محبت کے نام پر خود فریبی
انسان کی فطرت ہے کہ وہ محبت کے ذریعے سب کچھ بدل دینے کا خواب دیکھتا ہے۔ ہم یہ مان لیتے ہیں کہ خلوص، قربانی اور مسلسل توجہ سے ہر دل نرم ہو سکتا اور ہر رشتہ خوبصورت بن سکتا ہے۔ مگر زندگی ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ ہر شے کی ایک اصل ہوتی ہے جسے وقتی رنگ و روغن سے بدلا نہیں جا سکتا۔
جس طرح لہسن کو چاہے کتنے ہی قیمتی زعفران کے پانی میں بھگو دیا جائے، اْس کی اپنی بو ختم نہیں ہوتی۔ اسی طرح کچھ دل ایسے ہوتے ہیں جن کی فطرت میں بدبو، تلخی اور خودغرضی بسی ہوتی ہے۔ آپ اْن پر محبت کے عطر اْنڈیلتے رہیں، عزت کے پھول نچھاور کرتے رہیں، وہ چند لمحوں کے لیے بدلتے ضرور نظر آئیں گے، مگر وقت کے ساتھ اپنی اصل پہچان ظاہر کر ہی دیتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے ساتھ رہ کر انسان آہستہ آہستہ خود کو کھو دیتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید کمی اْس کے اپنے خلوص میں ہے، شاید اس کی محبت ابھی کافی نہیں۔ وہ بار بار خود کو قصوروار ٹھہراتا اور مزید جْھک جاتا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ مسئلہ محبت کی کمی نہیں بلکہ دل کی نیت اور ظرف کا ہوتا ہے۔ جو دل محبت کو سنبھالنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ اْسے بوجھ سمجھتا ہے۔
کچھ رشتے ہمیں سہارا دینے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں سیکھانے کے لیے ملتے ہیں۔ وہ ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہر ایک کے لیے اپنا دل کھول دینا دانشمندی نہیں اور ہر مسکراہٹ خلوص کی علامت نہیں ہوتی۔ ایسے تجربات انسان کو تکلیف ضرور دیتے ہیں مگر یہی تکلیف آگے چل کر عقل، شعور اور خودداری میں بدل جاتی ہے۔
محبت کرنا کمزوری نہیں مگر اپنی محبت غلط جگہ خرچ کرتے رہنا خود سے ظلم ہے۔ اپنی قدر پہچاننا، اپنی حدود قائم رکھنا اور یہ جان لینا کہ ہر دل بدلنے کے قابل نہیں ہوتا، یہی اصل دانائی ہے۔ جو شخص بار بار آپ کی محبت کو نظر انداز کرے، وہ دراصل آپ کو یہ پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ آپ کی خوشبو اس کے لیے معنی نہیں رکھتی۔
ہر دل زعفران کی خوشبو قبول نہیں کرتا۔ محبت وہیں کریں جہاں اس کی قدر ہو، کیونکہ غلط دل پر لٹائی گئی محبت آخرکار انسان کو خود اپنی نظروں میں گرِا دیتی ہے۔