دوسروں کے درد کو اپنا کر محبت کریں۔پاپائے اعظم لیوچہاردہم
مورخہ 13جنوری 2026کوپوپ لیو چہاردہم نے 34ویں عالمی یومِ مریضاں کے لیے اپنا پیغام جاری کر دیا ہے جس میں انہوں نے مومنین کو دعوت دی ہے کہ وہ نیک سامری (Good Samaritan)کی تمثیل پر غور کریں اور اْس سے سیکھیں کہ ہم بھی کیسے دوسروں کے درد کو اپنا کر محبت ظاہر کر سکتے ہیں۔
پوپ لیو کے پیغام کا عنوان:نیک سامری کی شفقت: دوسرے کے درد کو اپنا کر محبت کرناہے۔ عالمی یومِ مریضان 11 فروری 2026ء کو منایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یوم ِ مریضاں پیرومیں خصوصی طور پر منایا جائے گا اور اسی مناسبت سے نیک سامری کی مثال ہمیں محبت، خیرات اور سماجی شفقت کی خوبصورتی دوبارہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور ہمیں ضرورت مندوں، خاص طور پر بیماروں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
پوپ لیو نے وضاحت کی کہ انجیلِ مقدس کے مطابق یسوع مسیح نے سوال ہمارا ہمسایہ کون ہے؟ کے جواب میں نیک سامری کی مثال سنائی:
ایک شخص یروشلم سے یریحو جا رہا تھا کہ ڈاکوؤں نے اسے لوٹ کر زخمی حالت میں چھوڑ دیا۔ ایک کاہن اور ایک لاوی وہاں سے گزر گئے مگر نہ رکے، جبکہ ایک سامری نے ترس کھایا، زخم باندھے، اسے سرائے میں لے جا کر اس کی دیکھ بھال کا انتظام کیا۔
پوپ لیو چہاردہم نے کہا کہ وہ اس واقعہ پر مرحوم پوپ فرانسس کے 2020ء کے انسائیکلیکل Fratelli Tutti کی روشنی میں غور کرنا چاہتے ہیں، جس میں انسانی بھائی چارے اور سماجی دوستی کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
پوپ نے بتایا کہ ہمدردی اور رحم صرف ایک فرد کی کوشش نہیں رہتے، بلکہ یہ تعلقات کے ذریعے حقیقت بنتے ہیں:ضرورت مند بھائی بہنوں کے ساتھ، اْن کی خدمت کرنے والوں کے ساتھ اور آخر میں خداکے ساتھ جو اپنی محبت ہمیں عطا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیک سامری نے زخمی شخص کو دیکھ کرنظراندازنہیں کیا بلکہ کھلی اور توجہ بھری نگاہ سے دیکھایہی یسوع کی نگاہ ہے جس نے اْسے ایسا کرنے پر آمادہ کیا۔انہوں نے زور دیا کہ محبت غیر فعال نہیں ہوتی بلکہ وہ دوسرے کی طرف بڑھتی ہے۔ ہمسایہ ہونا صرف جسمانی یا سماجی قربت سے طے نہیں ہوتا بلکہ یہ محبت کرنے کے فیصلے سے بنتا ہے۔ اسی لیے مسیحی لوگ دْکھ اْٹھانے والوں کے قریب جاتے ہیں، کیونکہ مسیح خود وہ حقیقی الٰہی سامری ہے جس نے زخمی انسانیت کے قریب آ کر نجات عطا کی۔
پوپ لیو نے کہا کہ ہم ایک ایسے دور میں رہتے ہیں جہاں رفتار، جلدی اور بے حسی کی ثقافت انسان کو رکنے نہیں دیتی اور لوگ دوسروں کی تکلیف پر توجہ نہیں دے پاتے۔ لیکن پوپ کے مطابق، اسی ماحول میں دوسروں کی مدد کر کے حقیقی خوشی دریافت کی جا سکتی ہے۔انہوں نے ہمدردی کو ایک گہرا جذبہ قرار دیا جو انسان کے اندر سے اْٹھتا ہے اور اسے عملی جواب دینے پر مجبور کرتا ہے۔
پوپ لیونے پیرو میں ہو نے والے اپنے مشنری تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا جو نیک سامری اور سرائے والے کی روح کے ساتھ رحم و شفقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔یہ خاندان کے افراد، پڑوسی، طبی عملہ، بیماروں کی خدمت کرنے والے کاہن اور دیگر لوگ ہو سکتے ہیں۔
پوپ لیوکے مطابق، جب لوگ اپنی حثییت کے مطابق دوسروں کو سہارا دیتے ہیں تو ہمدردی صرف انفرادی عمل نہیں رہتی بلکہ سماجی اور اجتماعی شکل اختیار کر لیتی ہے۔پوپ لیو چہاردہم نے بتایا کہ اپنی حالیہ اپاسٹولک نصیحت (Apostolic Exhortation)Dilexi Te میں انہوں نے بیماروں کی دیکھ بھال کو نہ صرف کلیسیا کے مشن کا اہم حصہ کہا بلکہ اسے ایک حقیقی کلیسیائی عمل (ecclesial action) قرار دیا۔
انہوں نے مقدس سِپریان (Saint Cyprian)کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی صحت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے کمزور اور بیمار افراد کے ساتھ کیا رویہ رکھتا ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ ایک میں ایک ہونااس حقیقت کو پہچاننا ہے کہ ہم سب ایک ہی بدن کے اعضا ہیں اور ہر شخص اپنی خدمت اور بلائے گئے کردار کے مطابق خداکی شفقت کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پڑوسی سے محبت، درحقیقت خدا سے محبت کی حقیقی گواہی ہے کیونکہ پڑوسی کی خدمت اعمال کے ذریعے خدا سے محبت کرنے کے مترادف ہے۔پوپ لیونے پوپ بیناڈکٹ دہم کا بھی حوالہ دیا کہ انسان کی پہچان اس کے تعلقات سے ہوتی ہے، اور انسان اپنی قدر تنہائی سے نہیں بلکہ دوسروں اور خدا کے ساتھ تعلق کے
ذریعے پاتا ہے۔پوپ لیو نے اُمید ظاہر کی کہ مسیحی طرزِ زندگی ہمیشہ بھائی چارے اور نیک سامری کے جذبے کی عکاسی کرے گا۔
آخر میں پوپ لیو چہاردہم نے تمام بیماروں، اْن کے خاندانوں، اْن کی خدمت کرنے والوں، طبی عملے اور خدمت گزاروں کو اپنی پاپائی برکت عطا فرمائی اور خاص طور پر اْن سب کو جو عالمی یومِ مریضان کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔