کلیسیا مستقبل تعمیر کرتی ہے، جبکہ جنگ حال کو تباہ کر دیتی ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 18جون 2026کوپوپ لیو چہاردہم نے مشرقی کلیسیاؤں کے امدادی اداروں کے اتحاد (ROACO) کے مکمل اجلاس کے شرکاء سے ملاقات کرتے ہوئے کیتھولک مسیحیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی روحانی دولت سے عالمگیر کلیسیا کو مالا مال کریں اور ساتھ ہی جنگوں اور عدم استحکام کی مذمت کی، جو بے شمار مسیحیوں کو اپنے آبائی علاقے چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
اپنے خطاب میں پوپ لیو نے اس بات کو سراہا کہ اجلاس میں مشرقی سیمینریوں میں کاہنوں اور راہبات کی تربیت کے لیے تعاون کی ضرورت پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی کیتھولک کلیسیائیں روحانی خزانوں سے مالا مال ہیں اور اْن کے پاس پوری کلیسیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے بہت کچھ ہے، جبکہ خادمین کی مناسب تربیت کلیسیا کی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ماں، کلیسیا، متحد ہے مگر یکساں نہیں۔ اْس کی زرخیز آغوش نے مختلف روحانی اور الٰہیاتی روایات، نیز مختلف رسوم اور ضوابط کو جنم دیا ہے، جو ایک دوسرے کو غنی بناتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرقی کلیسیائیں اپنی عبادات اور رسوم کے ذریعے ایمان کے ابتدائی سرچشموں کی یاد تازہ کرتی ہیں اور خدا کے فضل کی روشنی کو نمایاں کرتی ہیں۔
تاہم، پوپ لیو نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقی مسیحی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کی صحیح تفہیم ضروری ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب تربیت اور تعلیم پر سرمایہ کاری کی جائے۔ اسی لیے انہوں نے ROACO کے اس فیصلے کی حمایت کی کہ مستقبل کے کاہنوں اور خادمین کی تربیت کے اخراجات میں مدد فراہم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ علم، محبت، روشن ذہن اور خدمت گزار ہاتھوں کے اس رشتے کے لیے ایک روحانی پہلو بھی ضروری ہے: ایسا دل جو نہ صرف فیاض ہو بلکہ خدا کے فضل سے معمور اور روح القدس کی آگ سے روشن ہو۔
اس کے بعد پوپ لیو نے جنگوں اور عدم استحکام کے اس بھاری بوجھ کی طرف توجہ دلائی، جو اْن لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو جنگوں کو بھڑکاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب آپ زندگی کو فروغ دیتے ہیں، وہ موت بوتے ہیں۔ جب آپ اپنے بھائی کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں، وہ دشمنوں کو کچلنے کی تلاش کرتے ہیں۔ جب آپ مکالمہ کرتے ہیں، وہ یک طرفہ گفتگو کو فروغ دیتے ہیں۔ جب آپ اْمید کے راستے کھولتے ہیں، وہ لوگوں کو خوف کے حصار میں قید کر دیتے ہیں۔ جب آپ مستقبل تعمیر کرتے ہیں، وہ حال کو تباہ کر دیتے ہیں۔
پوپ لیو نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک طرف وسائل ضرورت مندوں کی مدد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف انہیں تباہی اور قتل و غارت پر ضائع کیا جا رہا ہے۔انہوں نے خاص طور پر مشرقی مسیحیوں کی ”دردناک ہجرت“ کا ذکر کیا، جو جنگوں کے باعث اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور کہا کہ اْن کے دْکھ اور المیہ اکثر دنیا کی نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔
پوپ لیو نے کہا یہ ایک ایسی آفت ہے، ایک ایسا ناسور جو جنگ سے جنم لیتا ہے اور خاص طور پر مشرقی کلیسیاؤں کی زندگی کو مسلسل کمزور کر رہا ہے۔ میں اسے ایک ہی لفظ میں بیان کرتا ہوں: عدم استحکام۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی معاشرے اس کے زخموں سے نجات نہیں پاتے، کیونکہ مسلح گروہوں کی موجودگی، کمزور ادارے اور بیرونی طاقتوں کے مفادات لوگوں کی زندگیوں کو مسلسل متاثر کرتے رہتے ہیں۔ایسا نظام آزادانہ طور پر کام نہیں کرتا بلکہ خفیہ معاہدوں، دھوکے بازی اور گروہی مفادات کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عدم استحکام کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جنم لیتا ہے، جو ترقی کے مواقع کو دبا دیتا اور سب سے زیادہ نقصان غریبوں کو پہنچاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کے باعث عام خاندان اور نوجوان غیر یقینی روزگار اور معاشی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر پوپ لیو چہاردہم نے سب سے اپیل کی کہ وہ جنگ اور عدم استحکام کے دور رس نتائج پر غور کریں، کیونکہ تشدد اکثر انہی لوگوں کے خلاف پلٹ جاتا ہے جو اسے جنم دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئیں ہم سلامتی کے خداوند یسوع سے دْعا کریں اور انسانوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کی التجا کریں، تاکہ انسانیت کے احترام اور حقیقی تہذیب و شائستگی کا احساس دوبارہ زندہ ہو۔