یسوع کی تبدیلیِ صورت عید ِ قیامت کی روشنی کی پیشگی جھلک ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
یکم مارچ 2026کوویٹیکن میں پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے یسوع مسیح کی تبدیلیِ صورت کے بھید پر غور کرتے ہوئے کہا کہ مسیح نجات دہندہ تاریخ کے زخموں کو جلال میں بدل دیتا اور خدا کی نجات کے عطیہ کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یسوع کی تبدیلی ِ صورت عیدِ قیامت کی روشنی کی پیشگی جھلک ہے: موت اور قیامت کا واقعہ، تاریکی اور اُس نئی روشنی کا اظہار ہے جو مسیح اُن تمام جسموں پر بکھیرتا ہے جو تشدد سے کوڑے کھا چکے ہیں، درد سے مصلوب کیے گئے ہیں یا محرومی میں چھوڑ دیے گئے ہیں۔
اگرچہ یسوع کے ساتھ موجود شاگردوں نے اُس کا جلال دیکھا، لیکن جو کچھ انہوں نے دیکھا اْسے سمجھنے میں انہیں وقت لگا۔اپنی خطاب میں پوپ لیو نے یاد دلایا کہ شاگردوں نے یسوع کو، جو مجسم کلام ہے، شریعت اور انبیاء کے درمیان کھڑا دیکھا، جن کی نمائندگی موسیٰ اور الیاس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا جیسے دریائے اْردن میں اُس کے بپتسمہ کے دن ہوا تھا،ہم باپ کی آواز سنتے ہیں جو اعلان کرتی ہے:یہ میرا پیارا بیٹا ہے جبکہ ْروح القدس ایک روشن بادل کی صورت میں یسوع کو ڈھانپ لیتی ہے۔
خدا کے”انسانی جلال“کا یہ ظہور پطرس، یعقوب اور یوحنا کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ ”ایک فروتن جلال“کا تجربہ کریں، جو ہجوم کے سامنے تماشے کے طور پر ظاہر نہیں کیا جاتا بلکہ پُروقار قربت میں آشکار ہوتا ہے۔
یسوع کے جسم کی تجلی، جو دنیا کی بدی کے باوجودخدا کے جلال سے چمکتی ہے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ نجات دہندہ تاریخ کے زخموں کو بدل دیتا ہے، ہمارے ذہنوں اور دلوں کو منور کرتا ہے؛ اُس کا ظہور نجات کا تحفہ ہے۔
پوپ لیو نے سوال کیا کہ کیا یہ ہمیں مسحور کرتا ہے؟ کیا ہم خدا کے حقیقی چہرے کو حیرت اور محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؟اپنے پیغام کے اختتام پر پوپ لیو نے کہا کہ ْروح القدس، ہمیشہ کی زندگی اور فضل کی رفاقت پیش کر کے ہمیں ہمارے کمزور ایمان کے جواب میں آئندہ قیامت کا وعدہ سنایا جاتا ہے۔