چرچ میں افراد کی تعداد سے زیادہ احساسِ وابستگی اہم ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 13جنوری 2026کوپاپائے اعظم لیو چہار دہم نے اطالوی جریدے ”پیاتزا سان پیئترو“ کے جنوری ایڈیشن میں سوئٹزرلینڈ کے چھوٹے سے قصبے لاؤفن برگ کے ایک کیٹی کیسٹ نونزیا کے خط کا جواب دیا۔انہوں نے اپنے خط میں بتایا کہ اْس قصبہ میں آبادی تقریباً 620 افراد پر مشتمل ہے اور وہاں والدین، بچوں اور نوجوانوں کو چرچ کے قریب اور خدا کی طرف لانا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
 نونزیا نے لکھا:”میں ایمان کا بیج بوتاہوں،مگر ننھے پودے مشکل سے اْگتے ہیں۔ بچے اور خاندان کھیلوں اور تقریبات کو ترجیح دیتے ہیں“۔
نونزیا کے مطابق بہت سے خاندان مذہبی زندگی سے بے پروا ہو چکے ہیں اور چرچ دن بہ دن خالی یا صرف بزرگوں تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پوپ لیوسے درخواست کی کہ وہ ان نوجوانوں کے لیے دْعا کریں جو اْن کے سپرد ہیں اور اْن کے لیے بھی تاکہ وہ حوصلہ نہ ہاریں۔
پوپ لیو نے مبشرانجیل نونزیا کے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال صرف سوئٹزرلینڈ تک محدود نہیں بلکہ اْن تمام ممالک میں پائی جاتی ہے جہاں مسیحی روایات قدیم ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ چرچ میں حاضری کے اعداد و شمار سے آگے دیکھنا ضروری ہے۔ 
پوپ لیو نے فرمایا:”مذہبی تعلیم کے لیے دیے گئے گھنٹے کبھی ضائع نہیں ہوتے، چاہے شریک افراد بہت کم ہوں“۔
انہوں نے ایک اہم کلیسیائی چیلنج کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ اصل مسئلہ تعداد نہیں، بلکہ یہ احساس کمزور ہو جانا ہے کہ ہم چرچ کا حصہ ہیں، یعنی مسیح کے جسم کے زندہ اعضا ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کو منفرد نعمتیں اور ذمہ داریاں ملی ہیں، نہ کہ صرف مقدس رسومات کے عادی مومنین۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام مسیحیوں کو مسلسل تبدیلی اور روحانی تجدید کی ضرورت ہے اور یہ راستہ ہمیں مل کر اختیار کرنا ہوگا۔ پوپ لیوکے مطابق ایمان کا حقیقی دروازہ ”مسیح کا دل ہے، جو ہمیشہ کھلا رہتا ہے“۔
آخر میں پوپ لیو نے پوپ پال ششم کی وراثت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہم جو کچھ کر سکتے ہیں، وہ مسیح کی خوشخبری، نئی زندگی اور قیامت کی خوشی سے گواہی دینا ہے۔