پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے اپنی پاپائیت کے پہلے سال کے دوران امن کی 400 سے زیادہ اپیلیں کیں۔

پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے اپنی پاپائیت کے پہلے سال میں سیکڑوں بار مفاہمت کی اپیل کی ہے جو ”غیر مسلح اور غیر مسلح“ ہے اور ”جنگ کے سرداروں“ پر زور دیا ہے کہ وہ ”خود سے بڑی دْھن“ سنیں۔
8 مئی 2025 کی شام، اپنے دورِ پاپائیت کے آغاز پر، پوپ لیو چہاردہم نے امن کے بارے میں اپنے وژن کو ان الفاظ میں بیان کیا:”غیر مسلح اور دلوں کو نرم کرنے والا۔“انہوں نے وضاحت کی کہ یہ صرف ہتھیاروں کی خاموشی نہیں جو کسی جنگ بندی کے نتیجے میں پیدا ہو۔ کرسمس کے دن اپنے پیغام میں انہوں نے بین الاقوامی سیاست کے اُن کمزور معاہدوں سے خود کو واضح طور پر الگ کیا جو بظاہر امن تو دیتے ہیں مگر دلوں میں حقیقی میل ملاپ پیدا نہیں کرتے۔
ایسے معاہدے اکثر مفاہمت کی ہر اپیل کو کمزور بنا دیتے ہیں، گویا لوگوں سے ردِعمل، مزاحمت اور جواب دینے کی قوت ہی چھین لی جائے۔ یہی وہ”گہری تھکن“ہے جو دلوں میں اْتر کر الفاظ کے معنی ختم کر دیتی ہے۔
25 دسمبر کو”اُوربی ایٹ اوربی“برکت کے دوران، پوپ لیو نے شاعر یہودا امیچائی کے تصور کردہ”جنگلی امن“کی بات کی: ایسا میل ملاپ جو اچانک اُگ آئے، بالکل اُن جنگلی پھولوں کی طرح جو ضدی معصومیت کے ساتھ کنکریٹ کی دراڑوں میں بھی کھل اْٹھتے ہیں۔ پوپ لیو نے دْعا کی:”یہ امن ضرور آئے، کیونکہ دنیا کو اس کی ضرورت ہے۔“اپنے دورِ پاپائیت کے پہلے سال میں بشپ آف روم کی تقاریر میں ”امن“کا لفظ 400 سے زیادہ مرتبہ استعمال ہوا۔انہوں نے یہ پیغام مختلف مواقع پر دیا، ابتدا صحافیوں سے ملاقات سے ہوئی، جو پوپ لیو کی پہلی ملاقات میں پال ششم ہال میں موجود تھے۔
پوپ لیو نے صحافیوں سے کہا:”آپ جنگوں کی حقیقت بیان کرنے اور اْن کے اندر پوشیدہ مفاہمت کی خواہش کو سامنے لانے میں صفِ اوّل پر ہیں۔“
انہوں نے ایسی صحافت کی حوصلہ افزائی کی جو ہمیں ”برجِ بابل“جیسی اْلجھن، نفرت بھری زبان اور نظریاتی تقسیم سے باہر نکال سکے۔کیونکہ امن جھنڈوں کے نیچے نہیں پلتا، اور نہ ہی امن سادہ لوحی کا نام ہے۔ اسی لیے”جنگ کے سرداروں“کا یہ دکھاوا بے معنی ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ تباہی چند لمحوں میں آ سکتی ہے، مگر تعمیرِ نو کے لیے کبھی پوری زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے۔پوپ لیو نے مشرقی کلیسیاؤں کی امدادی ایجنسیوں (ROACO) کے اجلاس میں کہا:”لوگ اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ کتنی دولت موت کے سوداگروں کی جیبوں میں جا رہی ہے۔“انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ وہ پیسہ جو ہسپتالوں اور اسکولوں کی تعمیر پر خرچ ہونا چاہیے، انہی اداروں کو تباہ کرنے میں استعمال ہو رہا ہے۔
ویٹیکن سے لے کر افریقہ کے شہر بامینڈا، کیمرون تک، پوپ لیو کا پیغام مفاہمت اور اتحاد کا پیغام رہا۔انہوں نے امن کو اُن محلوں سے بلند قرار دیا جہاں ”جنگ کے سردار“موت کے فیصلے کرتے ہیں اور اْسے اُن بے بس لوگوں کے قریب لایا جو صرف”مایوسی، آنسوؤں اور مصیبت“پر زندہ ہیں۔
FAO (اقوامِ متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت) میں خطاب کرتے ہوئے پوپ  لیونے جنگ کے ایک خوفناک نتیجے یعنی بھوک کی طرف توجہ دلائی۔انہوں نے یاد دلایا کہ خدا کی حقیقی قدرت خدمت میں ظاہر ہوتی ہے، جیسا کہ پاک جمعرات کی عبادت کے دوران گھٹنوں کے بل جھکنے والی تصویر میں دیکھا جاتا ہے۔
پاک ہفتہ پوپ لیو کے امن کے پیغامات کا ایک اہم مرحلہ تھا۔کھجوروں کے اتوار کی صبح انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص خدا کے نام پر جنگ کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔”خدا اُن لوگوں کی دْعا نہیں سنتا جو جنگ کرتے ہیں، کیونکہ ان کے ہاتھ خون سے بھرے ہوتے ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ آج انسان زندہ خدا سے منہ موڑ کر طاقت اور خود پرستی کے بے جان، اندھے اور بہرے بتوں کی عبادت کر رہا ہے۔مزید واضح کیا کہ آج کی جنگوں کے پیچھے صرف اقتدار کی ہوس نہیں بلکہ دولت کی پیاس بھی شامل ہے، جیسا کہ انہوں نے موناکو کے سفر کے دوران بیان کیا۔
پاک ہفتہ کے دوران امن کے لیے کی جانے والی دْعاؤں کے باوجود، پوپ لیو نے امن کو صرف بوجھ یا درد کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے ایک ہلکے، خوبصورت اور رقص جیسے تجربے سے تعبیر کیا۔لبنان میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک اندرونی حرکت ہے جو انسان کو اپنے سے بڑی ایک دھن کے ساتھ بہنے دیتی ہے، یعنی خدا کی محبت کی دھن کے ساتھ۔ایک ایسا ملک جو جنگ کے درد کو گہرائی سے محسوس کرتا ہے، اس کے لیے یہ الفاظ اْمید کا پیغام تھے۔پوپ لیو کے پیغامات صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی تھے۔ انہوں نے اسلحہ کی دوڑ کو جنگ کا بنیادی سبب قرار دیا۔
2024 میں عالمی فوجی اخراجات 9.4 فیصد بڑھ کر 2.718 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے، جو عالمی GDP کا تقریباً 2.5 فیصد بنتے ہیں۔اکتوبر 2025 میں امن کے لیے منعقدہ دْعائیہ اجتماع کے دوران پوپ لیو نے طاقتور ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:”اپنی تلواریں نیچے رکھ دو!“انہوں نے دنیا کو”غیر مسلح ہونے کی جرات“اختیار کرنے کی دعوت دی۔آج اگرچہ تلواروں کی جگہ ڈرونز نے لے لی ہے اور جنگ ایک ویڈیو گیم جیسی محسوس ہونے لگی ہے مگر پوپ لیو نے خبردار کیا کہ جنگ اب بھی ایک خوفناک حقیقت ہے جس کی عادت نہیں ڈالنی چاہیے۔پوپ لیو نے کھیل کو بھی امن اور اتحاد کا ذریعہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ کھیل  انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ چاہے کوئی مقابلہ ہو یا زندگی کی دوڑ ہو،گرِ جانا کبھی بھی اختتام نہیں ہوتا۔
3 ستمبر 2025 کی عام ملاقات میں انہوں نے کہاکہ مسیحی لوگ برائی پر طاقت سے نہیں بلکہ محبت کی کمزوری کو قبول کرکے غالب آتے ہیں۔انہوں نے تعلیم، مطالعہ اور عدم تشدد کی تربیت کو بھی امن کے لیے ضروری قرار دیا، اور اس بات پر زور دیا کہ بیسویں صدی کے لاکھوں متاثرین کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے سوال کیا کہ صدیوں کی تاریخ کے بعد بھی کوئی کیسے یقین کر سکتا ہے کہ جنگ امن لاتی ہے اور اپنے کرنے والوں پر واپس نہیں پلٹتی؟
آخر میں پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے اعتراف کیا کہ انسان سب کچھ بھول سکتا ہے، حتیٰ کہ ”روشنی“بھی۔اور اسی لیے انہوں نے دْعا کی کہ وہ”جنگلی امن“آئے  وہ ضدی پھول جو کنکریٹ کے بیچ بھی اپنی خوبصورتی کے ساتھ کھل اْٹھتا ہے۔