سلائی مشین
1755ء میں ایک جرمن Charles Weisenthal نے درزیوں کی سہولت کے لئے دہری نوکدار سوئی تیار کی تھی۔ لیکن سلائی مشین کی ترقی میں پہلا واقعہ اس وقت رونما ہوا جب انگلستان کے تھامس سینٹ نے 1790ء میں ایک مشین ایجاد کی جو کپڑے پر بخیہ لگانے کے علاوہ ٹانکا بھی لگا سکتی تھی۔ اس میں موجودہ دور کی سلائی مشین والی کچھ خصوصیات بھی موجود تھیں۔ 1830ء میں فرانس کے ایک غریب درزی Barthelemy Thimonier نے پہلی باقاعدہ مشین ایجاد کی جو صحیح معنوں میں سلائی کا کام کرتی تھی۔تھمونیئر فرانسیسی صوبہ Loire کے ایک صنعتی قصبہ سینٹ ایٹائن (St. Eteinne) میں کام کرتا تھا۔ اس کی سلائی مشین کی بنیادی خوبی اس کی سوئی کا نوک سے اوپر کی جانب خمدار ہونا تھی۔ یہ سوئی ایک پیڈل سے حرکت کرتی تھی جو پاوں کی حرکت سے کام کرتا تھا۔ سوئی کی ہر بار اوپر نیچے حرکت سے مشین ایک ٹانکا لگاتی تھی۔اسی مشین کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے بعد میں سلائی مشینیں بنائی گئیں۔ تھمونیئر نے پیرس جاکر وہاں کے Sevres نامی کوچے میں اپنی ایک ورکشاپ بنالی۔
اس کا یہ کاروبار چمک اٹھا اور جلد ہی اس کی ورکشاپ میں بیس کاریگر کام کرنے لگے۔ پیرس کے درزیوں نے پہلے تو تھمونیئر کی ایجاد کو ایک مذاق سمجھا لیکن جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ سلائی مشین ان کی روزی کے لئے واقعی ایک خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک دن یہ لوگ طیش میں اُس کی ورکشاپ پر حملہ آور ہوئے۔ تھمونیئر کی ورکشاپ میں اسّی مشینوں پر فوجی کپڑوں کی سلائی کا کام جاری دیکھ کر مخالفین نے ورکشاپ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور تھمونیئر کو بری طرح زخمی کر دیا۔تھمونیئر کا کاروبار تباہ ہوگیا اور وہ اپنی ایک مشین بغل میں دباکر پیرس کی گلیوں میں کسی درزی کے پاس نوکری ڈھونڈنے پر مجبور ہوگیا۔ لیکن جب کسی نے بھی اُس سے تعلق نہ رکھا تو وہ مجبوراً اپنے آبائی قصبہ چلاگیا۔ وہاں اُس نے مزید تحقیق کی اور جلد ہی ایسی مشین تیار کی جو ایک منٹ میں 300 بخئے لگا سکتی تھی۔ اس امید پر کہ انگریز کارخانہ دار اس کی اس ایجاد میں دلچسپی لیں گے، تھمونیئر نے انگلستان میں اپنی ایجاد کے حقوق فروخت کر دئیے۔ اس نے اپنی زندگی کے آخری ایام فرانس میں انتہائی غربت کی حالت میں گزارے۔ تھمونیئر کا انتقال 1857ء میں ہوا۔
اُسی زمانہ میں دو امریکی بھی سلائی مشین کی ایجاد کی کوششوں میں مصروف تھے۔ ایک نیو یارک کا Walter Hunt جس نے سیفٹی پن بھی ایجاد کی تھی۔ دوسرا Elias Howe جو میسا چیوسٹس کا رہنے والا تھا۔ ہنٹ کی مشین میں تھمونیئر والی مشین کی طرح ایک خمیدہ سوئی اوپر نیچے حرکت کرتی تھی لیکن اس نے نوک کے قریب سوئی میں سوراخ بھی بنایا ہوا تھا اور ایک شٹل بھی تھا جس کے نتیجہ میں ایک ایسا ٹانکہ لگتا تھا جو بہت مضبوط ہوتا تھا۔ ایلس ہوے نے ابتدا ء میں جو سلائی مشین بنائی تھی اس مشین میں دھاگے کی سوئی کا چھید سوئی کی جڑ میں ہوتا تھا بالکل ایسے ہی جیسے ہم روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی ہاتھ کی سوئی میں دیکھتے ہیں۔الیس نے بھی جب سلائی مشین بنانے کا کام شروع کیا تو ہزاروں سال سے رائج اسی طرز کو اپنایا اور اپنی مشین میں بھی چھید سوئی کی جڑ میں ہی بنایا مگر اس چھید کے جڑ میں ہونے کی وجہ سے مشین ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتی تھی اور مشین پر صرف جوتے سینے کا کام ہو پاتا تھا مگر کپڑے سینے کے لیے مشین نا مناسب تھی۔
ایلس ایک عرصے تک اس بات پر غورو غوص کرتا رہا کہ آخر اس مشکل کا کیسے تدارک کیا جائے۔ بالا آخر قسمت مہربان ہوئی اور الیس نے ایک خواب دیکھا جس نے اس کو درپیش مشکل کا تدارک کر دیا۔ خواب میں اس نے دیکھا کہ وہ ایک وحشی قبیلے کے ہاتھوں پکڑا گیا ہے اور الیس کو حکم دیا جا تا ہے کہ 24 گھنٹوں کے اندر سلائی مشین تیار کر کے دے ورنہ اس کو مار دیا جائے گا۔ الیس نے مشین مقرر کیے ہوئے وقت میں تیار کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر وہ مشین بنانے میں ناکام رہا۔ مدت پوری ہونے پر قبیلے کے لوگ الیس کو مارنے کے لیے ہاتھوں میں برچھے اُٹھائے دوڑ پڑے۔ ہووے نے جب برچھوں کو غور سے دیکھا تو ہر برچھے کی نوک پر ایک چھید نظر آیا یہ دیکھتے ہی الیس کی آنکھ کھل گئی اور وہ خواب سے باہر نکل آیا۔
ایلس کے اس خواب نے مشین کی تیار ی میں حائل مشکل دور کر دی اور اس نے برچھوں کی طرح دھاگے کی سوئی میں نچلی جانب چھید بنایا اور اب نتیجہ مختلف تھا۔وہی مشین جو چھید اوپر ہونیکی وجہ سے ٹھیک سے کام نہیں کر پا رہی تھی اب چھید نیچے ہونے کی وجہ سے ٹھیک سے کام کرنے لگی۔ ہووئے کے لاشعور نے اس کے ذہن کو تصویر کا دوسرا رخ دکھایا جسے و ہ سمجھ گیا اور اسے اپنے سوالوں کا جواب مل گیا۔
ایلس ہاو ے نے بھی اپنے تجربات کی مدد سے ہنٹ کی طرح ہی مشین ایجاد کی، تاہم یہ اُس سے بہتر بھی تھی۔ 1846ء میں وہ اپنی ایجاد کے حقوق محفوظ کروانے کے بعد لندن چلا گیا اور اس نے برطانوی حقوق ولیم تھامس نامی ایک شخص کے ہاتھ فروخت کردئیے۔ ولسن کی مشین سادہ لیکن زیادہ عملی نوعیت کی تھی۔ اسی طرح Isaac Merritt Singer نے ایک ایسی مشین کے حقوق محفوظ کروائے تھے جو بنیادی طور پر ہاو? کی مشین جیسی تھی لیکن اس سے زیادہ عملی اور عمدہ خصوصیات کی حامل تھی۔ 1851ء کے سلائی مشین کے امریکی موجدوں میں Seymour اور William Grover کے نام بھی آتے ہیں جنہوں نے دہرا زنجیری ٹانکا اختراع کیا تھا۔
اب ہاوے نے دوسری مشینوں کو ترقی دینے کی کوششیں شروع کردیں۔ 1854ء میں بوسٹن کی عدالت میں ہاو ے کا اپنے حریفوں کے ساتھ ایک تنازعہ چل نکلا۔ دعویٰ یہ تھا کہ اگرچہ سنگر نے ہاوے کے نظریہ کو مدنظر رکھ کر اپنی مشین ایجاد کی تھی لیکن ہاوے کی مشین بیک وقت صرف چند انچ تک مسلسل بخیہ لگا سکتی تھی لیکن سنگر کی مشین مسلسل بخئے لگاتی تھی اور مارکیٹ میں اُسی کی مشین کو پسند کیا جاتا تھا۔
یہ درحقیقت سلائی مشین سازوں اور موجدوں کے مابین ایک تلخ اور متشدد کشمکش تھی جو امریکی عدالتوں اور پریس میں جاری رہی۔ آخرکار تمام فریقوں کے مابین ایک معاہدہ طے پاگیا۔یہ معاہدہ ”سلائی مشین کارپوریشن“ کے قیام سے ممکن ہوا جس میں ہر مشین کی فروخت میں سے رائیلٹی پانچ موجدوں کو دی جانی تھی۔ لیکن ہاوے کو اس بات کی خبر نہ تھی کیونکہ وہ 1867ء میں پیرس میں انتقال کر چکا تھا۔ انتقال سے قبل اسی سال اسے لجن آف آنر کا تمغہ بھی دیا گیا۔
سلائی مشین یقینا ایک ایسی مشین تھی جو ہر گھر میں استعمال ہوسکتی تھی۔ اسی وجہ سے یہ مشین گھریلو استعمال کی پہلی شے تھی جو قسط وار خریداری کے نظام کے تحت بڑی تعداد میں فروخت کی گئی۔ آج دنیا 2000 سے زائد اقسام کی سلائی مشینیں استعمال کی جاتی ہیں۔
Daily Program
