کا بہتر حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بھی اس بین المذاہب ہم آہنگی گروپ میں شامل کرنا چاہیے کیونکہ مشترکہ کام زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر ریورنڈ فادر آصف سردار نے فضیلت مآب آرچ بشپ بینی ماریو ٹراوس،اپاسٹولک ایڈمنسٹریٹر۔آرچ ڈایوسیس آف لاہور کی جانب سے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اورمتی کی انجیل سے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ”مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے فرزند کہلائیں گے“۔انہوں نے کہا کہ یہ پیغام ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے اور آپ سب مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے کے باوجود امن اور صلح کے لیے جو کردار ادا کر رہے ہیں وہ قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بائبل مقدس میں یہ بھی لکھا ہے کہ”تم دنیا کانورہو“بطور اقلیت طب اورتعلیمی شعبے میں ہماری گرانقدر خدمات ہیں جو اسی تعلیم کا عملی اظہار ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ محبت، احترام اور برداشت ہی پائیدار امن کی بنیاد ہیں۔